Al-Risala · November 2017

تشدد کا سبب عدم قناعت

Al-Risala, November 2017, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے : قد افلح من أسلم و رزق كفافاً و قنعه الله بما آتاه (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 1054) یعنی وہ شخص کامیاب ہوا جو اسلام لایا اور جس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور وہ اُس پر قانع ہو گیا جو اللہ نے اُس کو دیا۔ اس حدیث میں قناعت کا ذکر ہے۔ قناعت کی نفسیات اگر کسی کے اندر پوری طرح پیدا ہو جائے تو وہ اُس کو مکمل طور پر امن پسند بنا دے گی۔ اس کے برعکس ، جن لوگوں کے اندر قناعت کی نفسیات نہ ہو وہ اپنی حالت پر غیر مطمئن رہیں گے، اور آخر کار جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہو کرمتشددانہ کارروائی شروع کر دیں گے تا کہ جس چیز کو وہ پر امن طور پر حاصل نہ کر سکے، اُس کو وہ تشدد کی طاقت سے حاصل کر لیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ قناعت سے امن کا مزاج پیدا ہوتا ہے، اور عدم قناعت سے تشدد کا مزاج۔ قناعت کا جذبہ آدمی کے اندر یہ نفسیات پیدا کرتا ہے کہ وہ ایک پایا ہوا انسان ہے۔ اور جو آدمی اپنے آپ کو پایا ہوا انسان سمجھے، وہ کبھی جھنجھلاہٹ اور تشدد کا شکار نہیں ہو سکتا۔ اس کے برعکس معاملہ اس انسان کا ہے جو عدم قناعت کی نفسیات میں مبتلا ہو۔ احساس محرومی کا شکار رہے گا۔ اُس کا یہ احساس اُس کو مسلسل اُکسائے گا کہ جو کچھ اُس نے نہیں پایا اُس کو وہ حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ اب اگر اُس نے دیکھا کہ وہ اپنی نہ پائی ہوئی چیز کو پر امن طریقہ سے حاصل نہیں کر سکتا تو وہ تشدد کے طریقوں کو استعمال کر کے اُس کو حاصل کرنا چاہے گا۔ وہ اُن تمام لوگوں کو اپنا دشمن سمجھ لے گا جن کو وہ اپنے خیال کے مطابق، اپنی خواہش کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔ وہ اُن لوگوں سے نفرت کرے گا۔ وہ اُن لوگوں کے خلاف لڑنے کے لیے ہتھیار جمع حالانکہ یہ سب نتیجہ ہوگا اس بات کا کہ وہ خدا کے دیے ہوئے پر راضی نہ ہو سکا، وہ قناعت کے بجائے عدم قناعت کا شکار ہو گیا۔

Printed page