القاب کلچر
Al-Risala, November 2017, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان فطری طور پر عظمت پسند ہے۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ اگر انسان کے پاس حقیقی عظمت نہ ہو تو وہ عظمت کے الفاظ بول کر اپنے اس جذبے کی تسکین حاصل کرتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں، جن کے اندر القاب کلچر ترقی کرتا ہے۔ مثلاً اپنی پسند کے افراد کو بڑے بڑے القاب دینا۔ لیڈر، گریٹ تھنکر، گریٹ مائنڈ، وغیرہ۔
اس قسم کا القاب کلچر اسلام میں پسند نہیں کیا گیا ہے۔ چناں چہ صحابہ ہمیشہ سادہ الفاظ بولتے بڑے الفاظ کے ساتھ کسی کا ذکر کرنا، ان کے یہاں رائج نہ تھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ القاب ہمیشہ مبالغہ آمیز ہوتے ہیں۔ اسلام کی اسپرٹ یہ ہے کہ آدمی کو اس کی واقعی حیثیت کے مطابق پکارا مثلاً حضرت عمر نے اپنے لیے امیر المومنین کا لقب اختیار کیا۔ کیوں کہ بطور واقعہ وہ امیر المومنین ہی تھے۔ ان الفاظ میں کسی قسم کا مبالغہ شامل نہ تھا۔ اس کے برعکس شخصی سلطنت کے زمانے میں حکمرانوں کو شاہنشاہ جیسے الفاظ بولنا، یعنی بادشاہوں کا بادشاہ، وغیرہ۔ یہ لفظ ایک مبالغہ کا لفظ کوئی بھی شخص حقیقت میں بادشاہوں کا بادشاہ نہیں ہوتا۔ لیکن ایسے الفاظ بول کر فرضی طور پر یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔
مگر اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے اندر القاب کلچر رائج ہو جائے، ان کے اندر لازماً ایک چیز ختم ہو جاتی ہے۔ وہ ہے حقیقت پسندانہ سوچ (realistic thinking)، یا ایز اٹ از سوچ (as it is thinking) ۔ اسی کو سائنٹفک ٹمپر (scientific temper) کہا جاتا ہے۔ کلچر حقیقت پسندانہ سوچ کا قاتل ہے۔ اسی حقیقت کو ایک حدیث میں دعا کے الفاظ کے طور پر اس طرح کہا گیا ہے، اے اللہ مجھے چیزوں کو ویسا ہی دکھا، جیسا کہ وہ ہیں (اللهم ارنا الاشیاء كما القاب کلچر غیر حقیقت پسندانہ مزاج پیدا کرتا ہے۔ جو لوگ اس مزاج کا شکار ہو جائیں، وہ کبھی کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے سکتے۔