انسانی تاریخ
Al-Risala, December 2017, pp. 33–34
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی معاملہ انسان کے ساتھ پیش آیا۔ اللہ رب العالمین جس طرح عالم مادی کی ربوبیت کر رہا ہے، اسی طرح وہ انسانی تاریخ کو بھی مینج (manage) کر رہا ہے۔ تا کہ وہ درست سمت میں سفر کرتے ہوئے اپنی آخری مطلوب منزل تک پہنچ جائے۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ انسانی تاریخ کے سفر کے بنیادی طور پر چھ مراحل ہیں۔ یہ تاریخ انسان اول آدم سے شروع ہوئی، اور اب اکیسویں صدی میں وہ غالباً اپنے سفر کے آخری مرحلے میں پہنچ چکی یہ مراحل ممکن طور پر حسب ذیل ہیں۔ انبیاء کا دور، ابراہی می منصوبے کا دور، خاتم النبیین کا دور، امت مسلمہ کا دور، مغربی اقوام کا دور، فائنل دور۔
اللہ رب العالمین نے انسان کو پیدا کر کے اس کو سیارہ ارض (planet earth) پر آباد
اس طرح انسان کی تاریخ بننا شروع ہوئی_ تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے مطابق، انسان کی آخری منزل جنت (Paradise) ہے۔ جنت گویا انسان کا ابدی ہیبیٹاٹ (eternal habitat) ہے۔ جنت وہ آفاقی جگہ ہے جہاں وہ لوگ ابدی طور پر رہیں گے، جو موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو جنت کے لیے اہل (competent) ثابت کریں۔ تخلیقی منصوبہ کے مطابق، انسان کی زندگی دو ادوار میں تقسیم ہے۔ پہلی کی دنیا اور موت کے بعد کی دنیا_ موت سے پہلے کی دنیا گویا ایک تربیت گاہ (nursery) کی حیثیت رکھتی ہے، اور موت کے بعد کی دنیا اس کا مطلوب ہیبیٹاٹ (habitat) ہے۔ جہاں اس کو کامل فل فلمینٹ (fulfilment) کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ موجودہ دنیا انتخاب کی دنیا (selection ground) ہے، اور بعد کی دنیا وہ ہے جہاں منتخب افراد اپنے آنڈیل کے مطابق ابدی طور پر زندگی گزاریں گے۔