اسلامی حکومت
Al-Risala, September 2017, pp. 15–18
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے میں اسلامی حکومت کا تصور قرآن وسنت کی تعلیم کی بنیاد پر نہیں پیدا ہوا۔ وہ اسی چیز کاایک ظاہرہ ہے جس کو قرآن میں مضاہات (التوبہ: 30) کہا گیا ہے۔ یعنی خارجی ماحول کے اثر سے اسلام کی تشریح و تعبیر اس طرح کرنا کہ وہ خارجی معیار کے مطابق نظر آئے۔ قدیم زمانے میں حکومت شخصی حکومت کے ہم معنی ہوا کرتی تھی۔ اس تصورِ حکومت کا اظہار خاندانی بادشاہت (dynasty) کی صورت میں ہوا۔ موجودہ زمانےمیں سوشلزم اور ڈیموکر یسی کے اثر سے نظریاتی حکومت کا تصور پیدا ہوا۔ پہلے یہ تھا کہ ایک شخص بادشاہ کی نسل سے تعلق رکھنے کی بنا پر بادشاہت کا دعویدار ہوا کرتا تھا۔ اب یہ ہوا کہ اولوالعزم لوگوں نے پولیٹیکل آئیڈیالوجی (political ideology) کے ذریعے حکومت کے لیے لڑائی کرنے لگے۔ اس کے نتیجے میں مختلف قسم کی پولیٹیکل آئیڈیالوجی وجود میں آئی۔
نظریاتی حکومت کا یہ تصور موجودہ زمانے میں لوگوں کو زیادہ اہم معلوم ہونے لگا۔ اس کے اثر سے مسلم مفکرین نے بھی اسلام کو انھیں اصطلاحات کی شکل میں بیان کرنا شروع کیا۔ انھوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام ایک مکمل سیاسی نظام ہے۔ اور اسلام کا نظام حکومت سب سے بہتر نظام حکومت ہے۔ اس لیے اہل اسلام کو یہ حق ہے کہ وہ اسلام کے نمائندے کی حیثیت سے اس دنیا میں اسلام کی حکومت قائم کریں۔ یہ نظریہ قرآن کے نام پر پیش کیا گیا۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ مضاہات (imitation) تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی حکومت کا تصور ایک مبتدعانہ تصور (innovated concept) قرآن میں کوئی بھی آیت اس مضمون کی نہیں ہے کہ اقیم دولۃ الاسلام (اسلامی حکومت قائم کرو)، یا نفذ الشریعۃ الاسلامیة (اسلامی شریعت نافذ کرو)۔ یہی حال احادیث کے پورے ذخیرے کا ہے۔ پورے ذخیرۂ حدیث میں کوئی بھی حدیث رسول اس مفہوم کی نہیں ہے کہ اے
تمھارا مشن یہ ہے کہ تم اسلام کی بنیاد پر سیاسی انقلاب لاؤ یا حکومت قائم کرو۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیاست کے معاملے میں اسلام کا نشانہ کوئی مخصوص نظامِ حکومت قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ سیاست کے معاملے میں اسلام کا اصل نشانہ صرف تمکین فی الارض (الحج:41) ہے۔ تمکین سے مراد وہی چیز ہے جس کو دوسرے الفاظ میں سیاسی استحکام (political stability) کہا جاتا ہے۔ سیاسی نظام فارم کے اعتبار سے جو بھی ہو، اگر اس کے ذریعے سیاسی استحکام قائم ہو جائے تو اہل اسلام کے لیے وہ قابلِ قبول ہوگا۔ خواہ بظاہر اس کی عملی صورت جو بھی ہو۔
سیاست کے بارے میں اس تصور کا ایک ثبوت یہ ہے کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد جو نظام حکومت قائم ہوا، وہ فارم کے اعتبار سے کوئی واحد سیاسی فارم پر مبنی نظام نہ تھا۔ خلیفہ اول کی تقرری ایک محدود شورائی اصول کے مطابق ہوئی۔ خلیفہ ثانی کی تقرری نامزدگی (nomination) کے اصول پر ہوئی۔ خلیفہ ثالث کی تقرری ایک بورڈ کے ذریعہ انجام پائی۔ خلیفہ چہارم کی تقرری کسی متفق علیہ اصول کی بنیاد پر نہیں ہوئی، اسی لیے بہت جلد بغاوت کی صورت پیدا ہو گئی۔ عمر بن عبدالعزیز کو اگر خلیفہ پنجم مانا جائے تو ان کی تقرری وقت کے سلطان (سلیمان بن عبد الملک) کی وصیت کے مطابق ہوئی، جو بوقتِ وفات ایک لفافے میں بند کر دی گئی تھی۔
وہ دور جس کو خلافتِ راشدہ کہا جاتا ہے۔ وہ تقریباً تیس سال قائم رہا۔ اس کے بعد مسلم دنیا میں خاندانی حکومت (dynasty) قائم ہو گئی۔ جو اگلے ہزار سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہی۔ خاندانی حکومت کا یہ نظام جو بلاشبہ شورائی ماڈل (الشورٰی:38) کے مطابق نہ تھا، لیکن اس دور کے تمام علماء نے اس خاندانی نظام کو عملاً تسلیم کر لیا۔ حتی کہ تمام علماء کے اتفاقِ رائے سے یہ مسئلہ بن گیا کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کرنا حرام ہے۔ خواہ وہ کسی کے نزدیک بظاہر حکومت فاسقہ“ کیوں نہ ہو۔ صحیح مسلم کے شارح امام النووی نے اپنے زمانے کے علماء کے متفقہ موقف کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: و أما الخروج عليهم وقتالهم فحرام بإجماع المسلمين وإن كانوا
فسقۃ ظالمین (شرح النووی علی صحیح مسلم، بیروت، 1392ھ، 12/229)۔ یعنی اور جہاں تک ان کے خلاف خروج یا ان سے قتال کا معاملہ ہے وہ مسلمانوں کے اجماع سے حرام ہے۔ وہ فاسق اور ظالم کیوں نہ ہوں۔
تسلیم کرنے والے اس گروہ میں صحابہ، تابعین، اور تبع تابعین بھی شامل تھے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خاندانی حکومت کا نظام اگر چہ شورائی ماڈل کے مطابق نہ تھا۔ لیکن اس کے ذریعے مطلوب سیاسی استحکام حاصل ہو رہا تھا۔ اس کے ذریعے امن کی حالت قائم ہوگئی اور یہ ممکن ہو گیا کہ اس کے تحت ہر قسم کی دینی سرگرمیاں جاری رکھی جا سکیں۔
اس معاملے میں علماء کے اس متفق علیہ مسلک کا سبب کیا تھا۔ یہ سبب پریفیکل وزڈم کے اصول پر یعنی زیادہ بڑی برائی (greater evil) سے بچنے کے لیے چھوٹی برائی (lesser evil) پر راضی ہو جانا۔ اسی حقیقت کو فقہاء اھون البلیتین کی اصطلاح میں بیان کرتے ہیں۔ یعنی بڑی مصیبت سے بچنے کے لیے چھوٹی مصیبت پر راضی ہو جانا۔
مگر اسلامی حکومت کے مبتدعانہ تصور نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو اتنا بڑا نقصان پہنچایا کہ اتنا بڑا نقصان اسلام کی پوری تاریخ میں شاید کسی نظریہ نے نہیں پہنچایا۔ اسلامی حکومت کے اس خود ساختہ تصور کا یہ نتیجہ ہوا کہ مسلمانوں کا دینی نشانہ بدل گیا۔ قرآن وسنت کے مطابق، اہل اسلام کا دینی نشانہ اصلاً صرف ایک تھا، تزکیہ ذات لیکن اس نام نہاد انقلابی نظریہ نے اس کے بجائے مسلمانوں کو یہ نشانہ دے دیا کہ وہ سیاسی حکمرانوں سے لڑکر ان سے اقتدار کی کنجیاں چھین لیں۔ اور پھر اقتدار کے منصب پر قبضہ کرکے اپنے مفروضہ نظام کو عملاً قائم کریں۔ اس کا معکوس نتیجہ فطری طور پر یہ ہوا کہ اقتدار کی سیٹ پر قبضہ تو نہ ہوسکا، البتہ مختلف قسم کی برائیاں مسلم معاشرے میں پھیل گئیں۔ نشانہ کا بدل جانا، مسلم امت کا دو متحارب گروہوں میں تقسیم ہو جانا، اسلام کی پر امن تصویر کے بجائے، پر تشدد تصویر (violent image) کا بن جانا، وغیرہ۔
مزید یہ کہ اس نام نہاد سیاسی تشریح کو قرآن سے ثابت کرنے کی لیے قرآن کے سنجیدہ مطالعہ کا مزاج ختم ہوگیا۔ اب مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر غلط ذہن عام ہوگیا ہے۔ وہ قرآن کی آزادانہ تفسیر کو درست تفسیر سمجھنے لگے۔ قرآن میں طاغوت شیطان کے معنی میں استعمال ہوا تھا، اس کو سیاسی لیر کے معنی میں لیا جانے لگا۔ قرآن میں حکم کا لفظ فوق الطبیعی اقتدار ( super-natural power) کے معنی میں استعمال ہوا تھا۔ اب اس کو سیاسی اقتدار(political power) کے معنی میں لے لیا گیا۔ قرآن میں دین کا لفظ مذہب کے معنی میں استعمال ہوا تھا، اس کو اسٹیٹ کے معنی میں لے لیا گیا، وغیرہ۔
اخوان المسلمون کی تحریک کو مصر اور دوسرے عرب ملکوں میں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ اخوانی تحریک کے مختلف شعبے تھے ۔ ان میں سے ایک فوجی شعبہ تھا جس کو جناح عسکری کہا جاتا اخوان کے جناح عسکری کے سربراہ حسن دوح(Hasan Dawh) تھے ۔
موجودہ زمانہ میں جو اسلامی تحریکیں اٹھیں، ان سب کا یہی حال رہا ہے۔ کسی میں جناح عسکری عملاً قائم تھا، اور کسی میں صرف ذہنی طور پر وہ پایا جاتا تھا۔ تحریکوں کی اس عسکریت کا سبب یہ ہے کہ وہ دشمنان اسلام“ کے ردعمل میں اٹھیں ۔ کوئی یہودیوں کے خلاف، کوئی انگریزوں کے خلاف، کوئی فرانسیسیوں کے خلاف۔ یہی وجہ ہے کہ ان سب میں مشترک طور پر نفرت اور تشدد کا ذہن پایا جاتا ہے۔
موجودہ زمانہ کی ان تحریکوں میں سے کوئی تحریک ” جناح دعوتی نہ تھا۔ اگر یہ تحریک حقیقی معنوں میں دعوتی محرک کے طور پر اٹھتیں تو نہ صرف ان کے یہاں جناح دعوتی موجود ہوتا بلکہ ان کے یہاں دعوت ہی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہوتی۔ اور پھر ان کا مزاج نفرت اور تشدد کے بجائے محبت اور امن کا بنتا۔ دعوت کا کام دلوں کو جیت کر اور ڈ ذہنوں کو مطمئن کرکے ہوتا ہے، اس لیے داعی کے اندر دوسروں سے محبت اور خیر خواہی کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ (ڈائری ، 1983)