فطری شناخت
Al-Risala, October 2017, pp. 35–36
By Maulana Wahiduddin Khan
بے پردگی اور با پردگی دونوں اپنی حقیقت کے اعتبار سے علامتی الفاظ ہیں۔ با پردگی اس بات کی علامت ہے کہ عورت اپنی نسائیت کو محفوظ رکھتے ہوئے دنیا میں زندگی گزارے۔ برعکس ، بے پردگی اس بات کی علامت ہے کہ عورت اپنی نسائیت کو کھودے، وہ اپنی فطری شناخت کو مٹا کر ایک قسم کی مصنوعی زندگی گزارنے لگے۔
حدیث کی کتابوں میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : أنه لعن المتشبهات من النساء بالرجال، والمتشبهين من الرجال بالنساء (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4097)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن عورتوں پر لعنت کی ہے جو مردوں کی مشابہت کریں۔ آپ نے اُن مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کی مشابہت کریں۔ یہ وہی چیز ہے جس کو شناخت (identity) کہا جاتا ہے، مرد اگر اپنی فطری وضع کو چھوڑ کر عورت کی مانند بن جائے اور عورت اگر اپنی فطری وضع کو چھوڑ کر مرد کی طرح بن جائے تو یہ دونوں ہی اللہ کے یہاں سخت مبغوض ہیں۔ جس کو جیسی وضع کے ساتھ بنایا ہے وہی اُس کی فطری پہچان ہے۔ مرد اور عورت دونوں کو چاہیے کہ وہ اس فطری وضع کو کسی حال میں نہ چھوڑیں۔ وہ فطرت کی وضع پر قائم رہتے ہوئے زندگی گزاریں۔ با پردگی کسی عورت کے لیے اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنی فطری نسائی قدروں کو محفوظ کیے ہوئے ہے۔ وہ قدریں یہ ہیں_ سنجیدگی، پاکدامنی، اصول پسندی، شرافت، حساسیت، فرائض کی اہمیت، بامقصدیت، وغیرہ۔ اس کے مقابلہ میں بے پردگی اس بات کی علامت ہے کہ عورت اپنی نسائی قدروں کی حفاظت میں ناکام رہی ہے۔ وہ کھوئی ہوئی قدریں یہ ہیں_ غیر سنجیدگی، اخلاقی بے قیدی، عدم شرافت، بے حسی، فرائض حیات سے بے رغبتی اور بے مقصدیت، وغیرہ۔ پردہ کا مطلب معروف معنوں میں محض "برقعہ" یا سر پر اسکارف باندھنا نہیں ہے۔ کسی عورت کے با اصول ہونے کی ایک پہچان ہے۔ ایسی عورت اپنی نسائی شناخت کے ساتھ
دوسروں کو بتاتی ہے کہ وہ ایک با مقصد خاتون ہے۔ وہ واجبات حیات کو ہر قیمت پر ادا کرنے
اصولی اور معیاری اعتبار سے اسلام میں عورت اور مرد کا مقام عمل (workplace) الگ یعنی اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ عورتیں بھی مردوں کی طرح باہر کام کریں۔ اس شرط کے ساتھ کہ وہ با پردہ ہوں اور اُن کا مقام عمل مردوں سے الگ ہو۔ تا ہم حالات کے مطابق، اگر یہ ممکن نہ ہو کہ عورت مردوں سے مکمل طور پر الگ رہ کر کام کرے تو معاشی اور سماجی ضرورت کے تحت اس شرط میں رخصت دی جا سکتی ہے۔ وہ یہ کہ ضروری تقاضہ کی بنا پر مقامِ عمل تو پوری طرح الگ نہ ہو مگر پھر بھی یہ ضروری ہوگا کہ عورت با پردہ ہونے کی شرط کو نہ چھوڑے۔ وہ اپنی نسائی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے مشترک مقامات عمل پر اپنا کام کرے۔ سجدہ اظہارِ عبودیت کا آخری ماڈل (final model) ہے۔ اس دنیا میں اللہ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں، ان میں سے ہر ایک اپنے آخری ماڈل پر ہے۔ چیونٹی، شیر، دریا، پہاڑ، درخت، انسان، غرض ہر چیز، حتیٰ کہ گھاس بھی اپنے آخری ماڈل پر ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا آرٹسٹ بھی کسی چیز کا کوئی اور ماڈل تیار نہ اس دنیا کی ہر چیز اتنی مکمل ہے کہ اس کے آگے تکمیل کا کوئی اور درجہ پانا انسانی عقل کے لئے ممکن نہیں۔
یہی معاملہ اسلامی عبادت کا ہے جو اللہ نے انسان کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ اہم جزء سجدہ ہے جس کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ واسجد واقترب (96:19) ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سجدہ انسانی عبودیت کے اظہار کا آخری ماڈل ہے، اس کے آگے کوئی اور ماڈل قابلِ تصور نہیں۔ لئے وہ موجودہ دنیا میں قربتِ الہی کا بھی آخری لمحہ ہے۔