مدح، تنقید
Al-Risala, November 2017, pp. 28–30
By Maulana Wahiduddin Khan
احادیث میں کثرت سے یہ تلقین کی گئی ہے کہ تم کسی کی مدح نہ کرو۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : إذا رأيتم المداحين، فاحثوا في وجوههم التراب (صحیح مسلم، حدیث نمبر 3002) یعنی جب تم مدح کرنے والوں کو دیکھو تو اُن کے منہ پر مٹی ڈال دو۔ اسی طرح ایک روایت میں آیا ہے: سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يثني علي رجل ويطريه في مدحه، فقال: فقال:أہلکتم أو قطعتم ظهر الرجل (صحیح بخاری، حدیث نمبر (2663)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی تعریف کر رہا ہے اور اُس کی تعریف میں وہ مبالغہ کر رہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے اس شخص کو ہلاک کر دیا یا یہ فرمایا کہ تم نے اُس کی کمر توڑ دی۔ اسی طرح خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارہ میں ایک روایت میں آیا ہے کہ انہوں نے کہا : المدح الذبح (الادب المفرد، حدیث نمبر 336) یعنی مدح کرنا آدمی کو ذبح کرنا ہے۔ اسی طرح ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت عمر نے ایک شخص کو دوسرے شخص کی تعریف کرتے ہوئے سنا تو انہوں نے کہا: عقر ت الرجل عقرک اللہ (الأدب المفرد، حدیث نمبر 335) یعنی تم نے اُس شخص کو ذبح کر دیا، اللہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کرے ۔
حدیث اور آثار کی کتابوں میں اس طرح کی بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ مدح کا طریقہ دینی مزاج کے خلاف ہے۔ بعض اوقات اعتراف واقعہ یا اور کسی مصلحت سے کسی کی تعریف کی جا سکتی ہے۔ مگر عمومی طور پر اسلام میں اُس چیز کو سخت نا پسند کیا گیا ہے جس کو مدح خوانی یا قصیدہ گوئی کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی تعریف مادح کے لیے مصلحت پرستی ہے اور ممدوح کے لیے اُس کو عجُب کی غذا دینا ہے۔ اس لیے یہ فعل مادح اور ممدوح دونوں کے لیے ہلاکت خیز ہے۔
تاہم یہ بات قابلِ غور ہے کہ احادیث میں تعریف کی مذمت تو کی گئی ہے مگر تنقید کی مذمت
نہیں کی گئی۔ غالباً کوئی بھی صحیح حدیث ایسی نہیں جس میں تنقید کے فعل کو اُس طرح مطلق طور پر مذموم قرار دیا گیا ہو جس طرح مدح کو مذموم قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس تنقید کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ مثلاً بہت سی حدیثوں میں لسان کے ذریعہ نہی عن المنکر کا حکم آیا ہے اور اُس کو ایمان کی لازمی علامت بتایا گیا ہے۔ اسی طرح حدیث میں بتایا گیا ہے کہ سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا ایک افضل جہاد ہے، وغیرہ۔
ظاہر ہے کہ اس قسم کا کام تنقید ہی کی زبان میں ہوگا، نہ کہ تعریف کی زبان میں۔ ایک شخص کسی برائی کو دیکھے، خواہ برائی کرنے والا کوئی عام آدمی ہو یا خاص آدمی، اور پھر وہ اُس کے خلاف لسانی جہاد کرے تو یہ لسانی جہاد عین وہی فعل ہو گا جس کو تنقید کہا جاتا ہے۔ نقد یا تنقید دراصل لسانی جہاد کا ہی دوسرا نام ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ شریعت میں مدح اور تنقید کے درمیان یہ فرق کیوں کیا گیا ہے۔ فرق کا سبب یہ ہے کہ مدح ایک اخلاقی برائی ہے جب کہ تنقید ایک اعلیٰ درجہ کی علمی اور اخلاقی خوبی کسی معاشرہ میں مدح کا رواج پورے معاشرہ کو منافقت کا معاشرہ بنا دیتا ہے۔ مقابلہ میں جس سماج میں تنقید اور اختلاف کو سننے کا مزاج ہو وہ معاشرہ ذہنی اور فکری ترقی کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔
تنقید ایک مسلسل احتساب کا عمل ہے۔ تنقید زندہ معاشرہ کی علامت ہے۔ کسی معاشرہ میں تنقید کا عمل نہ ہونا یا تنقید کو برا سمجھنا صرف اُس وقت ہوتا ہے جب کہ معاشرہ زوال کا شکار ہو گیا ہو۔ زندگی کی حرارت کھو بیٹھا ہو۔ کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کی صلاحیت اُس کے اندر باقی نہ رہی ہو۔ تنقید کی حیثیت ایک علمی اور فکری چیلنج کی ہے۔ چیلنج ہر قسم کی ترقی کی واحد ضمانت ہے۔ میں چیلنج نہ ہو وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ اسی طرح جو معاشرہ تنقید سے محروم ہو جائے وہ علمی اور فکری ترقی سے بھی محروم ہو جائے گا۔
اس معاملہ کی تفصیل میں نے اپنی کتاب دین انسانیت کے باب "حریت فکر" میں بیان
کی ہے اور اسلام کے دور اول کی مثالوں سے اُس کو واضح کیا ہے۔ تاہم تنقید اور تنقیص میں بہت زیادہ فرق ہے۔ یہاں تک کہ یہ کہنا درست ہوگا کہ تنقید مکمل طور پر جائز ہے اور تنقیص مکمل طور پر تنقید بلاشبہ ایک مطلوب چیز ہے اور تنقیص بلاشبہ ایک غیر مطلوب چیز۔ تنقید دراصل علمی اختلاف کا دوسرا نام ہے۔ حقائق و واقعات کی روشنی میں خالص موضوعی انداز میں کسی معاملہ کا تجزیہ کرنا وہ چیز ہے جس کو تنقید کہا جاتا ہے۔ تنقید خواہ بظاہر کسی شخص کے افکار و آراء کے حوالہ سے ہو، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ معاملہ کی اصولی وضاحت ہوتی ہے۔ غلط اور صحیح کے درمیان تقابل ہوتا ہے، نہ کہ ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان۔ اس کے برعکس، تنقیص ایک شخصی عیب جوئی ہے۔ تنقیص کرنے والے کے سامنے اصلاً کسی امر حق کی وضاحت نہیں ہوتی بلکہ ایک شخص کی تذلیل اور تحقیر ہوتی ہے جس کو اُس نے کسی وجہ سے اپنا مخالف سمجھ لیا ہے۔ تنقیص صرف ایک غیر اخلاقی فعل ہے، وہ کسی درجہ میں بھی کوئی علمی تنقید کا عمل اگر علمی اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے تو تنقیص کا عمل کسی شخص کے خلاف ذاتی سب وشتم کی بنیاد پر۔
تبیین حق سے مراد دعوت اعظم ہے۔ یعنی اعلیٰ ترین سطح پر دعوت حق کی ادائیگی۔ وہی بات ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)_ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور ان کے انفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو قرآن میں آفاق وانفس کی آیات کے ذریعے حق کی اعلیٰ تبیین کہا گیا ہے، اور حدیث میں اس کو شہادتِ اعظم کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔