Al-Risala · February 2017

آدم سے مسیح تک

Al-Risala, February 2017, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا میں جتنے بھی پیغمبر آئے ان سب کا مقصد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا پیغام دینا تھا۔ نے عام طور پر ان کے ساتھ برا سلوک کیا۔ حضرت عیسیٰ کو کوئی ساتھی نہ ملا۔ لوگ ان کے قتل کے در پے ہو گئے۔ حضرت لوط نے اپنی بستی کو چھوڑا تو ان کے ساتھ ان کی صرف دو بیٹیاں تھیں۔ نوح کے ساتھ ان کی کشتی کا قافلہ توریت کے بیان کے مطابق صرف آٹھ افراد پر مشتمل تھا۔ ابراہیم جب اپنے وطن عراق سے نکلے تو اُن کے ساتھ اُن کی بیوی سارہ تھیں اور ان کے بھتیجے لوط۔ اس قافلہ میں ان کے دو بیٹے اسماعیل اور اسحاق شامل ہوئے ۔ حضرت مسیح کو ساری کوششوں کے باوجود صرف 12 آدمی ملے۔ وہ بھی، بائبل کے بیان کے مطابق، آخر وقت میں آپ کو چھوڑ کر بھاگ بیشتر انبیاء کا حال یہی رہا، کوئی تنہا رہ گیا اور کسی کو چند ساتھ دینے والے ملے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5705) ۔ قرآن کی یہ آیت اس پوری تاریخ پر ایک تبصرہ ہے : افسوس ہے بندوں کے حال پر جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا تو انھوں نے اس کی ہنسی اڑائی (یس:30) ۔ لوگوں کے اس سلوک کی بنا پر ایسا ہوا کہ قدیم زمانے میں انبیاء کی کوئی تاریخ نہ بن سکی۔ نبی نے عملاً اپنے پیغمبرانہ رول کو ادا کیا۔ لیکن مدون تاریخ (recorded history) میں ان نبیوں کا اندراج نہ ہوسکا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کو پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے تاریخ میں ایسی تبدیلیاں کیں کہ پیغمبر اسلام کو یہ موقع ملا کہ وہ پیغمبرانہ مشن کو مدون تاریخ کا ایک حصہ بنا دیں۔ کو فرانسیسی مستشرق رینان (Ernest Renan) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔ کی مکمل روشنی میں وجود میں آیا: Islam was born in the full light of history محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حیثیت تاریخ میں اس طرح ثبت ہوئی کہ عمومی طور پر اہل علم نے اس کا اعتراف کیا۔ آپ کی تاریخی حیثیت پر بہت سی کتابیں لکھی گئیں۔ ان میں سے ایک کتاب وہ ہے جودی ہنڈریڈ (100 The) کے نام سے امریکا سے شائع ہوئی۔

Printed page