رہنمائی کا انتظام
Al-Risala, December 2017, pp. 34–35
By Maulana Wahiduddin Khan
اس تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کے لیے ایک رہنمائی (guidance) کی ضرورت تھی۔ تا کہ یہاں پیدا ہونے والے عورت اور مرد صحیح راہ (right path) پر چلیں، اور غلط راہوں میں بھٹکنے سے اپنے آپ کو بچائیں۔ اس کے لیے خالق نے ہر نوعیت کا انتظام فرمایا۔ جو لوگ اس انتظام سے رہنمائی لیتے ہوئے زندگی گزاریں، وہ یقینی طور پر غلط سمتوں میں بھٹکنے سے بچیں گے، اور اپنی زندگی کو فلاح کی زندگی بنانے میں کامیاب رہیں گے۔
رہنمائی کے معاملے میں خالق نے مختلف سطحوں پر اعلیٰ انتظام کیا ہے۔ پہلی سطح فطرت کی سطح فطرت کی سطح پر انسان کو پیدائشی طور پر نیک اور بد کی تمیز (الشمس: 8) عطا فرمائی ہے۔ اگر اپنے شعور کو زندہ رکھے تو یقینا فطرت کی رہنمائی اس کے لیے کافی ہو جائے گی۔ دوسرا مرحلہ ارد گرد کی کائنات ہے۔ ہمارے گردو پیش جو مادی کائنات ہے، اس میں خالق نے ہر اچھی بات کے مادی نمونے (material illustrations) رکھ دیے ہیں۔ آدمی کا شعور
اگر بیدار ہو تو وہ اپنے گرد و پیش کی دنیا میں ہر دن اپنے لیے خاموش رہنمائی پا سکتا ہے۔ رہنمائی کی تیسری سطح یہ ہے کہ خالق نے ہر زمانے میں اور ہر مقام پر اپنے پیغمبر بھیجے، جو لوگوں کو ان کی اپنی قابل فہم زبان میں فلاح کا راستہ بتاتے رہے۔ ساتویں صدی میں خالق نے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا اور ان کے ذریعہ سے رہنمائی کی مستند کتاب (authentic book) بھیج دی۔ پیغمبر آخر الزمان کے بعد یہ رہنمائی اس طرح جاری ہے کہ ایک طرف قرآن اور پیغمبر کا اسوہ لفظی رہنمائی کی صورت میں موجود ہے۔ اور دوسری طرف اللہ کی توفیق سے زندہ رہنما برابر اٹھ رہے ہیں۔
اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن الله يبعث لهذه الأمة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4292) ۔ یعنی بے شک اللہ اس امت کے لیے ہر سو سال کے سرے پر ایسے افراد بھیجے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید (revival) کرتے رہیں گے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں پیغمبر کی آمد کا سلسلہ شخصی معنوں میں ختم ہو جائے گا، مگر اس وقت بھی پیغمبرانہ رہنمائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ امت میں ایسے اہل علم افراد پیدا ہوتے رہیں گے جو اللہ کی توفیق سے امت اور عام انسانوں کو خدائی سچائی سے باخبر کرتے رہیں۔ مجددین اور ان کے ساتھیوں کی درست کارکردگی کی یہ ضمانت ہوگی کہ لوگوں کو ہمیشہ یہ موقع حاصل رہے کہ ایسے ہر فرد کے کام کو قرآن وسنت کی روشنی میں جانچیں، اور صرف اس رہنمائی کو قبول کریں جو قرآن وسنت کی تعلیمات کے مطابق ہو۔ جو رہنمائی قرآن وسنت کے معیار (criterion) پر نہ اترے اس کو رد کر دیا جائے۔
اس تشریح کے مطابق ، انسانی تاریخ کا یہ سفر اپنے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ توبہ واستغفار کر کے وہ عمل کریں جو آخرت میں ان کے کام آنے والا ہے۔