Al-Risala · September 2017

پیغمبر اسلام کا مشن

Al-Risala, September 2017, pp. 35–38

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن اصلاً قانون کی کتاب نہیں ہے، بلکہ وہ حکمت (wisdom) کی کتاب ہے۔ اگر قانون کی کتاب ہوتی تو قرآن کی آیتوں کا صرف ترجمہ، قرآن کو سمجھنے کے لیے کافی ہوتا۔ میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے تدبر (ص: 29) ضروری ہے۔ قرآن کی آیتوں میں جو حکمت ہے، وہ صرف غور وفکر کے ذریعے سمجھی جاسکتی ہے۔ غور وفکر کے بغیر قرآن کے گہرے مفہوم تک پہنچنا ممکن نہیں۔

قرآن کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جو باتیں بذریعہ وحی بتائی گئیں، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے وتھیں ــــ الھدیٰ اور الدین (التوبہ: 32)۔ یہ اسلوب قرآن کی تین آیتوں میں اختیار کیا گیا ہے۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ الہدیٰ سے مراد منہج (method) اور الدین سے مراد وہ دین جو تمام نبیوں (الشوریٰ: 13) کو مشترک طور پر دیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن اصلاً وہی تھا جو تمام پیغمبروں کا مشن تھا۔ یعنی انسان کو اس دین اسلام سے باخبر کرنا جو انسان کے لیے دنیا اور آخرت کی سعادت کا ضامن ہے۔ دین مشترک کی تعلیمات بنیادی طور پر تین ہیں ــــ توحید، رسالت، آخرت۔ توحید سے مراد اس دین کی وہ آئیڈیالوجی ہے جس پر دین قائم ہوتا ہے۔ رسالت سے مراد وہ مستند ذریعہ ہے جس کے ذریعے یہ دین انسانوں تک پہنچتا ہے۔ آخرت سے مراد انسان کا وہ ابدی انجام ہے، جو اس دین کو اختیار کرنے یا اختیار نہ کرنے کی بنا پر کسی انسان پر واجب ہوتا ہے۔

مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہے۔ وہ ہمیشہ اور ہر حال میں ایک ہی رہے گا۔ لیکن ہدیٰ (منہج یا طریقہ کار) کا تعلق حالات سے ہے ۔ کے تحت بدلتا رہے گا۔

مثال کے طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ساتویں صدی عیسوی میں ہوئی۔

زمانہ قبائلی زمانہ (tribal age) تھا۔ قبائلی دور میں اختلاف کو طے کرنے کا ایک ہی ذریعہ تھا، اور وہ تلوار (sword) تھا۔ اس بنا پر اس زمانے میں اہل ایمان کو بطور دفاع قتال کے میدان میں فریق ثانی کا مقابلہ کرنا پڑا۔ لیکن اب دورِ سیف (age of sword) ختم ہو چکا ہے۔ اب ساری دنیا میں معاملات کو طے کرنے کی ایک ہی مُسَلَّم بنیاد ہے، اور وہ پر امن طریقہ کار یا پر امن گفت و شنید (peaceful negotiation) کا طریقہ ہے۔ اس لیے اب اہل ایمان کو کسی سے لڑنے کی کوئی اب ان کے لیے اعدادِ قوت (الانفال: 60) کا انطباقی مفہوم (applied meaning) یہ ہے کہ وہ پر امن گفت و شنید اور دلیل کے اعتبار سے اپنے آپ کو تیار کریں۔ زمانے میں تلوار کے اعتبار سے اپنے آپ کو تیار کرنا، ایک غیر متعلق (irrelevant) بات ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو دنیا کی تمام قوموں نے جان لیا ہے۔ مثلاً دوسری عالمی جنگ (1939-1945) کے زمانے میں برطانیہ، جرمنی، فرانس اور جاپان باقاعدہ طور پر جنگ میں شریک لیکن جنگ کے بعد انھوں نے یہ دریافت کیا کہ اب چیزیں پر امن طریقہ کار سے ملتی ہیں، نہ کہ پر تشدد طریقہ کار سے۔ چناں چہ انھوں نے جنگ کے اس معاملہ میں یوٹرن (u-turn) لے لیا۔ انھوں نے اپنی پالیسی امن کی بنیاد پر بنائی، نہ کہ پہلے کی طرح جنگ کی بنیاد پر۔ واقعہ کا یہ پہلو بتاتا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں جو غزوات پیش آئے، وہ زمانی سبب (age factor) کی بنیاد پر پیش آئے، وہ ابدی معنوں میں اسلام کی تعلیم کا حصہ نہ تھے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کے دورِ اول میں جو جنگیں پیش آئیں، وہ اسلام کی تاریخ کا حصہ ہیں، نہ کہ اسلام کی ابدی تعلیمات کا حصہ۔ اب جنگ کے طریقہ کو پہلے کی طرح جاری رکھنا صرف خلاف زمانہ حرکت (anachronism) کے ہم معنی ہوگا، نہ کہ واقعی معنوں میں کوئی مطلوب کام۔ مسلم فقہاء جس چیز کو نصبِ امامت کہتے ہیں، اس کا تعلق بھی حالات سے ہے، نہ کہ عقیدہ کی طرح ابدی تعلیمات سے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں نصبِ امامت کا واقعہ بطورِ وقتی ضرورت پیش اب اگر اس کو اسلام کی مستقل تعلیم کا حصہ قرار دیا جائے تو یہ دین کو تاریخ سے اخذ کرنے کے ہم

جب کہ تاریخ حالات کی پیداوار ہوتی ہے، نہ کہ اصولی تعلیمات کی پیداوار۔ دین کا ماخذ ابدی طور پر قرآن و سنت ہے، نہ کہ وہ چیز جو حالات کی نسبت سے وجود میں آتی ہے۔ کچھ مفکرین نے پیغمبر اسلام کے طریق کار کو تین مراحل میں تقسیم کیا ہے۔ مرحلہ ہجرت، مرحلہ جہاد۔ مگر یہ پیغمبر کے مشن کو تاریخ سے اخذ کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر کا مشن صرف ایک تھا، اور وہ دعوت توحید ہے۔ بقیہ چیزیں جو پیغمبر کے مشن میں دکھائی دیتی ہیں، وہ حالات کے تحت پیدا ہونے والی تاریخ کا حصہ ہیں، نہ کہ اصل دینی تعلیمات کا حصہ۔ قرآن میں پیغمبروں کے بارے میں جو کچھ بتایا گیا ہے، نیز بائبل سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے، اس کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ پیغمبروں کا مشن ہمیشہ ایک تھا۔ لیکن ان کی تاریخ مختلف تھی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مشن کا تصور ابدی عقیدہ سے بنتا ہے۔ اس لیے وہ ہمیشہ ایک ہوتا ہے۔ برعکس، تاریخ ایک دو طرفہ عمل (bilateral process) کے تحت وجود میں آتی ہے۔ اس اعتبار سے بنتی ہے کہ مخاطب (audience) کا ردعمل دعوت کے مقابلے میں کیا تھا۔ اسلام میں سیاسی اقتدار کا تعلق عقیدہ سے نہیں ہے، بلکہ عملی ضرورت سے ہے۔ اس کا مقصد شریعت کا نفاذ نہیں ہے۔ بلکہ وہی چیز ہے جس کو تمکین فی الارض الارض(الحج41:)کہا کہا گیا ہے، یعنی سماجی استحکام کا حصول۔ اسلام ایک پیس فل مشن ہے، اسلام کا مقصد یہ ہے کہ پرامن انداز میں خدائی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلایا جائے ۔ یہ مقصد اس وقت حاصل ہو جاتا ہے، جب کہ سیاسی استحکام قائم ہو خواہ وہ کسی بھی ذریعہ سے قائم ہو جائے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام میں ہر حکومتی فارم کو یکساں طور پر قبول کیا گیا ہے۔ آپ قرآن و حدیث کا مطالعہ کریں تو آپ کو حکومت کا کوئی واحد مطلق فارم نہیں ملے گا۔ اسلام کے ابتدائی دور میں ”خلافت“ کے چار مختلف فارم قائم ہوئے۔ اس کے بعد مسلم ملکوں میں خاندانی خلافت (dynasty) کا طریقہ رائج ہو گیا۔ اور اس کو تمام علماء نے تسلیم کر لیا۔ حتیٰ کہ آج بھی وہ رائج ہے۔ اس معاملے میں ایک اصول وہ ہے جو کی دور کے اس واقعہ میں ملتا ہے، جب کہ صحابہ کی ایک

اور اس کی نسیمِ بهار کی طرح روح افزا حشر خیزیوں کے ساتھ جماعت نے پیغمبر اسلام کی اجازت سے حجاز سے حبش کی طرف ہجرت کی تھی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: لو خرجتم إلى أرض الحبشة؟ بها ملكا لا يظلم عنده أحد، وهي - أرض صدق - حتى يجعل الله لكم فرجا مما أنتم فيه (البداية والنهاية، دارالفكر، 1986، 3/66)۔ تم لوگ حبش کے ملک میں چلے جاؤ۔ کیوں کہ وہاں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے ملک میں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا۔ وہ سچائی کی زمین ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تمھارے لیے گنجائش کی صورت پیدا کردے۔

رسول اللہ کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر غیر مسلم حکومت میں بھی اہل ایمان کو امن حاصل ہو تو وہ حکومت بھی اہل ایمان کے لیے قابل قبول حکومت ہوگی۔

شیخ الہندؒ، مولانا محمد قاسمؒ کے اوراکِ کمال کے وہ معنیٰ، برجس کا خلاصہ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کا ایک وعظ ہے جس کا خلاصہ یہ ہے: ’’میرے نزدیک آج کل کے جھگڑے اور فساد کی بنیاد یہ ہے کہ ہر شخص سوا سیر بننا چاہتا ہے، کوئی شخص سیر بن کر رہنا نہیں چاہتا۔ اگر خود کو سیر اور دوسروں کو سوا سیر سمجھے کا جذبہ پیدا ہو جائے تو آج ہی یہ سارے جھگڑے اور فساد ختم ہو جائیں۔ “ (صحبتِ با اہل دل )

یہ نہایت صحیح بات ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سارے جھگڑوں کی جڑ لوگوں کا یہی جذبہ کوئی شخص یہ نہیں سوچتا کہ بس چند دن کی زندگی تک یہ سارے جھگڑے ہیں ، اسکے بعد انسان ہوگا اور اس کا خدا ہوگا ۔ پھر نہ تو کوئی سیر ہوگا، اور نہ کوئی سوا سیر۔ آہ، انسان آج سیر بن کر رہنے پر راضی نہیں۔ حالاں کہ اس پر وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ سیر بن کر رہے گا اور نہ سوا سیر ۔ اگر لوگ جان لیں کہ بالآخر وہ کچھ بھی نہ رہیں گے تو وہ خود ہی سیر بننے پر راضی ہو جائیں اور پھر تمام جھگڑے بھی اچانک ختم ہو جائیں ۔ (ڈائری ، 1983)

Printed page