Al-Risala · March 2018

I think, therefore, I am

Al-Risala, March 2018, pp. 19–21

By Maulana Wahiduddin Khan

اس اصول کی توسیع کرتے ہوئے یہ کہنا درست ہوگا کہ میں ہوں اس لیے خدا بھی موجود ہے : I am, therefore, God is خالق کی تخلیقی اسکیم (creation plan) ہمیشہ سے ثابت شدہ حقیقت تھی۔ صدی کے بعد دنیا میں ایک نیا دور آیا ہے۔ جب کہ نظری حقیقتیں، مادی حقائق کی روشنی میں قابل فہم (understandable) بن گئیں۔ مثلاً غیب پر ایمان قدیم زمانے میں ایک عقیدہ کی بات تھی۔ موجودہ زمانے میں کوانٹم فزکس (quantum physics) کی دریافت کے بعد یہ صرف نظری بات نہ رہی، بلکہ پراببیلیٹی (probability) کے درجے میں تقریباً قابل یقین حقیقت کے درجہ تک پہنچ گئی۔ پراببیلیٹی جدید سائنس کا ایک اہم اصول ہے۔ کہا جاتا ہے: Probability is less than certainty, but more than perhaps موجودہ زمانے میں جن چیزوں کو سائنسی حقیقت (scientific fact) کہا جاتا ہے، ان سب کا معاملہ یہی ہے۔ ان میں سے ہر ایک پراببیلیٹی کے درجے میں مسلمہ حقیقت بنی ہیں، نہ کہ مشاہدہ کے درجے میں ۔ یہی معاملہ مذہبی عقائد یا تصورات کا ہے۔ اس زمانے میں مذہبی تصورات اسی تسلیم شدہ درجے میں ثابت شدہ بن چکے ہیں، جس درجے میں مسلمہ سائنسی حقائق۔ اہل علم کی شہادت زیر نظر موضوع سے متعلق قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ

اِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِکَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ (3:18)۔ اللہ گواہی دیتا ہے کہ یقیناً اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور فرشتے اور اہل علم میں سے جو انصاف پر قائم ہیں (وہ بھی یہی گواہی دیتے ہیں کہ) اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ غالب ہے حکمت والا۔ اللہ شہادت دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تخلیق کے ہر جزء پر خالق کی اسٹیپ (stamp) لگی ہوئی ہے۔ تخلیق (creation) کا مطالعہ باعتبارِ حقیقت خالق کے عمل (act) کا مطالعہ ہے۔ تاہم اس معاملے میں سائنس کے آغاز پر ایک ناموافق حادثہ وہ سائنٹفک کمیونٹی اور کرسچن چرچ کے درمیان ٹکراؤ تھا۔ اس کی تفصیل درج ذیل کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے :

History of the Conflict Between Religion and Science by John William Draper (1874)

یہ تصادم سائنٹفک کمیونٹی اور کرسچن چرچ کے درمیان تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ سائنٹفک کمیونٹی نے نیچر کے مطالعہ (باعتبارِ حقیقت تخلیق کے مطالعہ) میں تخلیق اور خالق کو ایک دوسرے سے ڈی لنک (delink) کر دیا۔ وہ تخلیق کا مطالعہ خالق کے ریفرنس کے بغیر کرنے اس طرح سائنس بظاہر ایک سیکولر سبجکٹ بن گیا۔ حالاں کہ باعتبارِ حقیقت وہ مکمل طور پر ایک مذہبی سبجکٹ کی حیثیت رکھتی تھی۔

اس کے بعد دوسری غلطی مسلم علماء نے کی۔ انھوں نے سائنس کو ایک مادی سبجکٹ کا درجہ دے دیا، جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہ ہو۔ حالاں کہ مسلم علماء کو کرنا یہ تھا کہ وہ اس ڈی لنکنگ کو ختم وہ دنیا کو یہ بتائیں کہ سائنس جس مطالعے کو نیچر کا مطالعہ کہہ رہی ہے، وہ دراصل تخلیق کا مطالعہ ہے، اور تخلیق کا مطالعہ اپنے آپ تخلیق کے خالق کا مطالعہ ہے۔

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ آیت میں اولو العلم سے مراد دین کے علماء نہیں ہیں، بلکہ طبیعیاتی سائنس کے علماء ہیں۔ اٹلی کے سائنس داں گلیلیو گلیلی کے بعد دنیا میں ایک نیا دور اس کو سائنس کا دور (age of science) کہا جاتا ہے۔ اس دور میں خالص عقلی اصولوں کی

روشنی میں مادی دنیا کا مطالعہ شروع ہوا۔ یہ مطالعہ تیزی سے بڑھا، یہاں تک کہ سائنس سب سے بڑا علمی شعبہ بن گیا۔ اس سائنسی مطالعے نے فطرت کے بہت سے اسرار دریافت کیے، جواب تک غیر دریافت شدہ حالت میں پڑے ہوئے تھے۔ یہ دریافتیں تخلیقی دنیا سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس بنا پر ان کا تعلق براہ راست طور پر خالق کی معرفت سے تھا۔

سائنسی علوم کا مطالعہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے خالق کی معرفت کا مطالعہ تھا۔ نے اس مطالعے کو مکمل طور پر ایک سیکولر سبجکٹ کے طور پر کیا۔ تقریباً چار سو سال کے سائنسی مطالعے کے نتیجے میں جو سائنسی معلومات انسان کے علم میں آئی ہیں، وہ سب کی سب معرفت خداوندی کا دفتر لیکن سائنسی دریافتوں کا یہ پہلو ابھی تک چھپا ہوا تھا۔ اس معاملے میں اب اہل اسلام کا رول یہ ہے کہ وہ اس کے ریفرنس (reference) کو بدلیں۔ علوم فطرت کی جو دریافتیں اب تک سیکولر دریافتوں کی حیثیت سے سمجھی جاتی رہی ہیں، ان کورب العالمین کی دریافت کا درجہ دے دیں۔ سائنس کو اسلام کے علم کلام کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے لائیں۔ ان دریافتوں کی بنیاد پر وہ اسلام کا نیا علم کلام مدون کریں۔

Printed page