مخالف پہلو کو موافق پہلو بنانا
Al-Risala, January 2018, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام کی نبوت کے تیرہ سال بعد ہجرت کا واقعہ پیش آیا۔ یعنی پیغمبر اسلام نے اپنا وطن مکہ چھوڑ دیا، اور مکہ سے تقریباً 500 کلومیٹر دور مدینہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ آ کر آباد ہو گئے۔
آپ کی ہجرت مزید ٹکراؤ کے لیے نہیں تھی۔ مگر قدیم مکہ کے قریش خاموش نہیں ہوئے۔ فیصلہ کیا کہ یک طرفہ طور پر آپ کے خلاف اقدام کر کے آپ کے مشن کا کلی طور پر خاتمہ کر دیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے مکہ کے تمام قبائل کی مدد سے ایک بڑا منصوبہ بنایا، تا کہ وہ پیغمبر اسلام کے مشن کو جڑ سے ختم کر سکیں۔ پھر ایک ہزار مسلح افراد کے ساتھ مکہ سے مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔
اس کے بعد راستہ میں بدر کے مقام پر 2 ہجری میں دونوں فریقین کے درمیان مڈبھیڑ ہوئی۔ اس وقت اہل ایمان کو کامیابی حاصل ہوئی، اور ان کے ہاتھ تقریباً 70 مشرکین قید ہو گئے۔ رہائی کا یہ فدیہ مقرر کیا گیا کہ وہ مدینہ کے بچوں کو لکھنا سکھا دیں (فداء هم أن يعلموا أولاد الأنصار الكتابة) مسند احمد، حدیث نمبر 2216۔
بدر میں قید کیے ہوئے مکہ کے یہ لوگ جنگی اصطلاح میں جنگی قیدی ( prisoners of اس زمانے کے عام رواج کے مطابق پیغمبر اسلام یہ کر سکتے تھے کہ ان کو قتل لیکن آپ نے انتقام سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ اس طرح آپ کے لیے ممکن ہوا کہ یہاں اپنے ایک مائنس (minus) کو پلس (plus) میں بدل دیں۔ جو لوگ بظاہر آپ کے دشمن تھے، ان کو اپنے معاون کے طور پر استعمال کیا۔ یعنی دشمن کو اپنے بچوں کے لیے ٹیچر کے طور پر استعمال کیا۔ آپ کی اس پالیسی کے تحت مدینہ میں پہلا اسکول قائم ہوا، جس کے ٹیچر سب کے سب آپ کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔