Al-Risala · September 2017

کے لیے مواد

Al-Risala, September 2017, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کا ہیبیٹاٹ دریا اور سمندر کی صورت میں پیدا کیا ہے۔ مگر اس دنیا میں صرف انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کا ہیبیٹاٹ یہاں موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو اس دنیا میں کبھی فل فلمینٹ (fulfilment) نہیں ملتا۔

اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کو احسن تقویم کے اعتبار سے ، احسن ہیبیٹاٹ درکار ہے۔ موجودہ دنیا کی محدودیتوں (limitations) کی وجہ سے یہاں احسن ہیبیٹاٹ نہیں بن سکتا۔ لیے خالق نے ایسا کیا کہ موجودہ دنیا میں انسان کو بقدر ضرورت مسکن عطا کیا، اور موت کے بعد کی ابدی زندگی میں اس کے لیے اس کی حقیقی طلب کے مطابق، احسن ہیبیٹاٹ کا انتظام کیا۔ ہیبیٹاٹ کا نام جنت (Paradise) ہے۔ یہی مطلب ہے احکم الحاکمین (the best of the یعنی اعلیٰ انصاف کا تقاضا تھا کہ انسان کو اس کی تخلیق کے مطابق ایک احسن ہیبیٹاٹ اس لیے خالق نے انسان کے لیے جنت کو اس کا ہیبیٹاٹ بنایا۔ ایک نابینا شاعر کی نعتیہ نظم ہے۔ اس کا ایک شعر یہ ہے :

بصارت کھوگئی تو کیا بصیرت تو سلامت ہے مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ اس شعر میں عجیب درد اور عجیب گہرائی ہے۔ مگر ایسا شعر صرف ایسا شخص ہی کہہ سکتا تھا، جس نے اپنی دونوں آنکھیں کھودی ہوں۔ جس شخص کی دونوں آنکھیں روشن ہوں اس کی زبان سے ایسا شعر نہیں سکتا۔

اس دنیا کا عجیب نظام ہے ۔ یہاں کھونے والا بھی پاتا ہے ۔ بلکہ اکثر کھونے والا شخص اس سے زیادہ پا لیتا ہے جتنا کوئی بظاہر پانے والا شخص پائے ہوئے ہو۔ ( ڈائری ، 1983 )

Printed page