جامع تعبیر تاریخ
Al-Risala, December 2017, pp. 16–18
By Maulana Wahiduddin Khan
برٹش مورخ آرنلڈ ٹائن بی (Arnold J. Toynbee) نے بارہ جلدوں میں ایک کتاب تیار کی ہے ، جو دنیا کی انیس تہذیبوں (world civilizations 19) کا مطالعہ ہے۔ اس کی آخری جلد 1961ء میں چھپی ۔ تاہم یہ کتاب انسانی تاریخ کا جزئی مطالعہ ہے۔ کتاب کی ضرورت باقی ہے ، جو انسانی تاریخ کی جامع تعبیر (comprehensive interpretation of history) پیش کرے۔
میں نے اس موضوع کا مطالعہ کیا ہے۔ میرے مطالعہ کے مطابق ، یہ موضوع ایک مشکل کیوں کہ ٹائن بی جیسے مورخین کو صرف یہ کرنا تھا کہ وہ تاریخ کے معلوم ریکارڈ کی بنیاد پر تاریخ کی ایک موضوعی تصویر پیش کرے ۔ لیکن تعبیر (interpretation) کا معاملہ اس سے مختلف کیوں کہ یہ موضوع تجزیاتی مطالعہ (analytical study) کا موضوع ہے۔ اس میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ مصنف تاریخی معلومات کو سارٹ آؤٹ (sort out) کر کے اس کی بامعنی تعبیر پیش کرے ۔ میرے مطالعہ کے مطابق، معلوم تاریخ چھ ادوار (periods) میں تقسیم ہوتی ہے :
مادی دنیا (material world) ، بگ بینگ (big bang) سے لے کر اب تک۔ شمسی نظام (solar system) ، جس کے اندر آخر کار انسانی دنیا بنی۔ انسانی تاریخ (human history)
پیغمبرانہ مشن (prophetic mission)
تہذیبی تائید (civilizational support)
آخری اعلان (final call) ، یعنی انسان کے ایک دور حیات کا خاتمہ اور اس کے دوسرے دور حیات کا آغاز۔
رب العالمین نے تقریباً تیرہ بلین سال پہلے موجودہ کائنات کی تخلیق کا آغاز کیا۔ پہلے اس نے پارٹیکلس (particles) یعنی اجزاء کائنات کی تخلیق کی۔ پارٹیکلس کا یہ مجموعہ ابتداء میں ایک عظیم کاسمک بال (cosmic ball) کی صورت میں خلا میں ظاہر ہوا۔ پھر اس کا سمک بال میں انفجار (explosion) ہوا۔ اس کے بعد تمام ستارے اور کہکشائیں (galaxies) وجود میں آئیں۔ دوسرے مرحلہ میں شمسی نظام بنا۔ پھر شمسی نظام کا ایک سیارہ زمین (planet earth) اپنی موجودہ شکل میں وجود میں آیا۔ اس سیارہ زمین پر پانی، نباتات، اور حیوانات وجود میں آئے۔ اس زمین پر آباد ہوا۔ پھر انسانوں کے درمیان ایسے ربانی افراد پیدا ہوئے جنھوں نے خدا کی خصوصی رہنمائی میں دنیا میں پیغمبرانہ مشن جاری کیا۔
ختم نبوت کے بعد تاریخ کا اگلا دور آیا۔ اس دور میں صلیبی جنگوں (1487-1096) کا اس درمیان ایسے حالات پیدا ہوئے جس کے تحت سائنسی ترقیاں شروع ہوئیں۔ تک کہ جدید تہذیب (modern civilization) وجود میں آئی۔ اس تہذیب نے انسان کے اوپر ترقی کے وہ دروازے کھولے جو اگرچہ بالقوہ طور پر ہمیشہ سے موجود تھے لیکن بالفعل طور پر وہ بند پڑے ہوئے تھے۔ یہ تہذیب بظاہر ایک سیکولر تہذیب تھی، لیکن عملاً وہ پیغمبرانہ مشن کے موافق (pro-prophetic mission) تہذیب کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس تہذیب نے فطرت کے جو راز دریافت کیے، ان کو قرآن میں آفاق و انفس کا اظہار (فصلت: 53) کہا گیا ہے۔ یہ تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے پیغمبر کے مشن کے لیے ایک مددگار تہذیب تھی۔ یہی وہ تاریخی واقعہ ہے جس کو حدیث میں تائید دین (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر (14640) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ جس خدا نے کائنات کی تخلیق کی۔ اسی خدا نے اپنی کتاب، قرآن کو انسان کے پاس بھیجا اس کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تخلیق کے بارے میں خالق کا منصوبہ کیا ہے۔ اس منصوبہ کے مطابق، موجودہ دنیا اس لیے بنائی گئی ہے کہ یہاں انسان آزادانہ طور پر اپنا عمل کرے۔ آپ کو ربانی شخصیت (Rabbani Personality) کی صورت میں ڈیولپ کرے۔
انسانی تاریخ کی بامعنی تعبیر (meaningful interpretation) میں صرف ایک چیز لوگوں کے لیے رکاوٹ بنتی ہے۔ وہ یہ کہ اکثر لوگ اپنے خود ساختہ معیار (self-styled criterion) سے انسانی تاریخ کو جانچتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ انسانی تاریخ کو خالق کے مقرر کردہ معیار کی روشنی میں دیکھا جائے۔ ایسا کرنے کی صورت میں پوری تاریخ ایک بامعنی تاریخ بن جائے گی۔ اصل یہ ہے کہ انسانی دنیا اور مادی دنیا میں ایک بنیادی فرق ہے۔ مادی دنیا فطرت کے لازمی قوانین کے تحت چل رہی ہے۔ اس لیے فطرت کو سمجھنے کا ایک معلوم حتمی معیار موجود ہے۔ معیار کو برطانی سائنسدان نیوٹن نے فطرت کے مطالعہ پر کامیابی کے ساتھ منطبق کیا، اس کا انطباق (application) درست ثابت ہوا۔ لیکن انھیں قوانین کو کمیونزم کے بانی کارل مارکس نے انسانی تاریخ پر منطبق کرنا چاہا تو وہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ خالق نے انسان کو استثنائی طور پر سوچنے اور عمل کرنے کی آزادی عطا کی ہے۔ اس بنا پر انسانی تاریخ کا واحد غیر متغیر نقشہ نہیں بن سکتا۔ تاریخ کے مطالعے میں یہ کرنا ہوگا کہ اس کے متعلق حصہ (relevant part) کو غیر متعلق حصہ (irrelevant part) سے الگ کیا جائے۔ یعنی تاریخ کے مختلف اجزاء کو سارٹ آؤٹ (sort out) کر کے دیکھا جائے، غیر متعلق اجزاء کو الگ کر کے متعلق اجزاء کی روشنی میں انسانی تاریخ کی تصویر بنائی جائے۔ اس عمل کے بغیر تاریخ کی بامعنی تعبیر نہیں کی جاسکتی۔ قرآن کے مطالعے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ موجودہ دنیا اس لیے بنائی گئی تا کہ انسان فطرت کے قوانین کا مطالعہ کرے، اور ایک تہذیب وجود میں لائے۔ یہ کام اکیسویں صدی میں اپنی تکمیل تک پہنچ چکا۔ اب دوسرا کام یہ ہے کہ آلاء الله (الرحمن: 13) پر مبنی ایک برتر ربانی تہذیب کی تشکیل دی جائے ۔ اس برتر تہذیب کو وہ لوگ وجود میں لا سکتے ہیں، جنھوں نے موجودہ دنیا میں اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کیا ہو۔ آخرت کی دنیا میں پوری تاریخ سے ایسے تیار شدہ اشخاص (prepared personalities) کو منتخب کر کے جنت کی عظیم دنیا میں جمع کر دیا جائے گا۔ وہ اگلی برتر تہذیب میں زندگی گزاریں۔