Al-Risala · August 2017

خلاصہ کلام

Al-Risala, August 2017, pp. 39–40

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم دور شرک کا بگاڑ یہ تھا کہ وہ خدا اور بندے کے درمیان تعلق کو صحیح بنیاد پر قائم کرنے میں مانع بن گیا۔ انسان کو یہ کرنا تھا کہ وہ اپنی سوچ کو اور محبت اور خوف کے جذبات کو مکمل طور پر خدا سے اسی کا نام توحید ہے اور اسی توحید سے انسان کے اندر تمام اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن مشرکانہ کلچر نے خدا کے شرکا (partners) قرار دے کر انسان کو اس کے مرکزِ اصلی سے ہٹا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انسان اپنے مطلوب ارتقا سے محروم ہو کر رہ گیا۔

انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے، ایک مرکزِ وابستگی چاہتا ہے۔ انسان کی اس فطری طلب کا مرجع صرف ایک ہے، اور وہ اس کا خالق ہے۔ بندے کا خالق سے تعلق قائم ہونا ایسا ہی ہے جیسے بجلی

کے بلب کا پاور ہاؤس سے تعلق قائم ہونا۔ شرک کی برائی یہ تھی کہ اس نے انسان کی اس طلب کے لیے اس کو ایک غیر واقعی بدل (false substitute) دے دیا۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ انسان کو اس کی فطری طلب کا مرکز نہیں ملا اور نتیجہ انسان اپنی شخصیت کے اُس ارتقا سے محروم ہو گیا جو اس کے لیے پیدائشی طور پر مقدر تھا۔

جدید الحاد کے دور میں دوبارہ انسان ایک اور اعتبار سے اسی محرومی کا شکار ہو گیا۔ بتایا گیا ہے کہ انسان کو علم قلیل دیا گیا ہے (الاسراء: 85)۔ انسان کے لیے آزادی بہت اچھی چیز ہے، لیکن انسان اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے کامل آزادی کا تحمل نہیں کر سکتا۔ لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ وہ اپنی اِس محدودیت (limitation) کو جانے اور مقید آزادی (guided freedom) پر راضی ہو جائے۔ جدید الحاد نے آزادی کو خیر مطلق (summum bonum) قرار دے کر انسان کو اس کی فطرت کے راستے سے ہٹا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر ہر قسم کی ترقیوں کے باوجود انسان اُس اہم ترین چیز سے محروم ہو گیا جس کو ذہنی سکون (peace of mind) کہا جاتا ہے۔

سائنس کے میدان میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کی وجہ اگر مختصر طور پر بتانی ہو تو وہ صرف ایک ہوگی: مسلمانوں میں سائنسی شعور نہ ہونا۔ ہندوستان کا زمین دار طبقہ جدید تجارت میں پیچھے کیوں ہو گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اندر تجارتی شعور موجود نہ تھا۔ یہی واقعہ سائنس کے سلسلہ میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا۔ ایک یا ایک سے زیادہ اسباب کی بنا پر مسلمانوں کے اندر جدید دور میں سائنسی شعور پیدا نہ ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے سائنس کی تعلیم کی طرف توجہ نہ دی اور اگر توجہ دی بھی تو ادھوری شکل میں۔

Printed page