Al-Risala · October 2017

اجتہاد کیا ہے

Al-Risala, October 2017, pp. 22–25

By Maulana Wahiduddin Khan

اجتہاد کے لفظی معنیٰ ہیں بھر پور کوشش کرنا۔ شریعت میں یہ لفظ اس فکری کوشش کے لئے بولا جاتا ہے جب کہ نئے حالات کے اندر قرآن و سنت کی روشنی میں دین کا از سر نو انطباق (re-application) معلوم کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ اجتہاد احکام کے استنباط کے سلسلہ میں ایک اہم اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حالات اور زمانہ کی تبدیلی سے بار بار ایسی صورتیں پیش آتی ہیں جب کہ دین کی اصل روح کو برقرار رکھتے ہوئے نئے حالات میں ان کا از سر نو انطباق تلاش کیا جائے۔

اجتہاد کا یہ عمل اسلام کی تاریخ میں مسلسل جاری رہا ہے، پیغمبر کی زندگی میں بھی اور پیغمبر کی وفات کے بعد بھی۔ مگر اسلام کی بعد کی صدیوں میں ایسا ہوا کہ بعض اسباب سے اجتہاد کا یہ عمل زیادہ تر جزئی مسائل تک محدود ہو کر رہ گیا۔ کُلّی یا بنیادی نوعیت کے مسائل میں اجتہاد کا یہ عمل حقیقی طور پر جاری ہی نہ ہوسکا۔

اس معاملہ کی ایک مثال وہ ہے جو قرآن کی آیت: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) سے تعلق رکھتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، خلافتِ راشدہ کے بعد بنو امیہ کی حکومت قائم ہوئی۔ انہوں نے دمشق کو اپنا دار السلطنت بنایا۔ اس زمانہ میں عبداللہ بن زبیر (وفات 73ھ) نے حجاز میں اپنی علیحدہ خلافت قائم کر لی۔ یہ خلافت نو سال تک باقی رہی۔ بنو امیہ کے گورنر الحجاج سے ان کا ٹکراؤ ہوا۔ اس ٹکراؤ کے وقت ان کے قریبی افراد نے ان کا ساتھ یہاں تک کہ وہ تنہا لڑتے ہوئے حجاج کی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔ اس واقعہ کو اسلام کی تاریخ میں فتنہ ابن الزبیر کہا جاتا ہے۔ جس زمانہ میں یہ جنگ ہو رہی تھی، عبد اللہ بن عمر (وفات 73ھ) موجود تھے۔ مگر وہ اس جنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ ابن الزبیر کے کچھ حامی ان کے پاس گئے اور انہیں عار دلاتے ہوئے کہا کہ آپ اس جنگ میں شامل ہو کر کیوں

جب کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة۔ عبداللہ بن عمر نے جواب دیا کہ جو کام کرنا تھا وہ ہم نے کر دیا، یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو گیا (قد فعلنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ كان الإسلام قليلا، فكان الرجل يفتن في دينه إما يقتلونه وإما يوثقونه، حتى كثر الإسلام فلم تكن فتنة)۔ صحیح البخاری، حدیث عبداللہ بن عمر کا یہ قول میرے نزدیک کلیاتی امور میں اجتہاد کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ صحابی رسول نے اپنی مجتہدانہ بصیرت سے سمجھا کہ مذکورہ آیت میں جو حکم دیا گیا وہ قتال برائے استیصال فتنہ تھا، نہ کہ قتال برائے قتال۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب فتنہ ختم ہو گیا تو قتال بھی ختم ہو گیا۔ اب وہ محنت ان مواقع دعوت کو استعمال کرنے کے لیے کی جائے گی جو کہ فتنہ کے خاتمہ کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔

عبداللہ بن عمر کے اس قول کی مزید تفصیل عمر بن عبدالعزیز کے ایک قول سے معلوم ہوتی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز مدینہ میں عبداللہ بن عمر کی وفات سے 12 سال پہلے 61 ھ میں پیدا انہوں نے اپنے دور حکومت میں خراسان کے گورنر الجراح بن عبداللہ الحکمی کو لکھا تھا : إن الله إنما بعث محمدا صلى الله عليه وسلم داعيا، ولم يبعثه جابيا (اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف داعی بنا کر بھیجا تھا، اللہ نے آپ کو ٹیکس وصول کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مشن دعوت تھا، وہ قتال کے لئے یا زمین پر قبضہ کر کے اُس پر حکومت قائم کرنے کے لئے نہیں بھیجے گئے۔ جب اللہ تعالیٰ نے دعوت کے راستہ کی رکاوٹیں ختم کر دیں تو اس کے بعد آپ کا اور آپ کے اصحاب کا کام یہ ہو گیا کہ اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچائیں۔

یہ اجتہاد کی وہ مثالیں ہیں جو ایک جلیل القدر صحابی اور ایک جلیل القدر تابعی نے دور اول میں قائم کیں۔ مگر اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کی تاریخ میں ان کا یہ اجتہاد عملاً رائج نہ ہو سکا۔ مسلمانوں کی بعد کی نسلیں بدستور جنگ و قتال میں مشغول رہیں، اور آج تک مشغول ہیں۔

طور پر دعوت کے میدان میں سرگرم نہ ہو سکیں۔ اگرچہ بعد کی صدیوں میں بھی اسلام مسلسل پھیلتا رہا مگر وہ زیادہ تر اپنی فطری کشش کے زور پر پھیلا ہے، نہ کہ داعیوں اور مبلغوں کی کسی منظم کوشش کے زور پر۔

اصل یہ ہے کہ ضرورت تھی کہ صحابی اور تابعی کے مذکورہ قول کی بنیاد پر ایک مکمل نظریہ تشکیل دیا اس کو ایک آئیڈیالاجیکل سسٹم کے طور پر جامع انداز میں مرتب کیا جائے۔ مگر بعد کے مسلم علماء یہ کام نہ کر سکے۔ اور بعد کے لوگوں کی یہی کوتاہی اس کا سبب بن گئی کہ بعد کی تاریخ کا سفر دعوت کے رخ پر جاری ہونے کے بجائے قتال کے رخ پر جاری ہو گیا جو بدستور آج تک قائم ہے۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لئے ایک متوازی مثال لیجئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: کما تکونون یولیٰ او يؤمر علیکم (مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر 577)۔ جیسے تم ہو گے، ویسے ہی تمہارے حکمراں ہوں گے۔ اس حدیث میں ایک عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ قدیم زمانہ میں سیاست کا مرکز بادشاہ ہوا کرتے تھے۔ اس قول میں اس جمہوری اصول کی طرف رہنمائی دی گئی جس میں سیاست کا مرکز عوام ہوں۔ قدیم سیاسی نظام کی بابت عربی میں یہ مقولہ تھا: الناس علی دین ملو کھم ۔ مذکورہ قول رسول میں اس مقولہ کو گویا بدل کر اس طرح کر دیا گیا: الملوک علی دین الناس۔

اس معاملہ کا ایک پہلو یہ تھا کہ تاریخ کو بادشاہ رُخی ہونے کے بجائے عوام رُخی ہونا چاہیے۔ قدیم زمانہ میں تاریخ بادشاہ نامہ ہوا کرتی تھی۔ بادشاہوں کے واقعات کو قلمبند کرنے کا نام تاریخ تھا۔ مذکورہ قول رسول میں یہ رہنمائی تھی کہ تاریخ کو وسیع تر معنوں میں پوری انسانیت کے احوال پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ صرف حاکم کے احوال پر۔ قول رسول میں مذکورہ اشاراتی رہنمائی کے باوجود بعد کی کئی صدیوں تک تاریخ نویسی کا یہ طریقہ عملاً جاری نہ ہو سکا۔ حتیٰ کہ اُس دور میں اسلام کی جو تاریخیں لکھی گئیں وہ بھی قدیم طریقہ کے مطابق، زیادہ تر سیاسی احوال تک محدود رہیں۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ مذکورہ مجتہدانہ اصول کی بنیاد پر تاریخ نویسی کا ایک مکمل فلسفہ تیار نہ کیا جا سکا۔

یہ کام پہلی بار ابن خلدون (وفات 808ھ) نے کیا۔ ابن خلدون نے اپنے مشہور مقدمہ میں تاریخ نویسی کے جدید اصول کو ایک مکمل فلسفہ کی شکل میں مرتب کیا۔ اس کی یہ کتاب اتنی اہم تھی کہ دنیا کی تمام بڑی بڑی زبانوں میں اس کے ترجمے کیے گئے۔ اس کتاب نے عالمی ذہن پر زبردست اثر ڈالا۔ یہاں تک کہ اس کے بعد تاریخ نویسی کا قدیم اسلوب ختم ہو گیا اور جدید اسلوب ساری دنیا میں رائج ہوا۔ ابن خلدون نے جس طرح تاریخ نویسی کے معاملہ میں مذکورہ قولِ رسول کو ایک جامع نظام فکر کی صورت میں مرتب کیا۔ ضرورت تھی کہ اُسی طرح دعوت کے معاملہ کو بھی ایک جامع نظام فکر کی صورت میں مرتب کیا جائے۔ مگر اس کام کے لئے اجتہاد کلی کی صلاحیت درکار تھی، جب کہ ہمارے علماء اجتہاد کو جزئی مسائل تک محدود کیے ہوئے تھے۔ یہی واحد وجہ ہے جس کی بنا پر ایسا ہوا کہ دعوت کی بنیاد پر جامع نظام فکر تشکیل نہ دیا جاسکا۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا جو فکر ہے، اس کی ایک نمائندگی الاخوان المسلمون کے ذریعہ الاخوان المسلمون 1920 میں مصر میں قائم کی گئی۔ اس کے ابتدائی لیڈر حسن البناء اور سید قطب، وغیرہ تھے۔ اس کو غیر معمولی پھیلاؤ حاصل ہوا۔ الاخوان المسلمون نے اپنے عقیدہ وعمل کے لیے جو نعرہ اختیار کیا وہ یہ تھا: الإسلام ديننا والجهاد منہ جنا (اسلام ہمارا دین ہے اور جہاد ہمارا طریق عمل ہے) لیکن مجتہدانہ بصیرت کے ساتھ حالات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس وقت اخوانی لیڈروں کو یہ جاننا چاہیے تھا کہ ان کے لئے زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز طریقہ وہ ہے جو مبنی بر امن ہو، نہ کہ مبنی بر تشدد۔ اس لحاظ سے زیادہ صحیح بات یہ تھی کہ وہ یہ اعلان کریں : الإسلام ديننا والدعوة منہ جنا (اسلام ہمارا دین ہے اور دعوت ہمارا طریق عمل ہے)۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دیں۔ مگر ان کی تمام قربانیاں حبطِ اعمال کا شکار ہو گئیں۔ ان کا وہ حال ہوا جس کو ایک اسرائیلی پیغمبر نے ان الفاظ میں بتایا تھا: تم نے بہت سا بویا پر تھوڑا کاٹا۔ تم کھاتے ہو پر آسودہ نہیں ہوتے۔ تم پیتے ہو پر پیاس نہیں بجھتی۔ تم کپڑے پہنتے ہو پر گرم نہیں ہوتے اور مزدور اپنی مزدوری سوراخ دار تھیلی میں جمع کرتا ہے۔ (بائبل، حجی، 1:6)

Printed page