Al-Risala · February 2017

غصہ کیوں آتا ہے

Al-Risala, February 2017, pp. 41–45

By Maulana Wahiduddin Khan

غصہ ایک عام برائی ہے۔ اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہوتی ہے تو وہ غصہ ہو جاتے ہیں۔ غصہ ہمیشہ شکایت سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ نفرت کی صورت اختیار کرتا ہے۔ یہ نفرت مزید بڑھ کر عناد (enmity) کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ کے بعد وہ یہ کرتا ہے کہ جس آدمی پر اس کو غصہ آیا اس کو ہر اعتبار سے وہ نیچا دکھانے کی کوشش شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ یہ چاہنے لگتا ہے کہ کسی طرح یہ ثابت ہو کہ وہ غصہ کرنے میں غصہ کی اصل جڑ انانیت (ego) ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اپنی بے شعوری کی بنا پر اپنے اندر وہ صفت پیدا نہیں کر پاتے جس کو آرٹ آف ایگو مینجمنٹ (art of ego management) کہا جاتا ہے۔ جو آدمی اس آرٹ کو جانے وہ اپنی ذہنی بیداری (intellectual awakening) کی بنا پر اس قابل ہوگا کہ وہ اپنے ایگو کو اپنے عقل کے تابع رکھے نہ کہ خودا یگو (ego) کے تابع ہو جائے۔ غصہ فطرت کا ایک ظاہر ہے۔ ہر آدمی کے اندر فطری طور پر غصہ کے جذبات موجود ہوتے لیکن غصہ کی ایک صورت محمود ہے، اور دوسری صورت غیر محمود۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس فرق کو کیوں کہ غصہ کی محمود صورت جائز ہے، جب کہ غصہ کی غیر محمود صورت ایک گناہ ہے۔ غصہ کی غیر محمود صورت وہ ہے جو غرور (arrogance) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اپنے کو بڑا، اور دوسرے کو چھوٹا سمجھنا۔ اس بنا پر اپنے خلاف بات سن کر بھڑک اٹھنا۔ اس قسم کا غصہ کبر کی علامت ہے۔ اور کبر بلاشبہ ایک گناہ ہے۔ محمود غصہ وہ ہے جو اصول پسندی کی بنا پر کسی کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ جب ایک آدمی اصول پسند (man of principle) ہو تو وہ اصول کے معاملے میں حساس (sensitive) ہو جائے گا۔ اس بنا پر وہ خلاف اصول بات کو برداشت نہیں کر پاتا۔ وہ شدید انداز میں اس کے خلاف نگیر کرنا چاہتا ہے۔ وہ بظاہر غصہ ہوتا ہے لیکن حقیقہ وہ شدت اظہار ہوتا ہے۔

سوال و جواب کیا غیر مسلموں میں دعوت کی ذمہ داری ہر ہر مسلمان پر اُسی طرح عائد ہوتی ہے جس طرح پیغمبر پر عائد تھی؟ اس کی وضاحت فرمائیں۔ (عباد افضل، الہ آباد، یوپی) آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ بلاشبہ غیر مسلموں میں دعوت کی ذمہ داری ہر ہر مسلمان پر اُسی طرح عائد ہوتی ہے جس طرح پیغمبر پر عائد تھی۔ دعوت اپنی حقیقت کے اعتبار سے پیدا ہونے والے انسانوں کو یہ بتانا ہے کہ پیدا کرنے والے نے ان کو کس لیے پیدا کیا، اور آخر کار ان کا خالق اس سے کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ اس عمل کو قرآن میں انذار و تبشیر کہا گیا ہے۔ ہونے والے انسان چوں کہ قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے، اس لیے انذار و تبشیر کا عمل بھی قیامت تک جاری رہے گا۔

اس معاملہ میں پیغمبر کی حیثیت نمونہ (model) کی ہے۔ پیغمبر نے اپنے زمانے میں انذار و تبشیر کا جو کام کیا، وہ ایک اعتبار سے اپنی ذمے داری کی ادائیگی کے طور پر تھا، اور دوسرے اعتبار سے وہ تمام اہلِ ایمان کے لیے نمونہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ حدیث میں آیا ہے : صلوا كما رأيتموني أصلي (صحیح البخاری، حدیث نمبر631)۔ توسیعی معنی کے اعتبار سے حدیث میں یہ بات بھی شامل ہے کہ تم انذار و تبشیر کا کام اس طرح کرو جس طرح تم مجھ کو کرتے ہوئے دیکھتے ہو۔ قرآن حدیث میں یہ حکم بار بار آیا ہے۔ مثلا قرآن میں ہے کہ امت محمدی کی حیثیت امت وسط (البقرۃ: 143) کی ہے۔ یعنی بیچ کی امت۔ اُس کا کام یہ ہے کہ وہ سچائی کا علم پیغمبر سے حاصل کرے، اور پھر اس کو بعد کے زمانے میں تمام قوموں تک پہنچاتی رہے۔ اسی اعتبار سے اہلِ ایمان کے بارے میں یہ حدیث آئی ہے : المؤمنون شهداء الله في الأرض (صحیح البخاری، حدیث یعنی مومن زمین پر اللہ کے گواہ ہیں۔ اس بات کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح

بیان کیا گیا ہے: تا کہ میں تم کو اس قرآن کے ذریعہ انذار کروں، اور جس کو پہنچے (وہ بھی قیامت تک انذار کا کام کرتا رہے)۔ میں ماہ نامہ الرسالہ پچھلے دس برسوں سے مطالعہ کر رہا ہوں۔ مجھے اس مشن نے بہت اندر تک متاثر کیا ہے، اور مجھے بالکل بدل دیا۔ ایک مرتبہ میں نے آپ سے ملاقات اور انٹر ایکشن کیا تھا۔ اس وقت آپ نے مجھ سے الرسالہ کے متعلق فیڈ بیک مانگا تھا۔ لیکن میں اس وقت کچھ بول نہ پایا اب اس خط کے ذریعہ میں اسے لکھ رہا ہوں کہ میرے اندر الرسالہ کی وجہ سے کیا کیا تبدیلیاں آئی میری پیدائش 1989 میں ہوئی۔ نو سے پندرہ برس کی عمر تک میں نے گھر سے دور رہ کر مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد کالج سے گریجویشن اور ایم اے کیا۔ الرسالہ مشن سے جو فائدہ ہوا، ان میں سے چند یہ ہیں۔ (1) پہلا فائدہ جو الرسالہ نے دیا، وہ ہے اسلام کی روح سے متعارف کرانا۔ ایک تعلیم یافتہ گھر میں پیدا ہوا، دینی ماحول میں رہا، مدرسے میں وقت بتایا، مگر دین کو دریافت نہ کر پایا دین کے نام پر جو چیز پایا تھا وہ ہے منفی ذہن، شکایتیں، مسلک پرستی، اور قوم پرستی، مجھے حیرت ہوتی ہے کہ صبر وشکر جیسی فنڈ امنٹل چیز بھی میں نہیں جان پایا تھا۔ یہ ماہ نامہ الرسالہ نے مجھے سکھایا۔ ماہ نامہ الرسالہ کی بات کو تحقیق کرنے کے لیے میں نے پورے قرآن کو پڑھا، اور ہزاروں احادیث پڑھی، تب جا کر مجھے یقین کے درجے میں صحیح اسلام حاصل ہوا۔ زبردست فائدہ یہ ہوا کہ میں نے دین کی سیاسی تعبیر کے انحراف کو سمجھا، اور نام نہاد مجاہد بن کر اپنی زندگی کو ہلاکت میں نہ ڈالا۔ ورنہ بچپن ہی سے مجھے جہاد کو اس طرح بتایا گیا تھا کہ گویا وہی اسلام کا اصل مشن ہے، اور وہی مسلمانوں اور اسلام کے مسئلہ کا حل ہے۔ (3) تیسرا فائدہ یہ ہوا کہ آج آپ کی تعلیمات کی وجہ سے میں یقین (conviction) میں جیتا ہوں۔ جب میں مدرسہ سے نکلا تھا، نئے زمانے کی تبدیلیوں کو دیکھتا تھا، سمجھ نہیں پاتا تھا کہ سچائی کیا ہے۔ دل میں خدا، رسول اور آخرت کا یقین تو تھا، مگر ماڈرن ایج سے میں انھیں ریلیٹ (relate) نہیں کر پاتا تھا۔ اس کی وجہ سے میں

کنفیوزن اور اسٹریس میں جیتا تھا۔ اس طرح میں نے پانچ برس تک گزارا۔ بڑی مشکل کا دور تھا۔ کیوں کہ میں ہر تھاٹ اور ہر ڈسپلن کو پڑھتا، مگر اس میں یقین نہیں پاتا تھا۔ لیکن خدا کے فضل سے میں نے ماہ نامہ الرسالہ کے ذریعہ ماڈرن ایج کو اسلام کے ریفرنس میں صحیح طور پر پالیا۔ اندھیرے سے اجالا ملا۔ مندرجہ بالا تبدیلیاں صرف علاماتی تبدیلیاں ہیں۔ ورنہ الرسالہ نے تو مجھے پوری طرح بدل دیا، سب کچھ بدل دیا۔ آئندہ ان شاء اللہ میں اپنا وقت اور پونجی دین کے کام میں صرف کروں گا۔ دعا کیجیے کہ میں دعوت کے کام کو اپنا مشن بنا پاؤں، خدا مجھے معاف کرے، میرا تزکیہ کرے، اور مجھے جنت نصیب کرے ۔ آخر میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ نے صحیح معنوں میں دین کا احیا اللہ آپ کی اس عظیم ترین کوشش کو قبول کرے، اور آپ کو اس کا اعلیٰ ترین صلہ دے۔ (محمد اظہر مبارک، بھاگل پور)

میرا تجربہ ہے کہ صرف فارمل تعلیم، علم کے حصول کے لیے کافی نہیں۔ خواہ وہ سیکولر تعلیم ہو یا دینی مدرسے کی تعلیم۔ فارمل تعلیم جواداروں میں ہوتی ہے، اس میں آدمی کسی دوسرے کی بتائی ہوئی باتوں کا علم حاصل کرتا ہے۔ مگر علم کا خزانہ اس سے بہت زیادہ ہے، جتنا کہ کسی بتانے والے نے آپ کو بتایا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی فارمل ایجوکیشن کے بعد خود مطالعہ کرے۔ سے آدمی، خود در یافت کردہ علم کو حاصل کرے گا۔ اور خود در یافت کردہ علم ہی سے آدمی کو حقیقی معرفت حاصل ہوتی ہے۔

ایجوکیشن کی دو قسمیں ہیں، فارمل ایجوکیشن اور ان فارمل ایجوکیشن۔ الرسالہ مشن کی حیثیت ان فارمل ایجوکیشن کی ہے۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ فارمل ایجوکیشن پائے ہوئے لوگوں کو ان فارمل ایجوکیشن مہیا کی جائے، تاکہ ان کی علمی کمی پوری ہو۔ دونوں طریقوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ دونوں تعلیمی طریقے ایک دوسرے کے لیے تکمیلی حصہ (complementary part) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ طریقوں کو ایک دوسرے سے تقویت حاصل ہوتی ہے۔ مثلا مدرسے کی تعلیم سے اگر دین کا روایتی علم

، شک نہیں کہ کسی انسان کے لیے دونوں ہی ضروری ہے۔

ر سال کے ایک شمارہ میں آپ نے ایک صاحب کو نصیحت کہ تر ہو رہے کہا تھا الرسالہ کے ایک شمارہ میں ہے کہ آپ لے ایک صاحب کو نصیحت کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ایک آدمی آپ کی جاب لے سکتا ہے، مگر کوئی آپ کی تقدیر نہیں چھین سکتا۔ اس کی وضاحت نہ ایک طرف آپ کی جانب سے ملتا ہے، روحوں آپ کی نذر کرتے ہیں۔

(ڈاکٹر روشن کمار، گجرات)

اس کا تعلق کسی کمینہ سے ہوتا ہے، کمینہ کو حق حاصل رہتا ہے کہ جاب کا تعلق کسی کمپنی سے ہوتا ہے۔ کمپنی کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ جب چاہے کسی کو جاب دے، اور جب چاہے کسی کی جاب ختم کردے۔ کمپنی کا یہ حق معاشیات کی دنیا میں ایک مُسلّم حق سمجھا جاتا ہے۔ اس معاملے میں ہر کمپنی کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ خود اپنی صوابدید کے مطابق جو چاہے فیصلہ کرے، اور جو فیصلہ نہ چاہے نہ کرے۔

لیکن تقدیر کا تعلق وسیع تر دنیا سے ہے۔ تقدیر کی دنیا خالق کی پیدا کی ہوئی دنیا ہے۔ کے قانون کے مطابق تقدیر کی اس دنیا میں مواقع (opportunities) اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ فطرت کی دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص آپ سے ایک موقع چھین لے تب بھی وہاں دوسرے مواقع موجود رہتے ہیں۔ کوئی ادارہ اپنے دیے ہوئے موقع کو واپس لے سکتا لیکن فطرت کی دنیا میں جو مواقع ہیں ، ان کو منسوخ کرنا کسی شخص یا ادارے کے لیے ممکن نہیں۔ لیکن یہ دوسرے مواقع اپنے آپ کسی کو نہیں ملتے۔ جس طرح کوئی آدمی جب ایک موقع حاصل کرتا ہے تو وہ اس کو وقت ملتا ہے، جب کہ اس نے اپنے آپ کو اس کے حسب حال تیار کیا اس لیے آدمی کو چاہیے کہ اگر ایک موقع اس سے چھن جائے تو وہ کسی دوسرے موقع کو دریافت کرے، اور اس کے مطابق اپنے آپ کو دوبارہ تیار کرے۔ جو آدمی ایسا کرے گا، اس کو کبھی کسی کمپنی یا رے، اور اس کے حامی، آپ کی، آپ کو، یا کسی ادارے سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔

Printed page