ایک سنتِ رسول
Al-Risala, December 2017, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
سن چھ ہجری میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم فریق مخالف سے امن کا معاہدہ کرنا چاہتے طویل گفت و شنید کے بعد جب معاہدے کی دفعات طے ہو گئیں، اور ان کو کاغذ پر لکھا جانے لگا تو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدے کو لکھاتے ہوئے کہا : اكتب يا علي، هذا ما صالح عليه محمد رسول اللہ ۔ فریق ثانی کے لیڈر نے فوراً اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے۔ آپ محمد رسول اللہ کے بجائے محمد بن عبد اللہ لکھیے، جو کہ ہمارے اور آپ کے درمیان آپ نے بلا بحث کہا: امح یا علي، اللهم إنك تعلم أني رسولك، امح يا علي واكتب، هذا ما صالح علیه محمد بن عبد اللہ (مسند احمد، حدیث نمبر (3187)۔ یعنی اے علی، اس کو مٹا دو۔ اے اللہ، تو جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں۔ اے علی، مٹا دو اور لکھو، یہ وہ (دفعات) ہیں جن پر محمد بن عبد اللہ نے صلح کیا۔ اس کے بعد صلح کا معاہدہ طے پا گیا، اور آپ اپنے اصحاب کے همراه مدینہ واپس آگئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معاملہ بلا شبہ اللہ کی رہنمائی کے مطابق تھا۔ اللہ کی رہنمائی کے بغیر آپ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ سورہ الفتح میں اس کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں : وَيَهْدِيَكَ صِرَاطاً آپ کا یہ عمل بلا شبہ صراطِ مستقیم کا ایک جز ء تھا۔ اس لحاظ سے یہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک ابدی اصول ہے۔ جس طرح دور اول میں اصول کو اختیار کرنے کے نتیجے میں فتح مبین (48:1) حاصل ہوئی۔ بعد کے دور میں بھی فتح مبین کو حاصل کرنے کا طریقہ یہی اس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ مسلمانوں کو فتح مبین تک پہنچانے والا نہیں۔ منصوبہ بندی کا یہ طریقہ ہمیشہ دنیا میں باقی رہتا ہے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں اہل ایمان یہ چاہتے ہیں کہ ان کو یہ آزادی ہو کہ وہ قرآن کا پیغام ساری دنیا میں کھلے طور پر لیکن بار بار ایک رکاوٹ پیش آتی ہے۔ وہ یہ کہ آج کا انسان، اظہارِ رائے کی آزادی
(freedom of expression) کو انسان کا ایک مطلق حق (absolute right) سمجھتا ہے، اور اس کو وہ استعمال کرنا چاہتا ہے۔ حق کے اس استعمال کا دائرہ کبھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام کے بارے میں آزادانہ اظہار خیال کرتا ہے، اور اس کو اپنا نا قابل تنسیخ حق سمجھتا ہے۔ مسلمان اس طرح کے واقعات پر مشتعل ہو جاتے ہیں۔ وہ اس کو شتم رسول (blasphemy) قرار دے کر چاہتے ہیں کہ شاتم کو قتل کر دیں۔ آج کے لوگوں کے لیے مسلمانوں کی یہ روش قابل قبول نہیں۔ چناں چہ اس پر سخت نزاع شروع ہو جاتی ہے۔ اور دعوت اسلام کا کام جیو پرڈائز (jeopardize) ہو جاتا ہے۔
شتم رسول (blasphemy) پر ہنگامہ کرنا یا شاتم کو قتل کرنے کی کوشش کرنا، اصولاً اسلام کے خلاف ہے۔ قرآن کی کسی آیت یا رسول کے کسی قول میں یہ حکم موجود نہیں۔ تاہم بالفرض اگر کسی کا اصرار ہو کہ یہ اسلام کا ایک حکم ہے تب بھی ضروری ہے کہ مسلمان اس طرح کے واقعے پر مشتعل ہونا مکمل طور پر چھوڑ دیں۔ تا کہ دعوت اسلام کا کام کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ رسول کا رسول ہونا بلا شبہ اسلام کا ایک مسلمہ عقیدہ ہے۔ پھر بھی رسول اور اصحاب رسول نے رسول اللہ کے لفظ کو کاغذ سے مٹا دیا۔ اسی سنت پر مسلمانوں کو بھی عمل کرنا ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ اپنی روش کو بدل دیں تا کہ اسلام کا پر امن مشن کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل طور پر جاری رہے۔ روش کا نام حکمت (wisdom) ہے۔ حکمت، اسلام کا ایک لازمی اصول ہے۔ حکمت کے بغیر اسلام کا مشن کامیابی کے ساتھ جاری نہیں رہ سکتا۔
میرا عام تجربہ ہے کہ اسکولر لوگوں میں فکری ارتقاء مسلسل جاری رہتا ہے، جب کہ مذہبی لوگوں میں اس طرح فکری ارتقاء نہیں ہوتا۔ مذہبی طبقہ کے لوگ عام طور پر ذہنی ٹھہراؤ کا شکار رہتے ہیں۔ میں اکثر سوچتا رہا ہوں کہ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سیکولر لوگوں میں مسلسل فری ڈائیلاگ جاری رہتا ہے جب کہ مذہبی لوگوں میں فری ڈائیلاگ کا عمل جاری نہیں ہوتا۔