Al-Risala · February 2017

Serendipity is a happy and unexpected event that

Al-Risala, February 2017, pp. 17–21

By Maulana Wahiduddin Khan

apparently occurs due to chance and often appears when we are searching for something else. Serendipity...happens in our daily lives and has been responsible for many innovations and important advances in science and تاریخ انسانی کے دوسرے دور میں ایک نئی دنیا بنائی جائے گی۔ یہ دنیا، اسی زمین و آسمان کے

لیکن اس وقت زمین و آسمان ایک بدلے ہوئے زمین و آسمان ہوں گے (ابراہیم: 48)۔ اسی بدلی ہوئی کائنات میں جنت واقع ہوگی۔ اس جنت کا کیمپس اتنا بڑا ہوگا جتنے بڑے موجودہ زمین و آسمان (آل عمران: 143) ہیں۔ اس اعلی جنت کا انتظام دوبارہ فرشتے کریں گے۔ انسان کے لیے اس جنت میں ہر قسم کی مطلوب چیزیں موجود رہیں گی (فصلت: 31)۔ جنت کی یہی وہ معیاری دنیا ہے جو منتخب لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے۔ بائبل میں ان کے لیے صادقین (righteous) کا لفظ آیا ہے، اور قرآن میں اسی کا ہم معنی صالحین کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہاں وہ اعلی معرفت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔

انسان کے ساتھ تخلیق کا یہ معاملہ بیحد نازک معاملہ تھا۔ یہاں ضروری تھا کہ انسان کو صحیح رہنمائی (right guidance) ملے، جو انسان کو خالق کے تخلیقی نقشہ سے باخبر کرے۔ اور یہ بتائے کہ انسان کے لیے اپنی آزادی کو استعمال کرنے کا درست لائحہ عمل کیا ہے۔ انسان کی یہی ضرورت ہے جس کو پورا کرنے کے لیے اللہ نے انبیاء (prophets) بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ انبیاء مکمل طور پر انسان تھے۔ البتہ ان کی خصوصیت یہ تھی کہ خالق نے تقریباً 40 سال کی عمر تک ان کا جائزہ لینے کے بعد یہ پایا کہ وہ کار نبوت کی انجام دہی کے لیے ذہنی اور اخلاقی اعتبار سے لائق (competent) فرد ہیں۔ اس طرح ہر نبی کی انفرادی خصوصیت کی بنا پر اس کا انتخاب کیا گیا۔ اور فرشتہ جبرئیل کے ذریعہ خالق نے ان کو اپنی رہنمائی، وحی (revelation) کے ذریعہ بھیجی، اور ان پر کتاب نازل کی تا کہ وہ خالق کے نمائندہ (representative) کی حیثیت سے انسان کو درست رہنمائی (right guidance) دیں۔ اور پھر انسان ان کی رہنمائی کے مقابلے میں جو رسپانس (response) دے، اس کے ریکارڈ کو دیکھ کر ہر انسان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے۔

اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے :رُسُلاً مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ (4:165)۔ یعنی اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے

والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، تا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت باقی

انذار و تبشیر کے الفاظ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پیغمبروں کا مشن خالص اخروی مشن تھا۔ ان کے مشن کا فوکس ہمیشہ یہ ہوتا تھا کہ انسان کے لیے وہ کون سا رویہ ہے جو اس کو ابدی جنت تک پہنچانے والا ہے، اور وہ کون سا رویہ ہے جو اس کو اس خطرے (risk) میں ڈالتا ہے کہ اگلے دور حیات میں اس کو ابدی طور پر جہنم والوں کے ساتھ شامل کیا جائے۔

پیغمبروں کے ذریعے انسان کو جور ہنمائی ملی، اصولی طور پر اس کا خلاصہ دو چیزیں تھیں: (1) نظریہ توحید (Ideology of Tawheed)

(2) طریقہ کار (Method)

پیغمبرانہ طریقہ کار ایک لفظ میں غیر نزاعی طریقہ کار (non-confrontational نظریہ اور طریقہ کار کے اعتبار سے یہی دو چیزیں پیغمبروں کے ذریعے انسان کو

پہلے انسان (آدم) سے لے کر محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر انسان کی طرف آئے۔ انھوں نے انسان کو بتایا کہ یہ زمین تمھارے لیے ابدی قیام گاہ (eternal habitat) نہیں ہے، بلکہ یہ تمھارے لیے ایک عارضی قیام گاہ (temporary abode) ہے۔ یہاں تمھیں یہ موقع دیا گیا ہے کہ تم اپنی آزادی کا صحیح استعمال کر کے اپنے آپ کو جنت کا مستحق (deserving candidate) بناؤ، اور تاریخ انسانی کے خاتمہ پر جنت کی شکل میں اپنے مطلوب ابدی ہیبیٹاٹ (habitat) میں جگہ پاؤ۔ ساتویں صدی عیسوی میں محمد عربی کے ظہور کے بعد انبیاء کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ مگر خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان پھر بھی پیدا ہو کر زمین پر آباد ہو رہے تھے۔ اب یہ سوال تھا کہ بعد کو پیدا ہونے والے انسانوں تک خدائی رہنمائی کی نمائندگی کون کرے ۔

ساتویں صدی عیسوی میں ختم نبوت سے پہلے خدا کی طرف سے اس رہنمائی کی ذمہ داری پیغمبروں نے ادا کی۔ اس اعتبار سے تمام پیغمبر امت وسط (middle ummah) کی حیثیت ان کے ایک طرف اللہ رب العالمین تھا اور ان کے دوسری طرف تمام انسان۔ نے اس رہنمائی کو اللہ سے لیا اور پورے معنوں میں ناصح اور امین (الاعراف: 68) بن کر اس کو انسانوں تک پہنچایا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں مدینہ میں ہوئی۔ آپ اللہ کے آخری آپ نے اپنے بعد ہدایت کے دو مستند ذریعے (authentic sources) چھوڑے، ایک قرآن اور دوسرا سنت رسول۔ اب کوئی پیغمبر دنیا میں آنے والا نہیں ہے۔ جہاں تک پیغمبر کے مشن کی بات ہے، وہ بدستور جاری ہے۔ پہلے انبیاء کی حیثیت امت وسط کی ہوتی تھی، اب پیغمبر آخر الزماں کے متبعین کی حیثیت امت وسط کی ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا (2: 143)۔ یعنی اور اس طرح ہم نے تم کو امت وسط بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔

امت وسط کا مطلب بیچ کی امت (middle community) ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین سب کے سب امت محمدی ہیں۔ ان کی حیثیت دوبارہ امت وسط کی ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ پیغمبر ، خدا اور انسان کے درمیان امت وسط ہوتے تھے۔ اب پیغمبر آخر الزمان کے متبعین، محمد بن عبد اللہ اور اقوام عالم کے درمیان امت وسط کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پیغمبر آخر الزمان کی رہنمائی کو جاننے کا ذریعہ قرآن اور سنت رسول ہے۔ امت کو یہ کرنا ہے کہ خالص موضوعی (objective) انداز میں وہ قرآن اور سنت رسول کا مطالعہ کرے، اور اس کی تعلیمات کو کسی آمیزش کے بغیر پر امن انداز میں ہر دور کے انسانوں تک پہنچاتی رہے۔ یہ کام اس کو تمام اقوام کی قابل فہم زبان میں کرنا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ

لهم ˚ (14:4) ۔ اس کی پریکٹیکل صورت یہ ہے کہ قرآن کے تراجم تیار کر کے ان کو ساری دنیا میں پھیلا یا جائے ۔ یہاں تک کہ حدیث (مسند احمد، حدیث نمبر 23814) کے مطابق، وہ ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں پہنچ جائے۔ یہی امت محمدی کا ابدی مشن ہے۔ خلاصہ یہ کہ امت محمدی کی حیثیت سے مسلمانوں کا ایک ہی مشن ہے۔ اور وہ ہے دعوت الی اللہ ۔ دعوت کا یہ پر امن کام مکمل طور پر غیر سیاسی (non-political) اور غیر قومی (non-communal) انداز میں کرنا ہے۔ مزید یہ کہ اس کام کو اس اصول کے تحت انجام دینا چاہیے جس کو قرآن میں تالیف قلب (التوبۃ: 60) کہا گیا ہے۔ تالیف قلب ایک ابدی اصول وہ کبھی اور کسی حال میں منسوخ ہونے والا نہیں۔

جنوری 2017 کے شمارہ کے صفحہ نمبر 4 پر الرسالہ کی غلط قیمت شائع ہو گئی ہے۔ صحیح قیمت یہ ہے : Subscription by Book Post Rs 25 (per copy)

Subscription by Registered Post Rs 33 (per copy)

• سبسكرپشن کی کوئی متعین مدت نہیں ہے۔ آپ درج بالا قیمت کے حساب سے جتنی رقم جمع کروائیں گے، اتنی مدت کے لیے آپ کو الرسالہ جاری کر دیا جائے گا۔ آخری شمارے کی اطلاع آپ کے ایڈریس لیبل پر موجود ہوگی ۔

• اب رقم PayTM کے ذریعہ بھی بھیجی جاسکتی ہے۔ تفصیل صفحہ نمبر 50 پر موجود ہے۔ • eMO بھیجتے وقت فارم میں یہ ضرور لکھیں :

اپنا موبائل نمبر اور اپنا خریداری نمبر (Subscription No)

Printed page