Al-Risala · October 2017

Sir, I am not Mr. Idiot, I am Zakir Husain.

Al-Risala, October 2017, pp. 12–18

By Maulana Wahiduddin Khan

جناب، میں مسٹر ایڈیٹ نہیں ہوں۔ میں ذاکر حسین ہوں۔ یہ سُن کر اُس آدمی کا غصہ ٹھنڈا ساری (sorry) کہہ کر وہ خاموشی کے ساتھ اپنی گاڑی پر بیٹھا اور آگے کے لیے روانہ ہو گیا۔ 2- ہجرت کے بعد حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا۔ مکہ کے سرداروں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے صحابہ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اُس وقت حدیبیہ کے مقام پر دونوں فریقوں کے درمیان ایک معاہدۂ امن تیار کیا گیا۔ اس معاہدہ کے وقت قریش نے ضد کا مظاہرہ بھی کیا اور تشدد کا مظاہرہ بھی۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اُن کی یک طرفہ شرطوں پر معاہدہ کیا اصحاب رسول کو اس سے بے حد تکلیف ہوئی۔ اس طرح کی شرطوں پر معاہدہ کرنا اُن کو بظاہر ایک ذلت کا معاہدہ معلوم ہوتا تھا۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : لا تدعوني قريش اليوم إلى خطة یسألوننی فيها صلة الرحم إلا أعطيتهم إياها (سیرت ابن ہشام، 2/310)۔ یعنی قریش آج جو خاکہ بھی پیش کریں گے، بشرطیکہ اُس میں صلہ رحمی کو ملحوظ رکھا گیا ہو، میں ضرور اُس پر راضی ہو جاؤں گا۔ دشمن کی یک طرفہ شرطوں کو ماننا ایک سخت ناگوار معاملہ تھا۔ مگر آپ نے مذکورہ بات کہہ کر اس ناگوار کو ایک خوش گوار معاملہ بنا لیا۔ پیغمبر اسلام کا یہ قول ہجر جمیل کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔ قدیم عربوں کے نزدیک صلہ رحمی

بہت بڑی انسانی قدر سمجھی جاتی تھی۔ اور قطع رحمی کو وہ بہت بُرا سمجھتے تھے۔ اس لیے اس کا سوال ہی نہ تھا کہ وہ معاہدہ کے لیے ایسا خاکہ پیش کریں جس میں قطع رحم کی دفعہ رکھی گئی ہو۔ باعتبار حقیقت رسول اللہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ میں ہر قیمت پر قریش سے صلح کرلوں گا۔ اس بات کو کہنے کے باعزت طریقہ کے طور پر آپ نے فرمایا کہ میں قریش کی طرف سے صُلح کے ہر خاکہ کو منظور کرلوں گا بشرطیکہ اٌس میں قطع رحم نہ پایا جاتا ہو۔ حالانکہ پیشگی طور پر یہ معلوم تھا کہ وہ قطع رحم کی شرط کبھی نہیں رکھیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو جلد ہی یہاں کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اُس وقت مدینہ میں ایک شخص تھا جس کا نام عبداللہ بن ابی تھا۔ اپنے زمانہ کا ایک بڑا لیڈر تھا۔ وہ بھی اگر چہ اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ اسلام میں داخل ہو گیا مگر اُس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حسد کا جذبہ تھا جس کی وجہ سے وہ اکثر آپ کے خلاف شر انگیز باتیں کیا کرتا تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ کا ذکر مدینہ کے ایک مسلمان اسید بن حضیر سے کیا۔ انہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: یا رسول اللہ، ارفق به، فو اللہ لقد جاءنا اللہ بك، وإن قومه لينظمون له الخرز ليتوجوه، فإنه ليرى أنك قد استلبته ملكا (سيرت ابن هشام، 2/292) یعنی اے خدا کے رسول، اُس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیجئے، خدا کی قسم، اللہ آپ کو ہمارے پاس لے آیا اور اُس کی قوم کے لوگ اٌس کے لیے جواہر کا تاج تیار کر رہے تھے تا کہ وہ اُس کو بادشاہ بنائیں ۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ نے اُس کا مقام اٌس سے چھین لیا ہے۔ یہ حسن اعراض کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔ ایک صورت یہ تھی کہ عبداللہ بن ابی کی شر انگیزی کا جواب سختی کے ساتھ دیا جاتا۔ صحابی نے گویا اپنے جواب میں یہ بتایا کہ اس معاملہ میں سختی کی ضرورت حسن اعراض ہی اس مسئلہ کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔

اوپر ہجر جمیل کی وہ مثالیں ہیں جو سطور میں ہوتی ہیں۔ اب ایک بین السطور کی مثال جب کسی معاملہ میں ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اُس میں ایک اور بات پوشیدہ ہوتی ہے

جو اگرچہ زبان سے بولی نہیں جاتی مگر وہ حقیقی مطلوب کے طور پر اس میں شامل رہتی ہے۔ اس کی ایک مثال حدیبیہ کا معاہدہ ہے۔

حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہفتہ قیام فرمایا۔ اس دوران قریش نے مختلف قسم کی زیادتیاں کیں۔ مثلاً ایک صحابی کو تنہا پا کر انہیں تیر مار کر ہلاک کر دیا۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ باجماعت نماز ادا کر رہے تھے، اتنے میں قریش کے کچھ لوگ آئے اور آپ پر تیر برسانے لگے۔ اس طرح کی اشتعال انگیز صورت حال کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے دس سال کا امن معاہدہ کر لیا۔

اس معاہدہ کی دفعات حضرت عمر پر سخت ناگوار تھیں۔ وہ حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور کہا: يا أبا بكر أليس برسول الله ؟ قال: بلى، قال: أو لسنا بالمسلمين؟ قال: بلى، قال: أو قال: بلى، قال: فعلام نعطى الدنية في ديننا؟ (سیرت ابن ہشام، یعنی اے ابو بکر، کیا محمد اللہ کے رسول نہیں، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ عمر نے کہا کہ کیا ہم مسلمان نہیں، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ عمر نے کہا کہ کیا وہ مشرک نہیں، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ نے کہا کہ پھر ہم اپنے دین میں یہ ذلت کیوں گوارا کریں۔ روایات کے مطابق، حضرت عمر نے یہی بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کہی۔

یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی زیادتیوں کے باوجود اُن کی یک طرفہ شرطوں پر دس سال کا جو امن معاہدہ کیا تھا، وہ ایک نہایت اہم اسلامی مصلحت کی بنا پر اور وہ مصلحت یہ تھی کہ دشمن سے معاہدہ امن کر کے معتدل حالات پیدا کیے جائیں تا کہ اسلامی دعوت کا عمل مؤثر طور پر جاری ہو سکے۔ مگر یہ نصیحت نہ امن معاہدہ کے اندر لکھی گئی اور نہ حضرت عمر اور دوسرے صحابہ کی شدید ناگواری کے باوجود آپ نے حدیبیہ کے مقام پر اس کا اعلان کیا۔ یہ ہجر جمیل (حسن اعراض) کا دوسرا پہلو ہے۔ یہ دوسرا پہلو ہمیشہ مخفی حالت میں ہوتا ہے۔ اس پہلو کو لفظوں میں پانا ممکن نہیں۔ اگر اُس کو لفظوں میں لکھا یا بولا جائے تو اُس کی ساری معنویت

ختم ہو جائے گی۔

ایسی حالت میں لوگوں کے لیے صرف دو میں سے ایک رویہ درست ہے۔ یا تو وہ اتنا زیادہ ہوش مند ہوں کہ سطور کے اندر بین السطور کو پڑھ لیں۔ وہ اعلان کے بغیر اُس کی اہمیت کو دریافت کر جن لوگوں کے اندر اتنی ہوش مندی نہیں ہے اُن کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ اپنے لیڈر کی بصیرت پر اعتماد کریں۔ وہ صرف اعتماد اور حسن ظن کی بنا پر یہ عقیدہ رکھیں کہ اُن کے رہنما نے جو بات کہی ہے اُس کے پیچھے ضرور کوئی گہری مصلحت ہوگی۔ ہمارا کام اپنے رہنما کی اتباع کرنا ہے، نہ کہ اُس کی دیانت داری (integrity) پر شک کرنا۔

صلح حدیبیہ بظاہر ایک ایسی صلح تھی جو دشمن کے مقابلہ میں دب کر کی گئی۔ مگر اس کے اندر ایک غیر اعلان شدہ مقصد چھپا ہوا تھا اور وہ تھا۔ ٹکراؤ کو اَوائڈ کرکے اپنے لیے وقفہ تعمیر حاصل اگر یہ بات معاہدہ کے متن میں لکھ دی جاتی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان اُسی وقت اس کا اعلان کر دیتے تو صلح کے مقاصد سرے سے فوت ہو جاتے۔ اس قسم کے مقاصد ہمیشہ اعلان کے بغیر ہوتے ہیں، نہ کہ اعلان کے ساتھ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تک کہ بعد کو جب اس کا عملی نتیجہ ظاہر ہو گیا ، اُس وقت لوگوں نے جانا کہ اس صلح کے اندر کتنی بڑی مصلحت چھپی ہوئی تھی۔

یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت ابو بکر صدیق نے بعد کے زمانہ میں ان الفاظ میں بیان کی: ما كان فتح في الإسلام أعظم من فتح الحديبية، ولكن الناس يومئذ قصر رأيهم عما كان بين محمد وربه، والعباد يعجلون، والله تبارك وتعالى لا يعجل كعجلة العباد حتى تبلغ الأمور ما أراد الله (مغازى الواقدى، 2/610)۔ یعنی اسلام میں حدیبیہ کی فتح سب سے بڑی فتح تھی۔ لیکن معاہدہ کے دن لوگوں کو اس بات میں رائے قائم کرنے میں کوتاہی ہوئی جو محمد اور آپ کے رب کے درمیان تھا۔ انسان عجلت پسند ہے اور اللہ انسانوں کی طرح عجلت نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ معاملہ وہاں تک پہنچ جائے جو اللہ چاہتا ہے۔

ہجر جمیل (حسن اعراض) سادہ طور پر محض ایک بچاؤ کی تدبیر نہیں، بلکہ وہ با مقصد انسان کی سوچی سمجھی ایک مستقل اخلاقی روش ہے۔ با مقصد انسان کے سامنے ایک متعین منزل ہوتی ہے، جہاں پہنچنا اُس کا سب سے بڑا کنسَرن (concern) ہوتا ہے۔ اس لیے وہ راستہ کے ہر اُلجھاؤ سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے تاکہ وہ کسی رُکاوٹ کے بغیر اپنی آخری منزل تک پہنچ سکے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قدیم مکہ کے لوگوں نے پیغمبر اسلام کو بہت زیادہ ستایا تھا۔ اور آپ کے ساتھیوں پر اتنا زیادہ تشدد کیا کہ آپ کو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مکہ چھوڑ دینا پڑا۔ ترکِ وطن کے بعد بھی وہ آپ کے خلاف مسلسل جارحیت کرتے رہے۔

آخر کار وہ وقت آیا جب کہ پیغمبرِ اسلام، اللہ کی مدد سے مکہ کے فاتح بن گئے۔ اب وقت تھا کہ ماضی کے ظلم کی اُنہیں سزا دی جائے۔ عام رواج کے مطابق، اُن کو قتل کر دینا عین جائز تھا۔ پیغمبر اسلام نے اُن لوگوں کے ساتھ ہجر جمیل کی روش اختیار کی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب قریش کے یہ مجرمین آپ کے سامنے حاضر ہوئے تو آپ نے اُن سے پوچھا کہ تم کیا سمجھتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ: اخ کریم و ابن اخ کریم۔ شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں)۔

پیغمبرِ اسلام نے اس کے بعد فرمایا کہ ٹھیک ہے۔ میں تمہارے بارے میں وہی کہوں گا جو پیغمبرِ یوسف نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا۔ یعنی لا تثریب علیکم الیوم (12:96) آج تمہارے اوپر کوئی الزام نہیں۔ یہ کہہ کر آپ نے فرمایا کہ: جاؤ تم سب لوگ آزاد ہو۔ آپ نے اُن تمام لوگوں کو آزاد کر دیا جو اس سے پہلے آپ کے خلاف کھلے دشمن بنے ہوئے تھے۔ (دیکھیے، السنن الکبری للبیہقی، 9/199، حدیث نمبر 76-18275)

پیغمبرِ اسلام کا یہ عمل ایک با مقصد انسان کے عمل کی ایک اعلیٰ مثال تھی۔ پیغمبرِ اسلام کا مقصد یہ تھا کہ آپ بیت اللہ کو بتوں سے پاک کریں۔ مکہ کے لوگوں کو شرک سے نکال کر اُنہیں خدائے واحد کا پرستار بنائیں۔ اپنے دشمن انسان کو دوست انسان میں تبدیل کر کے توحید کی بنیاد پر وہ انقلاب

لائیں جس کے لیے آپ کو مبعوث کیا گیا تھا۔

پیغمبرِ اسلام کے یک طرفہ حسنِ سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ کے یہ تمام لوگ اسلام میں داخل راوی کہتے ہیں: فخرجوا کانما نشروا من القبور، فدخلوا في الإسلام۔ وہ لوگ وہاں سے اس طرح نکلے جیسے کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں اور وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ (دیکھیے، السنن الکبری للبیہقی، 9/199، حدیث نمبر 76-18275)

پیغمبر اسلام اگر اس کے برعکس اُن دشمنوں سے اُن کی ظالمانہ روش کا انتقام لیتے تو اس کے بعد یہ ہوتا کہ وہاں انتقام در انتقام کا دور چل پڑتا۔ ایک انتقام کے بعد دوسرا انتقام شروع ہو جاتا اور پھر حالات ایسا منفی رُخ اختیار کر لیتے کہ سارا تعمیری منصوبہ درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔ غیر فطری ردعمل جب کوئی خلاف مزاج بات پیش آئے تو اُس کے مقابلہ میں آدمی کی روش کی دو مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک جذباتی ردعمل کا طریقہ، اور دوسرا غیر جذباتی ردعمل کا طریقہ۔ عین وہی چیز ہے جس کو میڈیکل اصطلاح میں الرجی (allergy) کہا جاتا ہے۔ الرجی کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ الرجی نام ہے معتدل حالات میں غیر معتدل ردعمل کا۔ Abnormal reaction to normal things. مثلاً اپنے خلاف تنقید کو سُن کر غصہ ہونا، اس قسم کی ایک الرجی ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کی کسی بات پر تنقید کرتا ہے تو اُس کا معتدل اور فطری ردعمل یہ ہے کہ آپ کھلے ذہن کے ساتھ اُس کو سنیں اور کھلے ذہن کے ساتھ اُس پر غور کریں۔ اگر تنقید غلط ہے تو آپ کو چاہیے کہ آپ دلیل کے ساتھ اُس کا جواب دیں اور اگر تنقید درست ہے تو سیدھی طرح اُس کو مان لیں۔ اس کے برعکس تنقید کو سُن کر بگڑ جانا تنقید کا غیر معتدل اور غیر فطری انداز میں جواب دینا ہے۔ پہلی صورت مریضانہ ذہنیت کا ثبوت ہے اور دوسری صورت صحت مند ذہنیت کا ثبوت۔

اسی طرح مخالفانہ نعرہ کو سُن کر مشتعل ہو جانا، توہین کے کسی معاملہ پر بھڑک اٹھنا، اپنے راستہ

میں کوئی رکاوٹ دیکھ کر بگڑ جانا، اپنی سوچ کے خلاف سوچ کو برداشت نہ کر سکنا، یہ سب جذباتی ردعمل کی صورتیں ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ دوسروں کے خلاف نفرت اور تشدد میں پڑے رہتے ہیں۔ زندگی کے مثبت اور تعمیری رخ کا تجربہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

اس کے برعکس دوسرا طریقہ غیر جذباتی ردعمل کا طریقہ ہے۔ اسی کو قرآن میں ہجر جمیل ا گیا یعنی جب اپنے مزاج کے خلاف کوئی بات پیش آئے تو مشتعل نہ ہو کر ٹھنڈے ذہن کے ساتھ اس پر غور کرنا، اور سوچے سمجھے فیصلے کے تحت معتدل انداز میں اس کا جواب دینا۔ اس معتدل جواب کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ سادہ طور پر بس اُس کو نظر انداز کر دیا جائے۔ یعنی وہی رویہ جس کو عام زبان میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ کتے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی چلتا رہتا ہے۔ اسی طرح کبھی ہجر جمیل کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مخالف گروہ کی بدعملی کا جواب خوش عملی سے دیا اس کے پست اخلاق کے مقابلہ میں برتر اخلاق کا طریقہ اختیار کر کے اس کو مغلوب کر لیا اسی طرح کبھی حالات کا تقاضا یہ ہوسکتا ہے کہ دباؤ کی سیاست (pressure tactics) کا طریقہ اختیار کر کے اس کو خاموش ہونے پر مجبور کر دیا جائے۔

ہجر جمیل کی کوئی ایک لگی بندھی صورت نہیں۔ حالات کے اعتبار سے اس کی مختلف صورتیں تاہم جو صورت بھی اختیار کی جائے وہ سوچے سمجھے منصوبہ کی بنیاد پر ہوگی، نہ کہ بلا سوچے سمجھے ردعمل کی حیثیت سے۔ اس کا بنیادی مقصد اعراض کرنا ہوگا، نہ کہ اُلجھ جانا۔ وہ ہمیشہ امن کے اصول پر ہوگی، نہ کہ تشدد کے اصول پر۔ اس کے پیچھے کبھی بھی نفرت اور انتقام کا جذبہ نہیں ہوگا بلکہ صرف یہ جذبہ ہوگا کہ کسی نہ کسی طرح حسن تدبیر کے ذریعہ معاملہ کو ٹال دیا جائے تاکہ زندگی کی گاڑی معمول کے مطابق اپنے مطلوب رخ پر چلنے لگے۔

ہجر جمیل کا نشانہ خارجی مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ آدمی کی خود اپنی ذات ہوتی ہے۔ ہجر جمیل کا نشانہ یہ نہیں ہوتا کہ خود مسئلہ کا خاتمہ کر دیا جائے۔ اُس کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ مسئلہ کو اپنے خلاف مسئلہ بننے سے روک دیا جائے۔

Printed page