Al-Risala · January 2017

عہد اسلام

Al-Risala, January 2017, pp. 42–43

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن و حدیث میں اسلام کے مستقبل کے بارے میں ایسی پیشین گوئیاں (predictions) موجود ہیں، جو بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو زمانے آنے والا ہے، وہ اسلام کا زمانہ ہوگا۔ مثلاً ایک روایت یہ ہے: صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ سے شکایت کی، اس وقت آپ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر کو تکیہ بنائے ہوئے لیٹے تھے۔ ہم نے کہا کہ کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد نہیں مانگتے، کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا نہیں کرتے۔ فرمایا، تم سے پہلے جو لوگ تھے، ان کا یہ حال تھا کہ آدمی کو پکڑا جاتا، اس کے لیے زمین میں گڈھا کھودا جاتا، پھر اس کو اس میں ڈال دیا جاتا، پھر آرالا یا جاتا تھا اور اس کے سر پر چلا یا جاتا تھا، اور اس کو دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا، اور (کبھی ایسا ہوتا کہ کسی آدمی کے جسم پر) لوہے کی کنگھی کی جاتی، یہاں تک کہ وہ اس کے گوشت سے بڑھ کر اس کی ہڈی تک پہنچ جاتی تھی۔ مگر یہ چیز اس کو اس کے دین سے روکنے والی نہیں بنتی تھی۔

پھر آپ نے فرمایا: واللہ لیتمن هذا الأمر، حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضرموت، لا يخاف إلا الله، والذئب على غنمه، ولكنكم تستعجلون۔ یعنی خدا کی قسم یہ امر تکمیل تک پہنچے گا، یہاں ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک سفر کرے گا، اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور کا ڈر نہیں ہوگا، اور اپنی بکریوں پر بھیڑیے کا، مگر تم لوگ جلدی کر رہے ہو۔ حدیث نمبر 6943)۔

یہ قول رسول ایک پیشین گوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام سے پہلے کی تاریخ میں جو اہل دین پر ظلم کیا جاتا تھا، وہ اسلام کے بعد کی تاریخ میں اللہ کی مدد سے ختم ہو جائے گا۔ لفظوں میں یہ کہ قبل از اسلام کا دور، اگر مخالف اسلام دور تھا تو بعد از اسلام کا دور، موافق اسلام کا دور ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم یہ مانیں کہ اسلام کے بعد کے زمانے میں یہ دور آیا۔

پیشین گوئی پر تقریباً ڈیڑھ ہزار سال گزر چکے ہیں۔ یقینی ہے کہ یہ دور تاریخ میں آچکا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اہل اسلام اس دور کی آمد سے بے خبر ہیں۔

اس عظیم بے خبری کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب، حدیث کے مطابق یہ ہے کہ بعد کے زمانے کے اکثر لوگوں سے ان کی عقلیں چھن جائیں گی (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3959)۔ پر وہ اس قابل نہ رہیں گے کہ وہ کسی واقعہ کا صحیح تجزیہ کر کے اس کی حقیقت کو دریافت کریں۔ عقل اس صلاحیت کا نام ہے کہ آدمی غیر متعلق کو الگ کر کے متعلق کو جان سکے: Wisdom is the ability to discover the relevant by sorting out the irrelevant. ایک مثال سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ مصر کے سید قطب مزید تعلیم کے لیے امریکا گئے۔ وہاں وہ تین سال رہے۔ انھوں نے امریکا کے بارے ایک کتاب لکھی۔ کتاب کا عربی نام یہ ہے، امریکا التی رایت:

Printed page