انسانیت انتظار میں
Al-Risala, January 2017, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
20 نومبر 2016 کو ہمارے ایک ساتھی دہلی ایرپورٹ پر اترے۔ یہاں انھوں نے دیکھا کہ ایک جگہ کچھ ماڈرن قسم کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کھڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے ساتھی کے بیگ میں انگریزی ترجمہ قرآن موجود تھا۔ وہ ان کے قریب گیے، اور ایک نوجوان کو انگریزی ترجمہ قرآن یہ کہہ کر پیش کیا کہ یہ آپ کے لیے گفٹ ہے۔ نوجوان نے اس کو دیکھا کہ تو وہ خوشی کے ساتھ کہہ اٹھا: واؤ! دوسرے نوجوانوں کو جب معلوم ہوا تو ان لوگوں نے کہا کہ ہم کو بھی واؤ! (wow) کہنے کا ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہم قرآن کو پڑھیں اور یہ جانیں کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ یہ واقعہ علامتی طور پر ایک نمائندہ واقعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سارے انسان، مرد اور عورت دونوں اپنی فطرت کے زور پر اس تلاش میں ہیں کہ وہ جانیں کہ اس دنیا کا خالق کون ہے۔ تخلیقی نقشے کے مطابق ہمارے لیے اس دنیا میں زندگی کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ خدا نے اپنی کتاب میں ہمیں کیا پیغام دیا ہے۔ یہ شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر ہر مرد اور ہر عورت کے دل کی آواز یہ صورت حال کی ایک پکار ہے۔ یہ پکار ان تمام لوگوں کو مخاطب کر رہی ہے، جو قرآن کے ان کا فرض ہے کہ وہ قرآن کو دنیا کی تمام قوموں کی زبانوں میں ترجمہ کر کے شائع کریں، اور اس کو لوگوں تک پہنچائیں، تاکہ لوگ اپنی قابل فہم زبان (understandable language) میں پڑھ کر جان سکیں کہ قرآن میں ان کے لیے کیا پیغام ہے۔
ضرورت ہے کہ ہر شخص اپنے ساتھ ترجمہ قرآن کے چھپے ہوئے نسخے رکھے، اور جب بھی کسی مرد یا عورت سے ملاقات ہو تو اس کو وہ ایک اسپیشول گفٹ کے طور پر پیش کرے۔ یہ حاملینِ قرآن کے لیے اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے کی ایک ایسی صورت ہے جو ہر ایک کے لیے پوری طرح قابل حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو تمام انسانوں تک پہنچانا، ہر مسلمان کے لیے ایک فرض کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس فرض کی ادائیگی کے بغیر وہ اللہ کے سامنے بری الذمہ قرار نہیں پا سکتے۔