اللہ کی مدد
Al-Risala, September 2017, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ایک خدائی قانون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ اِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (22:40)۔ یعنی اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد بیشک اللہ زبردست ہے، زور والا ہے۔ قرآن کی یہ آیت انسانی تاریخ کے بارے میں ایک خدائی قانون کو بتاتی ہے۔
اصل یہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے انسان کو کامل آزادی دی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ وہ انسانی تاریخ کو برابر بیچ بھی کرتا ہے، تا کہ تاریخ کا سفر اپنے صحیح رخ پر جاری رہے۔ میں جس معاملے کا ذکر ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ رب العالمین کے اس منصوبے میں انسان کا رول کیا وہ یہ ہے کہ انسان تاریخ کے بارے میں اللہ کے منشا کو دریافت کرے، اور اللہ کے منصوبے کے مطابق تاریخی عمل (historical process) میں اپنا حصہ ادا کرے۔ انسان اگر ایسا کرے تو وہ اللہ کی مدد کا یقینی مستحق بن جاتا ہے۔
اس معاملے کی ایک مثال وہ ہے جو اسلام کے دور اول میں پیش آئی۔ وہ یہ کہ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد اللہ تعالی نے ایسے حالات پیدا کیے کہ اہلِ ایمان یک طرفہ شرطوں پر فریق ثانی سے صلح کرلے، اور اس طرح فریقین کے درمیان امن کا ماحول بنا کر دعوت کی پلاننگ اس زمانے کے اہل ایمان نے اس معاملے کو سمجھا، اور یک طرفہ صلح کر کے فریقین کے درمیان امن کا ماحول قائم کیا۔ اس طرح گویا اہلِ ایمان نے اللہ کے جاری کردہ پر اس میں اپنا حصہ ادا کیا۔ اس کے بعد وہ اللہ کی یقینی نصرت کے مستحق بن گئے۔ چناں چہ اس کا نتیجہ فتح مبین کی صورت میں برآمد ہوا۔
موجودہ زمانے میں دوبارہ اسی قسم کی صورت حال زیادہ بڑے پیمانے پر پیدا ہوئی ہے۔ تقریباً چار سو سال کے عمل کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر موافق اسلام حالات پیدا ہوئے ہیں۔
ایک طرف عالمی سطح پر مذہبی آزادی کو انسان کا مطلق حق مان لیا گیا ہے، اور دوسری طرف اسلامی دعوت کو پھیلانے کے اتنے زیادہ مواقع پیدا ہوئے ہیں، جس کو مواقع کا انفجار (opportunity explosion) کہا جا سکتا ہے۔
اب دوبارہ ضرورت ہے کہ اہل ایمان اللہ کی نصرت کریں۔ اس نصرت کی صورت یہ ہے کہ امت مسلمہ دوسری قوموں کے ساتھ اپنے تمام نزاعات کو یک طرفہ طور پر ختم کر دے، اور اپنی ساری توجہ صرف ایک نکتے پر لگادے۔ یعنی پیدا شدہ مواقع کو پر امن طور پر دعوت الی اللہ کے لیے استعمال اس طرح اہل ایمان اللہ کے پیدا کردہ تاریخی پراسس میں اپنا حصہ ادا کریں گے۔ امت مسلمہ کو نصرت الہی کا یقینی مستحق بنا دے گا، اور پھر دوبارہ ان کو وہ کامیابی حاصل ہوگی جس کو قرآن میں فتح مبین (الفتح: 1) کہا گیا ہے۔
فتح مبین کی اس الہی نصرت کو حاصل کرنے کی صرف ایک شرط ہے، اور وہ یہ کہ اہل اسلام اس پورے معاملے کو قومی نقطہ نظر سے نہ دیکھیں، بلکہ خالص دعوتی نقطہ نظر سے دیکھیں۔ یہ فطرت کا اصول ہے کہ قومی تعلقات میں ہمیشہ ایسے حالات پیش آتے ہیں، جو بظاہر کسی قوم کے خلاف دکھائی تو قوم ان حالات کو اپنے خلاف ظلم سمجھ لیتی ہے، اور پھر اس کے نتیجے میں اس قوم کے اندر منفی سوچ پیدا ہو جاتی ہے۔ منفی سوچ قوم کو اس کے لیے نااہل بنا دیتی ہے کہ وہ حالات کے مثبت پہلو کو دریافت کرے، اور ان کو استعمال کرتے ہوئے اپنے معاملے کی منصوبہ بندی مثبت انداز میں یہی منفی ذہن قوموں کے لیے تعمیر میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ یہی معاملہ پیش آیا ہے۔ انھوں نے فطری حالات کو مفروضہ طور پر اپنے خلاف سمجھ لیا، اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے آپ کو مظلوم سمجھنے لگے۔ کے احساس کی مسلمانوں کو بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑی۔ وہ یہ ہے کہ اس احساس مظلومیت نے مسلمانوں کو اس بات کے لیے نااہل بنا دیا ہے کہ وہ تاریخ کے مثبت پہلو کو سمجھیں، اور اس میں اپنا حصہ ادا کرتے ہوئے اللہ کی نصرت کے مستحق بنیں۔