عمومی تائید کا دور
Al-Risala, September 2017, pp. 32–34
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کی دعوت، توحید کی دعوت تھی۔ یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک عالمی دعوت تھی۔ حقیقت کو قرآن میں عالمی انذار (الفرقان: 1) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مگر قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک دعوت توحید کا مشن عمومی مخالفت کے ماحول میں کرنا پڑا۔ اس بنا پر اس مشن کو مطلوب نشانے کے مطابق کرنا بے حد مشکل ہو گیا۔ آخر کار اللہ کو یہ مطلوب ہوا کہ اس منفی صورت حال کو ختم کیا جائے۔ تاکہ دعوت توحید کا مطلوب عمل کسی رکاوٹ کے بغیر انجام پاسکے۔ اس موافق صورت حال کو ظہور میں لانے کے لیے اللہ نے تاریخ میں ایک انقلابی عمل جاری یہ عمل ساتویں صدی میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ شروع ہوا، اور بیسویں صدی میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ اب اہل ایمان کو صرف یہ کرنا ہے کہ ان پیدا شدہ مواقع (opportunities) کو دعوت توحید کے لیے منصوبہ بند انداز میں پرامن طور پر استعمال کریں۔ اس عمل کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌ حَمِيمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
قرآن کی اس آیت میں اس حقیقت کو انفرادی امکان کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ عداوت کوئی مستقل حالت نہیں۔ انفرادی سطح پر تم آج بھی اس کا تجربہ کر سکتے ہو کہ ایک شخص جو بظاہر تم کو اپنا مخالف نظر آتا ہو، اس سے یک طرفہ (unilateral) حسن سلوک کرو تو عین ممکن ہے کہ وہ تمھارا دوست بن جائے۔ اس قسم کا تجربہ اسلام کے دور اول میں بار بار پیش آیا۔ یعنی دعوت یا حسن سلوک کے نتیجے میں کل کا دشمن آج کا دوست بن گیا۔ مثلاً عمر ابن الخطاب، اور ہندہ زوجہ ابوسفیان، لیکن اتنا ہی کافی نہ تھا۔ اسی کے ساتھ ضرورت تھی کہ اس کلچر کو دنیا میں عمومی سطح پر لایا جائے۔
اس واقعہ کا دوسرا پہلو حدیث میں پیشین گوئی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ان اللہ جل وعز ليؤيد الإسلام برجال ما هم من أهله (المعجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ یعنی اللہ ضرور اس دین کی مدد غیر اہل دین کے ذریعہ کرے گا۔
اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، اس کا ایک منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ تھا کہ دنیا میں تائید کلچر کو وجود میں لانا۔ قدیم زمانے میں ساری دنیا میں جس ڈائیکاٹومی (dichotomy) کا رواج تھا۔ وہ تھا، دوست اور دشمن کی اللہ نے انسانی تاریخ میں ایسے اسباب پیدا کیے کہ انسانوں کے درمیان ایک نئی ڈائیکاٹومی وجود میں آگئی۔ وہ تھی، دوست اور موید (supporter) کی ڈائیکاٹومی۔ یعنی جو لوگ دوست تھے، وہ تو دوست تھے۔ اور جو لوگ دوست نہ تھے، وہ عملاً موید (supporter) بن گئے۔ یہ تبدیلی اس طرح آئی کہ جمہوریت (democracy) اور ٹکنالوجی کے ذریعہ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ ہر آدمی کا مفاد دوسرے آدمی کے ساتھ جڑ گیا۔ پولیٹکل لیڈر کا انٹرسٹ ووٹر سے، اور ووٹر کا انٹرسٹ پولیٹکل لیڈر سے۔ بزنس مین کا انٹرسٹ کسٹمر سے اور کسٹمر کا انٹرسٹ بزنس مین سے۔ انٹرسٹ اسٹوڈنٹس سے، اور اسٹوڈنٹس کا انٹرسٹ ٹیچر سے، وغیرہ۔
اس طرح دنیا میں ایک نیا باہمی انحصار کا کلچر (interdependent culture) وجود میں اب ایک نیا جبر (compulsion) پیدا ہوا۔ جس کے تحت لوگوں کے لیے ضروری ہو گیا کہ وہ دشمن کی اصطلاح میں سوچنا چھوڑ دیں۔ وہ تمام انسانوں کو یا تو دوست کے روپ میں دیکھیں یا موید کے روپ میں۔ اس کی ایک صورت وہ ہے جس کو موجودہ زمانے میں آؤٹ سورسنگ (outsourcing) کہا جاتا ہے۔
اس کلچر کے نتیجے میں ایسا ہوا کہ ساری دنیا میں کھلے پن (openness) کا دور آگیا۔ اپنے اور غیر کا فرق ختم ہو گیا۔ مثلاً آپ اگر دعوت توحید کا مشن چلا رہے ہیں تو ضروری نہیں ہوگا کہ
صرف اپنے وسائل کے دائرے میں اپنا مشن چلائیں ، بلکہ ہر اسٹیج اور ہر پلیٹ فارم آپ کے لیے کھلا حتیٰ کہ دوسرے لوگ انٹرنیشنل کانفرنس منعقد کریں، تو وہ آپ کو دعوت دیں گے کہ آپ وہاں آئیں، اور ان کے اسٹیج سے پرامن انداز میں اپنے مشن کا تعارف پیش کریں۔ قدیم زمانے میں مسلم حکومتوں میں غیر مسلموں پر جزیہ (tribute) عائد کیا گیا تھا۔ حالات کے مطابق تھا۔ کچھ غیر مسلم مصنفین نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ یہ ایک امتیازی ٹیکس (discriminatory tax) ہے۔ مسلم مصنفین نے اس کا جواب یہ دیا کہ یہ امتیازی ٹیکس نہیں ہے، بلکہ وہ حفاظتی ٹیکس (protective tax) ہے۔ تاہم اس طرح کے جوابات کے باوجود دوسرے حضرات کا اعتراض ختم نہیں ہوا۔ موجودہ زمانے میں جزیہ کے نام پر علاحدہ ٹیکس عائد کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب نئے حالات کے مطابق، یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ٹیکس تو سب کے لیے ایک ہی ہو ٹیکس کے معاملے میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہ ہو۔ البتہ ایک اور اصول کو اختیار کرتے ہوئے، اس مقصد کو زیادہ بڑے پیمانے پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔
موجودہ زمانے میں ایک نیا تصور بڑے پیمانے پر وجود میں آیا ہے۔ اس کو آؤٹ سورسنگ (outsourcing) کہا جاتا ہے۔ آؤٹ سورسنگ کا طریقہ اس معاملہ کا نعم البدل ہے۔ سورسنگ کا طریقہ 1981ء میں امریکا سے شروع ہوا۔ موجودہ حالات میں یہ طریقہ تجارتی امور میں استعمال کیا جاتا ہے :
Outsourcing is a practice in which an individual or company performs tasks, provides services or manufactures products for another company. موجودہ زمانے میں آؤٹ سورسنگ کا طریقہ زیادہ تر اقتصادی معاملے میں استعمال کیا جاتا اسلام ایک دعوتی مذہب ہے۔ اہلِ اسلام اس طریقہ کو دعوت کے لیے اس طرح استعمال کر سکتے ہیں کہ وہ دوسرے اداروں اور دوسروں کے اجتماعات کو اپنے پیغام کی پرامن اشاعت کے لیے بطور دعوہ آپر چونٹی آویل (avail) کریں۔