دعوت اور ظلم
Al-Risala, November 2017, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
بہت سے مسلمان ہیں، جو یہ کہتے ہیں کہ ہم کو غیر مسلموں میں دعوت کا کام کرنا ہے۔ ساتھ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم یہ دیکھیں کہ مسلمانوں کے خلاف ظلم ہو رہا ہے۔ تو ہمیں ظلم کے خلاف لڑائی بھی کرنی ہے۔ ہم کو دونوں کام کرنا ہے، ہم کو دعوت کا کام بھی کرنا ہے، اور اسی کے ساتھ ہم کو ظلم کے خلاف لڑنا بھی ہے— یہ قرآن کی زبان نہیں ہے، بلکہ وہ قومی لیڈر کی زبان ہے۔ قرآن کے مطابق، دعوت کا کام کرنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ داعی اپنے مدعو کا ناصح (خیر خواہ) بنے۔ اگر خیر خواہی نہیں تو دعوت بھی نہیں۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: فَلَا يُنَازِعَنَّكَ فِي الْأَمْرِ وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ (67: پس اس معاملہ میں وہ تم سے ہرگز نزاع نہ کریں۔ اور تم اپنے رب کی طرف بلاؤ۔ وہ تم سے ہرگز نزاع نہ کریں، یہ ایک عربی اسلوب ہے۔ عربی میں کہا جاتا ہے کہ لا یضر بنك زید۔ اس جملہ کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ زید ہرگز تم کو نہ مارے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ زید کو ہرگز مارنے کا موقع نہ دو۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق داعی کو ظلم کے مقابلے میں صبر کرنا ہے، نہ کہ لڑائی کرنا۔ داعی کو اپنے مدعو سے کسی حال میں لڑنا نہیں ہے۔ بظاہر یہ دکھائی دے کہ مدعو ظلم کر رہا ہے تب بھی داعی کو چاہیے کہ وہ ظلم کو پیچ (manage) کرے، نہ کہ ظلم کے نام پر مدعو سے لڑائی کرے۔
دعوت الی اللہ کا کام ایک خالص اخروی کام ہے۔ اس کام کو قرآن میں انذار و تبشیر کا کام کہا دعوت کا کام یہ ہے کہ انسان کو یہ بتایا جائے کہ اللہ رب العالمین کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) کیا ہے۔ انسان کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایسے متقی انسان کی حیثیت سے ڈیولپ کرے کہ آخرت میں اس کو ابدی جنت میں داخلہ دیا جائے۔ دعوت ایک ایسا کام ہے، جو غیر قومی بھی ہے، اور غیر سیاسی بھی۔ اسلام میں صرف دفاعی جنگ ہے۔ دفاعی جنگ حاکم کا داعی کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔