تاریخ کا سفر
Al-Risala, February 2017, pp. 11–17
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات اور انسان کی صورت میں جو عظیم دنیا ہمارے سامنے ہے، وہ بلاشبہ ایک خدائی منصوبے کے تحت بنائی گئی ہے۔ اور خدائی منصوبے کے مطابق، اس کا ایک با معنی انجام ہونا مقدر یہ بلاشبہ سنجیدہ مطالعے کا ایک موضوع ہے۔ اس کا تعلق ہر فرد سے بھی ہے اور پوری انسانی تاریخ سے بھی۔ اس معاملے میں متعلق لٹریچر (relevant literature) کے گہرے مطالعے سے جو تصویر بنتی ہے، اس کو یہاں درج کیا جاتا ہے۔
علمی مطالعے کے مطابق، اللہ رب العالمين نے موجودہ کائنات کا آغاز تقریباً تیرہ بلین سال اس مدت میں منصوبہ بند اندازمیں تدریجی (gradually) طور پر پوری کائنات وجود میں اس مدت کو وسیع تقسیم (broad division) کے مطابق چھ بڑے ادوار (periods) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
1 - اس سلسلے میں معلوم طور پر، پہلا واقعہ جو اس کائنات میں پیش آیا، وہ یہ تھا کہ خالق نے تقریباً 13 بلین سال پہلے خلا (space) میں ایک عظیم دھماکہ کیچ (manage) کیا۔ اس دھما کہ کو انگلش عالم فلکیات (astronomer) فریڈ ہائل (Fred Hoyle) نے 1949 میں بگ بینگ (Big Bang) نام دیا۔ یہ بگ بینگ اب سائنسی طور پر ایک ثابت شدہ واقعہ (established fact) بن چکا ہے۔ اس دھماکہ سے موجودہ کائنات کا آغاز ہوا۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے : أَوَ لَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا یعنی کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔
اس کا مطلب سائنسی معلومات کی روشنی میں یہ ہے کہ ابتدا میں ایک عظیم گولا (super atom) تھا، جس کے اندر کائنات کے تمام پارٹیکل موجود تھے۔ اس دھماکے کے بعد بگ بینگ
کے پارٹیکل (particles) وسیع خلا میں تیزی سے پھیل گئے۔ اور پھر ایک حکیمانہ منصوبہ کے تحت مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ان ذرات (particles) کے مجموعہ سے موجودہ کائنات وجود
2- مذکورہ تدریجی عمل کا دوسرا بڑا واقعہ وہ ہے جس کو سولر بینگ (Solar Bang) کہا اس کے بعد لمبے عمل (process) کے تحت شمسی نظام اپنے تمام سیاروں (planets) کے ساتھ وجود میں آیا۔ اس کائناتی واقعہ کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلُّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (21:33)۔ یعنی اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند بنائے۔ سب ایک ایک مدار (orbit) میں تیررہے ہیں۔
شمسی نظام ایک عظیم کہکشاں (galaxy) کے ایک کنارے پر قائم کیا گیا ہے، جس کو ملکی وے (Milky Way) کہا جاتا ہے۔ اس طرح شمسی نظام کو کائنات میں ایک محفوظ علاقہ (area) مل گیا۔ اس حقیقت کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں کیا گیا ہے: فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ ، وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ (76:75-56)۔ یعنی میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے اور اگر تم جانو تو بیشک یہ بہت بڑی قسم ہے۔ یہاں مواقع سے مراد محل وقوع ہے۔ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ شمسی نظام کو نہایت بامعنی طور پر عظیم ملکی وے کے ایک کنارے پر قائم کیا گیا ہے۔ اس محل وقوع کی بنا پر شمسی نظام کو ایک محفوظ علاقہ (safe area) مل گیا، جو انسان جیسی مخلوق کی زندگی کے لیے بے حد ضروری ہے۔
3- کائنات میں تیسرا واقعہ وہ ہے جس کو واٹر بینگ (water bang) کہا جا سکتا ہے۔ یعنی سیارۂ ارض کا ٹھنڈا ہونا اور پھر زمین کے اوپر پانی کے ذخائر کا وجود میں آنا، اور پھر پانی کی وجہ سے ہر قسم کی زندگیوں کا پیدا ہونا۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَجَعَلْنَا مِنَ المَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ (21:30)۔ یعنی اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔ تمام زندہ چیزوں
کے وجود کا بڑا حصہ پانی ہوتا ہے ۔ جہاں تک انسان کا تعلق ہے، انسان کا جسم تقریبا 60 پرسنٹ پانی پر مشتمل ہے۔
Water is of major importance to all living things, in some organisms, up to 90% of their body weight comes from water. Up to 60% of the human adult body is water. 4- چوتھا بڑا واقعہ جو زمین پر پیش آیا وہ دنیائے نباتات کا وجود میں آنا تھا۔ اس کو پلانٹ بینگ کہا جا سکتا ہے ۔ اس کے بعد زمین جو پہلے خشک کرہ کی مانند تھی، اب سر سبز سیارہ (Green Planet) کی صورت اختیار کر گئی ۔ اس واقعہ کا اشارہ قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَأَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًا، وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا (16-78:14) یعنی اور ہم نے پانی بھرے بادلوں سے موسلا دھار پانی برسایا ۔ تا کہ ہم اس کے ذریعہ سے اگائیں غلہ اور اور گھنے باغ۔
5- اس سلسلہ کا پانچواں دور وہ ہے جب کہ زمین پر مختلف قسم کی جاندار چیزیں وجود میں آئیں ، کیڑے مکوڑوں سے لے کر ہاتھی اور شیر تک ۔ تخلیق کے اس پانچویں فیز (phase) کو اینیمل بینگ (animal bang) کہا جا سکتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں مختلف قسم کے بیشمار جاندار اشیاء (species) پیدا ہوئیں ، جن کی واقعی تعداد اب تک نا معلوم ہے : Eight million seven hundred thousand is the latest estimated total number of species on Earth and the most precise calculation ever offered, according to a study co-authored by a researcher with the United Nations Environment Programme (UNEP). Around 6.5 million species are found on land and 2.2 million (about 25 percent of the total) dwell in the ocean depths. The report also shows that 86% of all species on land and 91% of those in the seas have yet to be discovered, described or 6- اس سلسلہ میں چھٹا بینگ وہ تھا جس کو ہیومن بینگ (Human Bang) کہا جا سکتا اس آخری دور میں انسان کو پیدا کیا گیا ، اور نسل در نسل پھیلتا ہوا اس زمین ( planet
(earth پر آباد ہو گیا۔ بظاہر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تقریباً 13 بلین سال کے دوران تمام تخلیقی واقعات منصوبہ بند انداز میں پیش آئے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ آخر کار انسان کو پیدا کر کے اس کو زمین پر آباد کیا اور پھر انسان کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنی آزادانہ کوشش سے اس چیز کو وجود میں لائے جس کو تہذیب (civilization) کہا جاتا ہے۔ تہذیب گویا محدود معنی میں کلمات اللہ ( 18:109) کی جزئی ان فولڈنگ (unfolding) تھی۔ فطرت کے اس طریق عمل کا یہ نتیجہ تھا کہ انسان کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنی عقل کو اعلیٰ ارتقائی درجہ (high level of development) تک پہنچا سکے۔
موجودہ کائنات کے دو حصے ہیں، انسانی دنیا (human world) اور دوسرے غیر انسانی دنیا (non-human world)۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر انسانی دنیا خارجی طور پر بینچ کی جانے والی دنیا (externally managed world) ہے۔ اس کے مقابلے میں انسانی دنیا خود بینچ کی جانے والی دنیا (self-managed world) ہے۔ اب تاریخ ایک ایسےاعلی ترقی یافتہ دور (super developed world) کی طرف جا رہی ہے جہاں ماضی کے ریکارڈ کے مطابق غیر مطلوب انسانوں کو چھانٹ دیا جائے، اور مطلوب انسانوں کو الگ کر کے یہ موقع دیا جائے کہ وہ آئیڈیل ورلڈ میں ابدی راحت کی زندگی گزاریں۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں آیا ہے ــــ صادقین زمین کے وارث ہوں، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے:
The righteous will inherit the land, and dwell in it permanently.
بائبل میں مذکور اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (21:105) ــ یعنی اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ یہ دنیا پوری تاریخ بشری کے منتخب انسانوں کا معاشرہ ہوگا۔ یہ منتخب افراد دراصل دورِ ماضی
کے تربیت یافتہ افراد (trained individuals) ہوں گے۔ یہاں پوری تاریخ کے منتخب افراد (selected people of history) کو یہ موقع ہوگا کہ وہ اعلیٰ فکری سرگرمیوں (high level of intellectual activities) کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ اس اعلیٰ معاشرہ (high society) کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (4:69) ۔ یعنی یہ اہل جنت ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔ اس اگلے دور حیات کو قرآن میں جنت (Paradise) کا نام دیا گیا ہے۔
انسان کائنات کا ہیرو ہے۔ اپنی تخلیقی صلاحیت کے اعتبار سے انسان ایک ابدی مخلوق لیکن انسان موجودہ دنیا میں صرف محدود مدت کے لیے رہتا ہے۔ اس دنیا میں انسان کی اوریج (average) عمر تقریباً 70 سال ہے۔ ابدیت کا طالب انسان عملاً ابدیت کو پانے سے محروم رہتا مگر انسان کے لیے یہ محرومی کی بات نہیں۔ ایسا خالق کے تخلیقی پلان کی بنا پر ہوتا ہے، نہ کہ انسان کی اپنی خواہش کی بنا پر۔ خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، انسان کو اس دنیا میں صرف محدود مدت تک کے لیے رہنا ہے۔ اس کے بعد انسان کو اس کے ہیبیٹاٹ (habitat) میں پہنچا دیا جاتا ہے، جہاں اس کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اپنی پسند کی دنیا میں ابدی طور پر رہے۔ یہاں انسان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ خالق کے پلان کو جانے اور اپنے آپ کو اس کے لیے انسان کو پیدا کرنے والا خدا ہے۔ لیکن اپنے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرنا مکمل طور پر انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے اندر اس پرسنالٹی کو ڈیولپ کرے جس کی وجہ سے وہ اگلی دنیا میں بننے والی پیراڈائز کے لیے مستحق امیدوار (deserving candidate)
اس تخلیقی مقصد کی بنا پر ایسا ہوا کہ خالق نے پوری کائنات کو کسٹم میڈ کائنات
(custom-made universe) بنایا۔ اس واقعہ کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ (45:13)۔ یعنی خدا نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمھارے لیے مسخر کر دیا، سب کو اپنی طرف سے۔ آیت میں جمیعا منہ کے لفظ کا مطلب یہ ہے کہ تسخیر کا یہ معاملہ اتفاقی طور پر نہیں ہوا، بلکہ وہ خالق کے باقاعدہ منصوبہ (well-considered plan) کے تحت ہوا ہے۔
انسان اس پوری کائنات میں ایک خصوصی تخلیق کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کو اس کے خالق نے دماغ (mind) دیا، جو کسی بھی دوسری مخلوق کو عطا نہیں ہوا۔ انسان کو اس کے خالق نے لامحدود صلاحیتیں دی ہیں۔ مزید یہ کہ انسان کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کو امانت الہی (الاحزاب:72) سے سرفراز کیا گیا۔ انسان واحد مخلوق ہے جس کو کامل آزادی (total freedom) دی گئی ہے۔ انسان کے لیے یہ مقدر کیا گیا ہے کہ اگر وہ آزادی پا کر اس کا غلط استعمال (misuse) نہ کرے، بلکہ آزادی کو وسیع تخلیقی نقشہ (Creation plan of God) کے مطابق استعمال کرے تو اس کے لیے ابدی جنت (eternal Paradise) کا انعام (reward) ہے۔
مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے سوا جو دوسری مخلوقات ہیں، مادیات، نباتات، حیوانات، وہ سب کی سب فطرت کے قانون (law of nature) کے ماتحت ہیں۔ حیوانات بھی مکمل طور پر اپنی مقرر کردہ جبلت (instinct) کے تحت کام کرتے ہیں۔ یہ صرف انسان ہے جو اس معاملے میں استثناء (exception) کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنے ذاتی ارادے کے تحت سوچے اور کامل آزادی کے ساتھ اپنی زندگی کا نقشہ بنائے۔ اس میں شک نہیں کہ انسان مکمل طور پر ایک آزاد مخلوق ہے۔ لیکن یہ آزادی صرف ذاتی عمل کے اعتبار سے ہے۔ یعنی انسان آزاد ہے کہ وہ وسیع تر تخلیق کے مطابق عمل کرے یا اس کا باغی لیکن جہاں تک عمل کے نتیجہ کا تعلق ہے، اس پر انسان کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ خالق نے مقدر کیا ہے کہ انسان اگر خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق عمل کرے تو اس کے لیے ابدی
اور اگر وہ خالق کے تخلیقی نقشہ کی خلاف ورزی کرے تو اس کے لیے ابدی جہنم ہے۔ رب العالمین کے اس تخلیقی نقشہ کو قرآن میں اشارات کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مادی کائنات کی تخلیق کے بعد انسان کو پیدا کیا گیا، اور اس کو زمین پر خلیفہ (البقرۃ: 30) کی حیثیت سے آباد کیا گیا۔ خلیفہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو انسانی زبان میں انچارج کہا جاتا ہے۔ فرشتے خدا کے حکم کے مطابق، کائنات کا نظام اس طرح چلا رہے ہیں کہ ہمیشہ انسان کے لیے وہ ایک موافق دنیا بنی رہے۔ اس کے بعد انسان نے جب نیچر کے خفیہ رازوں کو دریافت کرنا شروع کیا اور ٹکنالوجی پر مبنی تہذیب کی تشکیل کی تو اس معاملے میں بھی انسان کو مسلسل طور پر فرشتوں کی مدد حاصل رہی۔ اس کا اشارہ پیغمبر نوح کی کشتی سازی کے ذکر میں اس طرح کیا گیا ہے : وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا (11:37)۔ اس سے مستنبط ہوتا ہے کہ یہی واقعہ جدید تہذیب (modern civilization) کی تشکیل کے معاملہ میں پیش آ رہا ہے۔ نے انسان سے یہ کہہ دیا کہ اصنع الحضارة باعيننا و وحينا۔ یعنی تہذیب بناؤ ہماری آنکھوں کے سامنے، اور ہماری وحی کے مطابق۔ کہا جاتا ہے کہ اکثر سائنسی دریافتیں کسی نہ کسی اتفاق (chance) کے ذریعہ وجود میں آئیں ۔ تفصیل کے لیے وکی پیڈیا پر یہ مضمون دیکھا جاسکتا ہے : "Role of Chance in Scientific Discoveries". یہ اتفاقات محض اتفاقات نہیں ہیں، بلکہ وہ فرشتوں کے تعاون کی مثالیں ہیں، جو غیر مرئی مدد کے طور پر سائنسدانوں کو حاصل ہوتی ہیں۔ اس قسم کے اتفاق کے لیے ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے، جس کو سرنڈیپیٹی (Serendipity) کہا جاتا ہے :