ہجر جمیل
Al-Risala, October 2017, pp. 9–12
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ المزمل میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: وَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيْلًا (73:10)۔ اُردو مترجمین نے اس آیت کے جو ترجمے کیے ہیں اُن میں سے چند یہاں نقل کیے جاتے ہیں :
اور سہتا رہ جو کہتے رہیں اور چھوڑ اُن کو بھلی طرح کا چھوڑ نا (شاہ عبد القادر) اور یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں اُن پر صبر کرو اور خوبصورتی کے ساتھ اُن سے (اشرف علی تھانوی)
اور سہتا رہ جوکچھ وہ کہتے رہیں اور چھوڑ دے اُن کو بھلی طرح کا چھوڑ نا۔ (محمود حسن دیوبندی)
اور یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اُس پر صبر کر اور اُن کو خوبصورتی سے نظر انداز کر۔ (امین احسن اصلاحی)
اور یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجئے اور خوبصورتی کے ساتھ ان سے علیحدگی
اور ان باتوں پر صبر کیے رہیے جو یہ لوگ کہتے ہیں، اور ان سے خوبصورتی کے (عبد الماجد دریابادی) ساتھ الگ ہو جائیے۔
اور اے پیغمبر آپ صبر کریں ان باتوں پر جو مخالفین کہتے ہیں اور آپ خوش اسلوبی کے ساتھ ان سے کنارہ کش ہوجائیں۔ (صوفی عبد الحمید سواتی)
اس آیت کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو وہ اس طرح ہو گا : Endure patiently whatever they say, and avoid them in a
قرآن کی یہ آیت مکی دور میں اتری۔ اُس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ رسول اور اصحابِ رسول نے اُن کے آبائی دین سے انحراف کیا ہے۔ اس بنا پر وہ لوگ رسول اور اصحابِ رسول کو ستانے لگے۔ انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائیں۔ اس ماحول میں قرآن کی یہ آیت اُتری۔ اس میں خدا کی طرف سے یہ حکم دیا گیا کہ تم لوگ صبر کرو اور ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کرو۔
ہجر جمیل کے لفظی معنیٰ ہیں—خوبصورتی کے ساتھ چھوڑنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ستانے والوں کے ساتھ حسنِ اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ ان کے معاملہ میں تمہارا طریقہ منفی ردعمل کا طریقہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ مثبت ردعمل کا طریقہ ہونا چاہیے۔ تم کو چاہیے کہ اُن کے معاملہ میں درگزر کرو، اور اُن کے برے انداز کے مقابلہ میں تم اُن کے ساتھ اچھا انداز اختیار کرو۔
مفسرین نے عام طور پر یہ لکھا ہے کہ صبر اور ہجر جمیل کا یہ حکم آیات قتال کے نزول کے بعد منسوخ ہو گیا۔ مگر یہ ایک غلط تفسیر ہے۔ ہجر جمیل ( حسنِ اعراض ) کوئی مجبوری کا فعل نہیں ہے، یہ اہل ایمان کا ایک مثبت رویہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن منفی ردعمل کا تحمل نہیں کر سکتا۔ شکایت کی نفسیات شکر کے جذبہ کی قاتل ہے اس لیے مومن یک طرفہ طور پر شکایت کے جذبات کو ختم کرتا ہے تاکہ اُس کے اندر شکر کا جذبہ مجروح نہ ہونے پائے۔ اسی طرح نفرت کی نفسیات محبت کے جذبہ کی قاتل ہے اس لیے مومن نفرت کی نفسیات کو اپنے اندر پنپنے نہیں دیتا تا کہ اُس کے اندر محبت الہی کا جذبہ پوری طرح باقی رہے۔ اس کام کو کبھی سختی سے کرنا پڑتا ہے اور کبھی حسن تدبیر سے۔ ہجر جمیل (حسن اعراض) بظاہر دوسرے کے مقابلہ میں ہوتا ہے مگر اُس کا تعلق خود اپنی ذات مومن آخری حد تک یہ چاہتا ہے کہ اُس کے اندر اعلیٰ اسلامی احساس ہمیشہ زندہ رہے۔ کسی بھی حال میں اُس کے اندر کی (erosion) نہ ہونے پائے۔
قرآن کے مطابق، اللہ نے کسی انسان کے اندر دو دل نہیں بنائے۔ (الاحزاب: 4) یعنی انسان کے دل میں بیک وقت دو متضاد نفسیات پرورش نہیں پا سکتیں۔ جو دل انسان سے نفرت کرے،
عین اُسی وقت وہ خدا سے محبت نہیں کر سکتا۔ جس دل کے اندر انسانوں کے بارے میں شکایات بھری ہوئی ہوں وہ دل کبھی خدا کے شکر سے سرشار نہیں ہو سکتا۔ جس آدمی کا سینہ انتقامی نفسیات کا جنگل بنا ہوا ہو، وہ خدا سے طلب عفو کی لذت کا تجربہ نہیں کر سکتا۔ جو انسان ظلم کی یادوں میں جی رہا ہو، وہ خدائے رحمن و رحیم کی یادوں کا تجربہ نہیں کر سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ صبر اور حسن اعراض مومن کے لیے ایک خود حفاظتی تدبیر ہے۔ اپنے آپ کو اس سے بچانا ہے کہ اُس کے سینے میں غیر مومنانہ نفسیات کی پرورش ہونے لگے۔ اس لیے جب بھی ایسا کوئی موقع پیش آتا ہے تو مومن کہہ اُٹھتا ہے کہ میں اس قسم کی منفی سوچ کا تحمّل نہیں کر سکتا۔ یہاں اس معاملہ کی مزید وضاحت کے لیے رسول اور اصحاب رسول کی زندگی سے حسن اعراض کی کچھ عملی مثالیں درج کی جاتی ہیں۔
ابن اسحق کی روایت ہے کہ قدیم مکہ کے قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتے تھے اور سبّ و شتم کرتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے آپ کا نام محمد کے بجائے مذمم رکھ دیا تھا۔ مطلب ہے، تعریف کیا ہوا۔ اس کے بجائے وہ آپ کو مذمم (ندمت کیا ہوا) کہتے تھے۔ کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: ألا تعجبون لما يصرف الله عني من أذى قريش، يسبون ويهجون مذمما، وأنا محمد (سیرت ابن ہشام یعنی کیا تم کو تعجب نہیں کہ اللہ نے مجھے قریش کی اذیت سے کس طرح بچا لیا، وہ سبّ و شتم کرتے ہیں اور مذمم کہہ کر ہجو کرتے ہیں، حالانکہ میں محمد ہوں۔
پیغمبر اسلام کے اس قول کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ مثلاً قریش اگر یہ کہیں کہ ’’مذمم مجنون ہے‘‘ تو رسول اللہ اس کا بُرا اثر نہ لیتے ہوئے یہ کہہ دیں گے کہ تمہاری یہ بات اُس کے اوپر پڑے گی جس کا نام مذمم ہو، میرا نام تو محمد ہے۔ یہ حسن اعراض کی ایک لطیف مثال ہے۔ اس طرح مومن اپنے آپ کو اس نقصان سے بچاتا ہے کہ کسی کی بدگوئی اُس کے اندر منفی نفسیات پیدا کرنے کا سبب مومن کا قول یہ ہوتا ہے کہ میں منفی جذبات کا تحمّل نہیں کر سکتا۔
اس طرح کے حسن اعراض کی ایک دلچسپ مثال ڈاکٹر ذاکر حسین (1969-1897) کے یہاں پائی جاتی ہے۔ ایک بار وہ دہلی کی ایک سڑک پر اپنی گاڑی چلا رہے تھے، اتفاق سے اُن کی گاڑی ایک اور شخص کی گاڑی سے معمولی طور پر ٹکرا گئی۔ اُن کی گاڑی میں رگڑ (dent) آگیا۔ آدمی نے ابھی نئی گاڑی لی تھی۔ وہ گاڑی روک کر اترا۔ ذاکر صاحب بھی اپنی گاڑی روک کر اتر اُس آدمی نے ذاکر صاحب کی طرف غصہ سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ایڈیٹ (idiot)۔ انگریزی لفظ کے معنی ہوتے ہیں، احمق۔ ذاکر صاحب نے جوابی غصہ نہیں دکھایا۔ انہوں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے نرمی سے کہا: