رسول اور اصحابِ رسول
Al-Risala, December 2017, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
تمام پیغمبروں کے آخر میں اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا۔ حضرت علی، رسول اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جو بھی آپ کو پہلی بار دیکھتا مرعوب ہو جاتا۔ جو ساتھ بیٹھتا وہ آپ سے محبت کرنے لگتا۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3638) ایک حدیث (جامع الاصول، حدیث نمبر 9317) میں ہے رسول اللہ فرماتے ہیں کہ میرے رب نے مجھے 9 باتوں کا حکم دیا ہے:
کھلے اور چھپے ہر حال میں اللہ سے ڈرتا رہوں۔ غصہ میں ہوں یا خوشی میں ہمیشہ انصاف کی بات کہوں۔ محتاجی اور امیری میں دونوں حالتوں میں اعتدال پر قائم رہوں۔ جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں۔
جو مجھے محروم کرے میں اس کو دوں۔
جو مجھ پر ظلم کرے میں اس کو معاف کردوں۔ اور میری خاموشی غور و فکر کی خاموشی ہو۔ میرا بولنا یادِ الٰہی کا بولنا ہو۔
میرا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عقل مند شخص کے لئے لازم ہے کہ اس پر کچھ گھڑیاں ایسی گھڑی جب کہ وہ اپنے رب سے باتیں کرے۔ ایسی گھڑی جب کہ وہ اپنی ذات کا ایسی گھڑی جب کہ وہ خدا کی تخلیق میں غور کر رہا ہو اور ایسی گھڑی جب کہ وہ کھانے پینے کی ضرورتوں کے لئے وقت نکالے۔ (ابن حبان، حدیث نمبر (361 حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ان کے گھر میں تھے، آپ نے خادمہ کو بلایا، اس ہینگے، جو ہیمیئن کی دوسری معروف تصنیف ہے،
نے آنے میں دیر کر دی ۔ آپ کے چہرے پر غصہ ظاہر ہو گیا۔ اُم سلمہ نے پردے کے پیچھے جا کر دیکھا تو خادمہ کو کھیلتے ہوئے پایا۔ اس وقت آپ کے ہاتھ میں مسواک تھی۔ آپ نے خادمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اگر قیامت کے دن مجھے بدلہ کا ڈر نہ ہوتا تو میں تجھ کو اس مسواک سے مارتا (لولا خشية القود يوم القيامة، لأوجعتك بهذا السواك) ۔ الادب المفرد للبخاری، حدیث نمبر 184 بدر کی جنگ 2 ہجری میں ہوئی۔ جو لوگ قیدی بن کر آئے وہ رسول اللہ کے بدترین دشمن تھے مگر آپ نے ان کے ساتھ بہترین سلوک کیا۔ ان قیدیوں میں ایک شخص سہیل بن عمر و تھا۔ شاعری سے رسول اللہ کے بارے میں گستاخانہ تقریر کرتا تھا۔ حضرت عمر نے مشورہ دیا کہ اس کے سامنے والے دانت توڑ دیے جائیں تا کہ آئندہ یہ تقریر نہ کر سکے۔ لیکن آپ نے فرمایا: اگر میں ایسا کروں تو خدا میرا چہرہ بگاڑ دے گا اگر چہ میں خدا کا رسول ہوں (لا أمثل به فيمثل الله بي وإن سیرة ابن هشام، 1/649 حسن بصری تابعی نے ایک بار اپنے زمانہ کے لوگوں سے کہا: میں نے 70 بدری صحابیوں کو ان کا لباس زیادہ تر صوف کا ہوتا تھا۔ اگر تم ان کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ مجنون ہیں اور اگر وہ تم کو دیکھتے تو کہتے کہ ان کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہے (ما لهؤلاء من اور اگر وہ تمھارے بروں کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ لوگ حساب کے دن پر یقین نہیں رکھتے (ما يؤمن هؤلاء بيوم الحساب)۔ حلیة الاولیاء و طبقات الاصفیاء، 2/134 عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ اصحاب رسول اس امت کے بہترین لوگ تھے وہ بہت اچھے دل والے، بہت گہرے علم والے اور تکلفات سے دور تھے (كانوا خير هذه الأمة، أبرها قلوبا، وأعمقها علما، وأقلها تكلفا)۔ حلیة الاولياء و طبقات الاصفياء، 1/305۔ اصحاب رسول کی یہ زندگی اختیاری زندگی تھی، وہ کسی مجبوری کی بنا پر نہ تھی۔ یہی طریقہ بعد کے لوگوں کے لیے بھی نمونہ ہے۔