منسوخ، موقوف
Al-Risala, December 2017, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
دین کے احکام ممکن طور پر دو قسم کے ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو قابلِ تنسیخ ہوں، اور دوسرا وہ جن کو منسوخ تو نہ کیا جا سکتا ہو، لیکن ان کو وقتی طور پر موقوف کرنا درست ہو۔ کسی شرعی حکم کو منسوخ (abrogate) کرنا ایک اصولی معاملہ ہے۔ اور اصولی معاملہ میں تغیر کا حق صرف شارع کو ہے۔ اور جہاں تک موقوف (suspend) کرنے کا معاملہ ہے، وہ ایک اجتہادی معاملہ ہے، اور امت کے علماء دلائل شرعیہ کے ذریعہ بطور اجتہاد ایسا کر سکتے ہیں۔
ہجرت کے بعد وقتی طور پر قبلہ یہود کو قبلہ مسلمین قرار دے دیا گیا، لیکن بعد کو یہ حکم متروک ہوگیا (البقرہ : 144-143)، اور کعبہ ابدی طور پر اہل اسلام کا قبلہ قرار پایا۔ اب کسی کو حق نہیں کہ وہ اس حکم میں تغیر کرے۔ کسی حکم کو موقوف قرار دینے کا معاملہ ایک اجتہادی معاملہ ہے۔ قوت کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ اس سے مراد تیر اندازی ہے۔ رسول اللہ نے قرآن کی آیت پڑھی: وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة [8:60] ، اور تین مرتبہ کہا: ألا إن القوة الرمي (صحیح مسلم، حدیث نمبر 167)۔ موجودہ زمانے میں اس حکم کی حیثیت ایک موقوف حکم کی ہے، لیکن اگر کسی وقت حالات کا تقاضا ہو کہ رمی (تیر اندازی) کے طریقے کو دوبارہ اختیار کیا جائے، تو اس طریقے کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔ گویا کہ کسی حکم کا موقوف ہونا، ہمیشہ مشروط معنی میں ہوتا ہے۔ کسی حکم کو منسوخ قرار دینے کا اختیار صرف شارع کو ہے، یعنی اللہ اور اللہ کے رسول کو۔ کے برعکس، جہاں تک موقوف قرار دینے کا معاملہ ہے، یہ ایک اجتہادی فعل ہے۔ امت کے علماء کو یہ حق ہے کہ وہ قانونِ ضرورت (law of necessity) کے تحت کسی حکم کو وقتی طور پر موقوف قرار اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اصحابِ رسول کے زمانے میں اہل فتنے سے قتال کا حکم دیا گیا یہ حکم چوں کہ شریعت کے متن میں موجود ہے، اس لیے کوئی شخص اس کو منسوخ نہیں قرار دے سکتا، البتہ ضرورت شرعیہ کے تحت بطور اجتہاد اس حکم کو موقوف قرار دیا جا سکتا ہے۔