Al-Risala · August 2017

تسخیر کائنات

Al-Risala, August 2017, pp. 48–51

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کے لیے اللہ کی ایک نعمت وہ ہے جس کو تسخیر کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی دو آیتیں یہ ہیں: اَللّٰهُ الَّذِيْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيْهِ بِاَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ، وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيْعًا مِنْهُ ۖ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (13-45) یعنی اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے سمندر کو مسخر کر دیا، تا کہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تا کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تا کہ تم شکر کرو۔ نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمھارے لیے مسخر کر دیا، سب کو اپنی طرف سے۔ اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔

تسخیر کا مطلب ہے کسی چیز کو بزور قابل استعمال یا قابل انتفاع بنانا۔ اللہ جو پوری کائنات کا خالق ہے، اس نے کائنات کے ہر جزء کو قوانینِ فطرت (laws of nature) کا پابند بنا رکھا ہے۔ اس بنا پر یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان مخلوقات کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرے ۔ خدائی قوانین کے ذریعے کائنات اگر اس طرح مسخر نہ ہوتی تو انسان کے لیے اس کو استعمال کرنا ناممکن ہو جاتا۔ اس کی ایک مثال سمندر کی ہے۔ سمندروں کی شکل میں پانی کے جو قدرتی ذخائر ہیں، وہ زمین کے تقریباً تہائی حصہ (71 %) پر پھیلے ہوئے ہیں۔ زمین ایک گول کرہ ہے جو مسلسل طور پر گردش کر رہا ہے۔ جدید سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایک زبردست قانونِ فطرت پانی کے ان ذخائر کو زمین پر قائم کیے ہوئے ہے۔

ایک طرف زمین کی غیر معمولی کششِ زمین کے ذخائر کو اپنی طرف کھینچے ہوئے ہے، اور دوسری طرف سمندر کے اوپر ہوا کا تقریباً پانچ میل موٹا غلاف ہے جو سمندر کے اوپر دباؤ بنائے ہوئے ہے۔ ان دو طرفہ اسباب کی بنا پر ایسا ہے کہ سمندروں کی گہرائی میں پانی مسلسل طور پر موجود ہے، ورنہ پورا ذخیرۂ آب اُڑ کر فضا میں تحلیل ہو جاتا۔

یہی معاملہ سمندر میں چلنے والی کشتیوں کا ہے۔ یہاں بھی خدا کا مقرر کیا ہوا ایک قانون فطرت کام کر رہا ہے۔ یہ ایک آبی قانون ہے جس کو آج کل کی زبان میں ہائیڈروسٹیٹکس (hydrostatics) کہا جاتا ہے جس کا ایک شعبہ بائنسي (buoyancy) ہے۔ بائنسي(buoyancy) سے مراد پانی کا یہ انوکھا قانون ہے کہ جب کوئی چیز پانی میں ڈالی جاتی ہے تو وہ پانی کے اندر جتنی جگہ گھیرتی ہے، اُسی کے بقدر وہاں آپ ورڈ پریشر پیدا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں کشتی پانی کی سطح پر تیرنے لگتی ہے :

Buoyancy: The upward pressure by any fluid on a body partly or wholly immersed therein: it is equal to the weight of the fluid displaced. تسخیر کا دوسرا واقعہ وہ ہے جس کا تعلق بالائی خلا سے ہے۔ زمین کے اوپر جو وسیع خلا ہے، وہ بہت بڑے بڑے نہایت گرم ستاروں سے بھرا ہوا ہے، اس لیے اس کو ستاروں کی دنیا (starry universe) کہا جاتا ہے۔ یہ تمام ستارے ہماری زمین سے ایک مقرر دوری پر واقع یہ مقرر دوری اگر قائم نہ رہے تو ہماری پوری زمین جل کر راکھ ہو جائے۔ زمین کی سطح سے رات کے وقت جب کھلے آسمان کو دیکھا جائے تو اوپر کی فضا میں بہت سے چھوٹے چھوٹے ستارے نظر آتے ہیں۔ یہ ستارے بہت بڑے بڑے ستارے ہیں، لیکن دوری کی وجہ سے وہ چھوٹے نظر آتے ہیں۔ آنکھ سے دیکھنے میں تقریباً دس ہزار ستارے دکھائی دیتے ہیں۔ ستارے وہ ہیں جو ہماری قریبی کہکشاں (Milky Way) سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، وسیع خلا میں بے شمار بڑے بڑے ستارے ہیں جو مسلسل حرکت کر رہے ایک سو بلین سے زیادہ کہکشائیں (galaxies) ہیں اور ہر کہکشاں میں تقریباً ایک سو بلین ستارے پائے جاتے ہیں۔

اس وسیع عالم نجوم کو انسان اپنی فطری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری دنیا میں ایسے مادی اسباب رکھ دئے جن کو انسان دریافت کرے اور ان کو ترقی دے کر طاقت ور

دوربین (telescope) بنائے۔ چناں چہ موجودہ زمانے میں خلائی دوربین کو استعمال کر کے انسان بے شمار ستاروں اور کہکشاؤں کو دیکھتا ہے۔

سمندروں (اور حیوانات) کے معاملے میں تسخیر کا مطلب یہ تھا کہ انسان قانون فطرت کو جانے اور اس کی مدد سے ان چیزوں کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرے۔ عالم نجوم کے معاملے میں تسخیر کا مطلب اُن کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وسیع عالم نجوم کو انسان آلات کی مدد سے دیکھے، وہ ان پر غور و فکر کرے۔ وہ غور و فکر کے ذریعے عالم نجوم کو اعلیٰ معرفت کے حصول کا ذریعہ بنائے۔

سمندروں اور حیوانات کی تسخیر انسان کی خدمت کے لیے ہے۔ اور عالم نجوم کی تسخیر اس لیے ہے کہ ان کے ذریعے سے آدمی خالق کی عظمت کو دریافت کرے۔ وہ اُن میں غور و فکر کر کے اپنے لیے معرفت اعلیٰ کا رزق حاصل کرے۔

قرآن میں کائناتی واقعات کو قرآنی پیغام کے حق میں بطور استدلال پیش کیا گیا ہے۔ گویا قرآن میں جو بات نظری طور پر کہی گئی ہے، کائنات اس کے حق میں واقعاتی دلیل ہے۔ اس اعتبار سے پوری سائنس قرآن کا علم کلام ہے۔ کیونکہ سائنس کسی سائنس داں کے خود ساختہ علم کا نام نہیں بلکہ وہ خدا کی کائنات میں کام کرنے والے قوانین کی تلاش کا نام ہے۔ کا جو حصہ بھی سائنس دریافت کرتی ہے وہ خدا کی کار فرمائیوں کی ایک جھلک ہوتی ہے، وہ خدا کی آیتوں میں سے ایک آیت (نشانی) کا انسانی علم میں آنا ہوتا ہے۔ سائنس داں کے لئے سائنس کا علم برائے علم ہے یا زیادہ سے زیادہ علم برائے تعمیر دنیا۔ مگر مومن کے لئے سائنس ایک علمی ہتھیار ہے جس سے وہ دعوت حق کی جدوجہد میں کام لیتا ہے، جس سے وہ اپنی بات کو مدلل کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ (اسلام پندرھویں صدی میں)

عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر مولانا وحیدالدین خاں کے قلم سے اسلام ایک ابدی حقیقت ہے، لیکن ہر دور میں ضرورت ہوتی ہے کہ اسلامی تعلیمات کو جدید اسلوب میں بیان کیا جائے، تا کہ بدلے ہوئے حالات میں لوگ اسلام کی اہمیت کو دوبارہ دریافت کر سکیں۔ اس مقصد کے لئے مختلف موضوعات پر تیار کردہ ان کتابوں کا مطالعہ کریں، نیز قرآن کے ترجمے اور دعوتی لٹریچر برادرانِ وطن تک پہنچا کر اپنا دعوتی رول ادا کریں۔ مذہب اور جدید چیلنج عقل مند وہ ہے، جو مسائل کو بھلا کر اپنی ساری طاقت مواقع کو استعمال کرنے میں لگائے

Printed page