Al-Risala · November 2017

دین میں عقل کا استعمال

Al-Risala, November 2017, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

دین میں عقل کا استعمال بلاشبہ عین درست ہے۔ خود قرآن میں لب (عقل) کے استعمال کی ترغیب دی گئی ہے (ص: 29)۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی یونانی کلامیات کے ماڈل پر اسلام کو جانچنے کی کوشش کرے۔ جیسا کہ الرازی (وفات : 311 ھ) اور الجوینی (وفات : 478ھ) جیسے لوگوں نے کیا۔ قدیم زمانے میں مسلم متکلمین نے دین میں عقل کو استعمال کیا تو اس پر علماء نے سخت نکیر کی۔ مثلاً امام مالک ابن انس ، اور امام ابو یوسف نے کہا تھا: من طلب الدین بالکلام تزندق (ذم الكلام وأهله للهروي، المدينة المنورة، 1998، 202 & 5/71)۔ نے دین کو کلام کے ذریعہ حاصل کرنا چاہا، وہ زندیق ہو گیا۔ یہ قول بجائے خود بلاشبہ درست ہے۔ لیکن وہ خود عقل کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ عقل کے ایک غلط استعمال کے اعتبار سے ہے، جو کہ حقیقت میں لفظی موشگافی تھا، نہ کہ حقیقی معنوں میں عقل۔ حقیقت یہ ہے کہ عقل کا ارتقا صحیح معنوں میں اس وقت سے ہوا، جب کہ دنیا میں عقلی سائنس (scientific reasoning) وجود میں آئی۔ دین میں عقل کے استعمال کا مطلب ہے کہ دینی مسائل کے معاملے میں عقلی اطمینان (البقرۃ: 260) حاصل کرنا۔ تاکہ انسان جب اس دنیا سے جائے تو قلب سلیم (الشعراء: 89) کے اس کی ایک مثال قرآن کی ایک آیت ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: توبہ جس کو قبول کرنا اللہ کے ذمہ ہے، وہ ان لوگوں کی ہے جو بری حرکت نادانی سے کر بیٹھتے ہیں، پھر جلد ہی تو بہ کر لیتے وہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول کرتا ہے اور اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے (4:17)۔ قرآن کی اس آیت میں توبہ قریب (speedy repentance) کا لفظ کیوں آیا اس کا جواب علم النفس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے دماغ کے تین حصے ہیں: شعور (conscious mind)، تحت شعور (subconscious mind)، لاشعور (unconscious mind)۔ یہ فرق انسان کی فطری ساخت کے مطابق ہے۔

جب آدمی غلطی کرتا ہے تو ابتداءاً غلطی کا شعور اس کے زندہ حافظہ (living memory) میں ہوتا اس وقت آدمی اگر اپنا محاسبہ (introspection) کرے تو ابتدائی مرحلہ میں آدمی اپنی غلطی کو شدت کے ساتھ محسوس کرے گا، اور جلد ہی وہ اپنی غلطی کی اصلاح کرلے گا۔

لیکن اگر آدمی محاسبہ میں دیر کرے۔ تو اس کے بعد غلطی کا احساس اس کے زندہ شعور سے گزر کر اس کے دماغ کے اس حصہ میں چلا جائے گا، جس کو تحت شعور کہا جاتا ہے۔ اب غلطی کے بارے میں اس کے اندر حساسیت بہت کم ہو جاتی ہے۔ آدمی نے اگر اب بھی اپنا محاسبہ نہیں کیا تو اس کے بعد تیسرا درجہ یہ آتا ہے کہ غلطی کا احساس آدمی کے لاشعور میں چلا جاتا ہے۔ درجے کو پہنچنے کے بعد آدمی کے اندر غلطی کے بارے میں کامل غفلت کا دور آ جاتا ہے۔ اسی کو قرآن میں طولِ امد سے قساوت کا پیدا ہونا بتایا گیا ہے (الحدید: 16)۔ اسی نفسیاتی تجزیے کا دوسرا نام دین کے معاملے میں عقل کا استعمال کرنا ہے۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک اور آیت قرآنی کا مطالعہ کیجیے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے : اے ایمان والو، تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اوپر مت کرو اور نہ اس کو اس طرح آواز دے کر پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو (49:2)۔

اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ صرف پیغمبر کی فضیلت یا پیغمبر کے معاملے میں ادب کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ اصلا وہ دین خداوندی کے اعتبار سے ہے۔ حبطِ اعمال کا یہ واقعہ پیغمبر کی مجلس میں بھی پیش آ سکتا ہے، اور پیغمبر کی مجلس کے باہر بھی۔ اصل یہ ہے کہ جب دین خداوندی کی کوئی بات ہو تو انسان کو چاہیے کہ نہایت سنجیدگی کے ساتھ وہ اس کو سنے۔ اگر وہ اس کو ایک غیر اہم بات کی طرح سنے گا تو دھیرے دھیرے وہ اس معاملے میں قساوت کا شکار ہو جائے گا، اور پھر بے شعوری کے اس درجے پر پہنچ جائے گا، جب کہ اس کے لیے اپنی اصلاح کرنا ہی ممکن نہ رہے۔ ایسے آدمی کا یہ انجام اس لیے ہوگا کہ اس نے قانون فطرت کے مطابق پہلے مرحلہ میں اپنا محاسبہ نہیں کیا۔

Printed page