Al-Risala · January 2018

ٹکراؤ سے کامل پر ہیز

Al-Risala, January 2018, pp. 11–12

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام جب مدینہ آئے تو وہاں دوسرے قبائل کے ساتھ یہود کے قبائل بھی آباد تھے۔ اس وقت مدینہ کی آبادی میں یہود تقريباً نصف حصہ تھے۔ وہ مدینہ کی معاشیات میں غالب حیثیت رکھتے ایسی حالت میں یہود سے ٹکراؤ کا طریقہ آپ کے مشن کی راہ میں مستقل مسئلہ بن سکتا تھا۔ اس معاملے کے حل کے لیے آپ نے وہ اصول اختیار کیا جس کو قرآن میں تالیف قلب (التوبہ: 60) کہا گیا ہے۔ یعنی یہود کے ساتھ فرینڈلی بیہیویئر (friendly behaviour) کا اس مقصد کے لیے آپ آخری حد تک گئے۔ جیسا کہ معلوم ہے یہود کے لیے عبادت کا ایک قبلہ تھا، اور وہ قبلہ بیت المقدس تھا۔ پیغمبر اسلام جب مکہ میں تھے تو آپ کا قبلہ کعبہ تھا، مگر مدینہ پہنچنے تو آپ نے بیت المقدس کو اپنے اور اپنے اصحاب کی عبادت کا قبلہ بنا لیا۔ ایسا آپ نے یہود کی تالیف قلب کے لیے کیا۔ جیسا کہ قرآن کی سورہ البقرۃ کی آیت 143 کے تحت مختلف مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ یہود کی تالیف قلب کے لیے تھا، مثلاً تفسیر الرازی (4/89)، وتفسیر النسفی (1/138)، تالیف قلب کا مطلب ہے دل کو نرم کرنا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مدینہ کے یہود سےقریبی تعلق جوڑتے ہوئے اپنا کام کرنا۔

یہ صرف یہود کا معاملہ نہیں۔ آپ نے اپنے مشن میں کبھی ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔

نے ہمیشہ یہ کیا کہ اپنے پڑوسی سے معتدل تعلقات رکھتے ہوئے اپنے مشن کا کام کرنا۔ آپ کا یہ طریقہ صرف عرب کے مشرکین کے ساتھ نہیں تھا، بلکہ عرب کی سرحد سے باہر بھی جو لوگ آباد تھے، ان کے ساتھ بھی آپ نے یہی طریقہ اختیار کیا۔ یعنی پڑوسی قبائل اور پڑوسی ملکوں کو وفود بھیجنا۔ وفود بھیجنا، آج کل کی اصطلاح میں گڈویل مشن (goodwill mission) کی حیثیت رکھتا ہے۔

Printed page