Al-Risala · March 2018

امت مسلمہ کی ذمہ داری

Al-Risala, March 2018, pp. 8–12

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان (قرآن) اتارا تا کہ وہ سارے عالم کے لئے خبر دار کرنے والا بنے ۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اس وقت پیشین گوئی (prediction) کی زبان میں یہ اعلان کیا گیا کہ قرآن سارے عالم میں پھیل جائے گا، یہاں تک کہ اس کا پیغام زمین پر بسنے والے ہر مرد اور ہر عورت تک پہنچ یہی بات حدیث رسول میں اس طرح بیان کی گئی ہے: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر، ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی زمین پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔ یہ حدیث رسول پیشگی خبر کی زبان میں یہ بتا رہی ہے کہ آخری دور میں امت کا فائنل رول کیا وہ رول یہ ہوگا کہ امت اپنے زمانے کے اعتبار سے ایک عالمی منصوبہ بندی کرے، اور مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کے کلام (word of God) کو دنیا کے ہر گوشے میں پہنچادے۔

تک کہ کوئی عورت یا مرد اس سے بے خبر نہ رہے۔

اس حدیث میں کلمۃ الاسلام سے مراد قرآن ہے۔ قرآن کو ہر انسان تک پہنچانا کسی پر اسرار طریقے پر نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ دوسرے واقعات کی طرح اسباب کے ذریعے ہوگا۔ بعد کے دور میں ایسے اسباب انسان کے دسترس میں آئیں گے، جن کو استعمال کرکے امت خدا کی کتاب کو تمام انسانوں قرآن کو سارے عالم تک پہنچانا ایک ایسا مشن ہے، جو امت مسلمہ صرف اپنی طاقت سے نہیں کر سکتی۔ اس لیے اللہ نے تاریخ کو اس طرح مینج کیا کہ دوسری قومیں بھی اس تاریخی مشن میں تائیدی رول(supporting role) ادا کریں۔ یہی بات مذکورہ حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی اللہ ضرور اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے کرے گا۔ حدیث میں فاجر انسان سے مراد سیکولر انسان ہے۔ یعنی مستقبل میں ایسے لوگ اٹھیں گے، جو بظاہر اپنے مادی محرکات (commercial interest) کے تحت ایک عمل کریں گے۔ مگر یہ اسباب عملاً اہلِ دین کے لیے سپورٹر بن جائیں گے۔

اس حدیث میں سیکولر مؤید(supporter) سے مراد وہی واقعہ ہے، جس کو موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ مغربی تہذیب ایک مادی تہذیب ہے۔ اس نے اپنے مادی مقاصد کے لیے بہت سے نئے اسباب پیدا مگر یہ اسباب امکانی طور پر(potentially) قرآن کی عالمی اشاعت کا ذریعہ بن گئے۔ مغربی تہذیب کے بعد پہلی بار یہ ہوا کہ دنیا کا جغرافیہ پوری طرح ایک معلوم واقعہ بن گیا۔ مذہبی آزادی موجودہ زمانے میں انسان کا ایک مسلمہ حق (accepted right) بن گئی۔ زمانے میں پرنٹنگ پریس اور الیکٹرانک کمیونی کیشن جیسی چیزیں وجود میں آئیں، جن کے ذریعے پہلی بار عالمی ابلاغ (global communication) ممکن ہوگیا۔ لائبریری کلچر اور کانفرنس کلچر جیسی چیزیں آخری حد تک عام ہوگئیں۔ سیاحت (tourism) کا ظاہرہ وجود میں آیا، جس کی

صورت میں گویا مدعوو خود داعی کے دروازے تک پہنچ گیا۔ لوگوں میں کھلا پن (openness) کا مزاج پیدا ہوا، جس کی بنا پر لوگ غیر متعصبانہ انداز میں مختلف مذاہب کا مطالعہ کرنے لگے، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے اسباب اہل دین کے لیے تائید (support) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وجہ سے تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ اہل دین ان کو استعمال کر کے قرآن کے اعلان اور پیغمبر اسلام کی پیشین گوئی کو واقعہ بنا دیں۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ اہل دین ہر قسم کے منفی خیالات کو چھوڑ کر اٹھیں اور خالص مثبت ذہن کے تحت قرآن کو تمام انسانوں تک پہنچا دیں۔ تا کہ انسان اس خدائی ہدایت سے رہنمائی لے کر اپنی دنیا اور آخرت کو کامیاب بنا سکے۔ اکیسویں صدی میں قرآن کی عالمی تبلیغ کا مطلوب مشن آخری حد تک ممکن ہو چکا ہے۔ اس امکان کو واقعہ بنانے کی شرط صرف یہ ہے کہ امت مسلمہ نفرت اور تشدد کے کلچر کو مکمل طور پر ختم کر دے۔ وہ پر امن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے، تمام قوموں تک قرآن کا پیغام پہنچا دے۔

ہر انسان پیدائشی طور پر حق کا متلاشی ہے۔ ہر انسان اپنی فطرت کے زور پر حق کا طالب بنا ہوا لیکن موجودہ زمانے میں مسلمان اپنی غلط سوچ کے تحت نفرت اور تشدد کے کلچر میں مبتلا ہو گئے اس کلچر نے داعی اور مدعو کے درمیان دوری کا ماحول قائم کر دیا ہے۔ امت مسلمہ پر فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر نفرت اور تشدد کے موجودہ کلچر کو ختم کر دے، اور پوری طرح امن کا ماحول قائم کر دے۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوگا کہ قرآن کا پیغام ہر جگہ پہنچنے لگے آج امت مسلمہ کو یہ کرنا ہے کہ وہ نفرت اور تشدد کے کلچر کو ختم کر کے امن کلچر کو اپنائے، اور دعوت کی پرامن پلاننگ (peaceful planning) کرے، اور خالص پر امن انداز میں سارے عالم تک اللہ کے پیغام کو پہنچادے۔ یہی امت مسلمہ کا فائنل رول ہوگا۔ اسی دعوتی رول کی ادائیگی کے نتیجے میں امت مسلمہ کو دوبارہ وہ سرفرازی حاصل ہوگی جس کا تاریخ کو انتظار ہے۔ موجودہ زمانے میں ہم اپنے آپ کو جس تہذیب کے دور میں پاتے ہیں، اس تہذیب کو عام

طور پر مغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا ہے۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک مادی تہذیب (material civilization) ہے۔ یہ مادی تہذیب خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق ایک مقدر تہذیب تھی۔ یہ تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے دین خداوندی کے لیے پوری طرح ایک موافق تہذیب ہے۔ تاہم ہر دوسری چیز کی طرح اس تہذیب کے بھی مختلف پہلو ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس تہذیب کے غیر متعلق پہلو (irrelevant part) کو نظر انداز کر کے اس کے متعلق پہلو (relevant part) کو دیکھا جائے۔

اس مادی تہذیب کا بالواسطہ حوالہ قرآن کی ایک آیت میں ملتا ہے، وہ آیت یہ ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (41:53)۔ یعنی مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے کہ یہ حق ہے۔ کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز کا گواہ ہے۔ یہاں آیات سے مراد وہ قوانین فطرت ہیں جو تخلیقی طور پر اس دنیا میں ہمیشہ سے موجود ’’ہم نشانیاں دکھائیں گے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ انسانوں کو توفیق دے گا کہ وہ فطرت کے مخفی قوانین (hidden laws of nature) کو دریافت کریں، اور اس طرح دین خداوندی کی تائید (support) کے لیے ایک عقلی بنیاد (rational base) فراہم ہو۔ تہذیب نے انسانی دنیا اور مادی دنیا میں چھپی ہوئی جن حقیقتوں کو دریافت کیا ہے، وہ سب بلاشبہ دین حق کی فکری تصدیق کرنے والی ہیں۔

موجودہ دنیا میں انسان کو آباد کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ معرفت (realization) کا سفر کرے، اور اپنی شخصیت کو اعلیٰ ارتقاء کے درجے تک پہنچائے۔ اس تہذیب نے انسان کے لیے غور وفکر کا ایک نیا فریم ورک (framework) دیا۔ اس نے غور وفکر کے لیے انسان کو نئی معلومات (data) فراہم کیں۔ اس نے انسان کو نئے وسائل (resources) دیے۔ یہ تمام چیزیں اہل دین کے لیے تائیدی عنصر (supporting factor) کی حیثیت رکھتی ہیں، وہ اس لیے ہیں کہ

انسان اپنے سفر معرفت کو زیادہ کامیابی کے ساتھ جاری رکھے، وہ اپنے آپ کو مطلوب الہی کے مطابق ایک سیلف میڈ مین (self-made man) کی حیثیت سے ڈیولپ کرے۔

Printed page