Al-Risala · November 2017

روشن ہدایت

Al-Risala, November 2017, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

دین اسلام ہر اعتبار سے ایک واضح دین ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قد تركتكم على البيضاء ليلها كنهارها، لا يزيغ عنها بعدي إلا هالك (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر (43)۔ یعنی میں تمھارے پاس ایک روشن دین چھوڑ رہا ہوں، اس کی راتیں بھی اس کے دن کی طرح ہیں، میرے بعد کوئی اس سے دور نہیں ہوگا سوائے اس آدمی کے جو ہلاک ہونے والا ہے۔

یہاں یہ سوال ہے کہ جب دین اتنا واضح ہے تو اس میں اختلافات کیوں۔ قرآن کی تفسیر میں اختلاف، حدیث کی شرح میں اختلاف، فقہی مسائل میں اختلاف، وغیرہ۔ رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ تم اس طرح نماز پڑھو، جس طرح مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ لیکن آپ کے بعد نماز کے مسائل میں اتنے اختلافات ہوئے کہ مسلمانوں کے درمیان کئی مستقل فقہی اسکول بن گئے، وغیرہ۔ یہ اختلاف ایک مطلوب اختلاف ہے۔ یہ اختلاف اس لیے ہے تا کہ لوگ اس پر تدبر لوگ خود اپنے ذہن کو استعمال کریں۔ یہاں تک کہ ہر شخص دین کو ری ڈسکور (rediscover) کرے، ہر آدمی خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) پر

نجران کے کچھ حق کے متلاشی لوگ مدینہ آئے تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچائی کو یہ قصہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ (5:83)۔ یعنی اور جب انھوں نے اس کلام کو سنا جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کی معرفت حاصل کرلی۔

آیت میں و اذا سمعوا کے بعد بظاہر علموا (انھوں نے جان لیا) آنا چاہیے تھا۔

یہاں عرفوا کا لفظ آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سننے کے بعد ابتدائی طور پر انھوں نے سچائی کو صرف جانا تھا۔ مگر اپنی طرف سے تدبر کا اضافہ کر کے انھوں نے اپنے جاننے کو معرفت ایسا اس لیے ہوا تاکہ وہ خود دریافت کردہ معرفت پر کھڑے ہونے کی سعادت حاصل کر سکیں۔

انسان کو اس کے خالق نے صحیح فطرت پر پیدا کیا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (91:8)۔ انسان کے آس پاس جو دنیا ہے جس کو قرآن مجید میں زمین و آسمان کے الفاظ میں تعبیر کیا گیا ہے۔ اس میں ایسی آیات (signs) ہیں جو خاموش زبان میں سچائی کا اعلان کر رہے ہیں۔ تاریخ کے تمام واقعات دین خداوندی کے صداقت کے گواہ ہیں۔ نیز یہ کہ پیغمبر کے ذریعہ قرآن وسنت کی صورت میں ہدایت کا پورا سامان انسان کے لیے مہیا کر دیا گیا ہے، وغیرہ۔ اس کے باوجود قانون فطرت کے مطابق، دنیا کی تمام چیزوں کے ساتھ ہمیشہ ایک شبہ کا عنصر (element of doubt) موجود رہتا ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ وَلَوْ أَنْزَلْنَا مَلَكًا لَقُضِيَ الْأَمْرُ ثُمَّ لَا يُنْظَرُونَ۔ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا لَجَعَلْنَاهُ رَجُلًا وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِمْ مَا يَلْبِسُونَ (9: 8-7) یعنی اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا۔ اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو معاملہ کا فیصلہ ہو جاتا، پھر انھیں کوئی مہلت نہ ملتی۔ اور اگر ہم کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے تو اس کو بھی آدمی بناتے اور ان کو اسی شبہ میں ڈال دیتے جس میں وہ اب پڑے ہوئے ہیں۔

سچائی کی ہدایت اگر چہ انسان کو اللہ رب العالمین کی طرف سے دی گئی ہے۔ لیکن اللہ کو یہ منظور ہے کہ وہ اپنے ہدایت یاب بندوں کو اس بات کا کریڈٹ دے کہ انھوں نے اپنی عقل کو استعمال کر کے ذاتی طور پر سچائی کو دریافت کیا۔ اختلافات کے جنگل میں وہ خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) پر کھڑے ہوں۔ یہ اللہ رب العالمین کی طرف سے انسان کے لیے ایک مزید عنایت کا معاملہ ہے۔

Printed page