Al-Risala · February 2017

اتمام نور

Al-Risala, February 2017, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی دو آیتوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نور کا اتمام ضرور کرے گا (التوبہ: 32، یہاں نور سے مراد معرفت ہے۔ یعنی اللہ ایسے حالات پیدا کرے گا کہ اعلیٰ معرفت کا حصول انسان کے لیے ممکن ہو جائے گا۔

معرفت الہیٰ بلاشبہ دین میں سب سے بڑا مقصود ہے۔ معرفت کے لیے ہمیشہ فریم ورک درکار ہوتا ہے۔ جیسا فریم ورک، ویسی معرفت۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ قدیم زمانے میں معرفت کے موضوع پر غور و فکر کے لیے صرف روایتی فریم ورک (traditional framework) دستیاب یہ فریم ورک بلاشبہ مفید تھا۔ لیکن وہ رب العالمین کی کامل معرفت کے لیے کارآمد نہ تھا۔ حالات میں تبدیلی کرکے انسان کو ایسے فریم ورک تک پہنچایا جو معرفت کے حصول میں تکمیل کا کام یہ تکمیلی فریم ورک وہی ہے، جس کو موجودہ زمانے میں سائنٹفک فریم ورک کہا جاتا ہے۔ مثلاً پانی فطرت کا ایک ظاہر ہ ہے۔ پانی پر غور و فکر کر کے انسان معرفت الہیٰ تک پہنچتا ہے۔ قدیم زمانے میں روایتی فریم ورک کے تحت آدمی صرف پانی کے ظاہری پہلوؤں کو لے کر سوچ پاتا تھا۔ اس طرح انسان پانی کی نعمت کو جانتا تھا، لیکن پانی کے اندر جو عظیم حکمتیں پوشیدہ ہیں، ان سے وہ بے خبر موجودہ زمانے میں پانی کے سائنسی مطالعے سے اس کے بارے میں سمندری معلومات حاصل دو گیسوں کے ملنے سے پانی کا بننا۔ بارش کے بعد پانی کا سمندروں میں جمع ہونا۔ میں پریزرویٹو (preservative) کے طور پر نمک کا شامل ہونا۔ پھر سورج کی گرمی سے پانی کا بھاپ میں تبدیل ہونا۔ پھر فضا میں جا کر اس کا بادل کی صورت اختیار کرنا۔ پھر زمین کی کشش سے بادل کا بارش کی صورت میں زمین پر برسنا، وغیرہ۔ ان معلومات نے پانی کے بارے میں ایک عظیم سائنٹفک فریم ورک کو دیا ہے، جس پر غور کرنے سے معرفت خداوندی میں بے پناہ حد تک اضافہ ہوتا ہے۔

Printed page