تخلیقی ایمان
Al-Risala, February 2017, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: کنا نصلي يوما وراء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فلما رفع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رأسه من الركعة وقال : ”سمع الله لمن حمده “ قال رجل وراءه: ربنا لك الحمد، حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه، فلما انصرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال :”من المتكلم آنفا؟ “ قال الرجل: أنا يا رسول اللہ، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”لقد رأيت بضعة وثلاثين ملكا يبتدرونهاأيهم يكتبها أولا“ (مسند احمد، حدیث نمبر 18996)۔ یعنی رفاعہ بن رافع کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب رکوع کے بعد اپنا سر اٹھایا، اور یہ کہا: سمع اللہ لمن حمده ۔ ایک آدمی جو آپ کے پیچھے کھڑا تھا، اس نے کہا: ربنا لك الحمد، حمدا كثيرا طيبا مبارکا فیہ۔ رسول اللہ نے جب (سلام کے بعد) منھ پھیر اتو کہا، ابھی کس نے وہ بات کہی تھی، اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول، میں نے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں نے دیکھا کہ 30 سے زیادہ فرشتے دوڑے اس کی طرف، تاکہ کون پہلے اس کو لکھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جو نماز سکھائی تھی، اس میں رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد مقتدی کو ربنا لک الحمد کہنے کی تعلیم دی تھی۔ لیکن مذکورہ صحابی نے اس کلمہ پر اضافہ کر کے اس طرح کہا: ربنا لک الحمد، حمدا کثیر ا طیبا مبار کا فیہ ۔ فرشتوں کو یہ طریقہ اتنا زیادہ پسند آیا کہ وہ اس کو لکھنے کے لیے بڑی تعداد میں دوڑ پڑے۔ فرشتوں کا یہ عمل اضافہ شدہ کلمات کی افضلیت کی بنا پر نہ تھا۔ بلکہ صحابی کے تخلیقی اضافہ (creative addition) کی بنا پر تھا۔ اس سے ایک سنت صحابہ معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی مومن دعا اور ذکر کے مسنون کلمات پر تخلیقی اضافہ کر سکے تو یہ اس کے لیے ایک عظیم عمل ہوگا۔ جس کو لکھنے کے لیے فرشتے بڑی تعداد میں اس قسم کا اضافہ کوئی سادہ بات نہیں۔ وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کہنے والے کے اندر تخلیقی
ایمان موجود ہے۔
اس قسم کے اضافے کی ایک مثال وہ ہے جو غزوہ خندق (5 ہجری) سے معلوم ہوتی ہے۔ اس وقت مدینہ کے حالات بہت سخت تھے۔ قرآن میں اس کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ (33:7)۔ اس وقت کچھ صحابہ نے پریشانی کا اظہار کیا۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صبر کی تلقین کی اور دعائیہ انداز میں فرمایا: اللهم لا عيش إلا عيش الآخرة، فاغفر للأنصار والمهاجرة (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1805)۔ یعنی اے اللہ، زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔
اس حدیث کو پڑھنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ اس کو ایک کتابی روایت کے طور پر اور اس سے ایک تاریخی واقعے کے بارے میں واقفیت حاصل کریں۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس واقعے کو پڑھتے ہوئے آپ کا زندہ ایمان آپ کے اندر ایک فکری بھونچال پیدا کر دے۔ آپ کا حال یہ ہو کہ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے آپ کے دل میں ہیجان پیدا ہو جائے ۔ اور پھر شدت تاثر کے تحت آپ کی زبان پر یہ الفاظ آجائیں: اللهم لا فوز الا فوز الآخرة... یعنی اے اللہ، کامیابی تو صرف آخرت کی کامیابی ہے۔ اگر آپ ایسا کریں تو یہ آپ کے لیے اسی قسم کا ایک عمل ہوگا جس کو لکھنے کے لیے فرشتے دوڑ پڑیں۔
دعا اور ذکر کے جو ماثور کلمات ہیں، ان کو دہرانے کا بلا شبہ ثواب ہے۔ لیکن اگر آدمی کے اندر زندہ ایمان ہو، اس کا ذہن بیدار ہو، اس کے صبح و شام یادِ خداوندی میں گزرتے ہوں تو اس کا حال یہ ہوگا کہ جب بھی اس قسم کا کوئی تجربہ پیش آئے تو وہ اس کے جذبات میں تموج پیدا کرنے کا ذریعہ بن اس کا تیار ذہن اس کے بارے میں مزید سوچنے لگے گا۔ اس کا تیار ذہن اس کے اندر مزید فکری اضافہ کرے گا۔ یہ اضافہ آدمی کی ایمانی زندگی کا ثبوت ہے۔ اور یہ ایمانی زندگی اتنی قیمتی ہے کہ جب وہ ظاہر ہوتی ہے تو فرشتے اس کو ریکارڈ کرنے کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔ یہی وہ ایمان ہے جس کو یہاں تخلیقی ایمان کا نام دیا گیا ہے۔