راستہ بدلنا
Al-Risala, January 2018, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح کا ایک اور واقعہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ سفر میں آپ کو یہ خبر ملی کہ راستے میں دوسری طرف سے مکہ کے خالد بن الولید آپ سے مقابلہ کرنے کے ارادے سے ایک مسلح دستہ لے کر آ رہے ہیں۔ اس وقت آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم میں سے کون ہے جو مجھے خالد کے راستے کے سوا کوئی اور راستے سے لے جائے (من رجل يخرج بنا
على طريق غير طريقهم التي هم بها)۔ سیرت ابن ہشام، ایک آدمی نے کہا کہ چناں چہ آپ نے اس وقت اپنے سفر کا راستہ بدل دیا۔ اس کی وجہ سے آپ کے ساتھیوں اور خالد کے ساتھیوں میں مڈبھیڑ نہیں ہوئی۔
یہ اسی پیغمبرانہ حکمت کی ایک مثال ہے۔ عام طریقے کے مطابق آپ کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ آپ اپنے ساتھیوں کو لے کر اسی راستے پر آگے بڑھیں، اور خالد سے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کریں۔ آپ نے اس معاملے میں ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ دیا، اور اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ اس طریقہ کو ایک لفظ میں پَریکٹکل وزڈم (practical wisdom) کہہ سکتے ہیں۔ آپ کی زندگی کے واقعات کہتے ہیں کہ آپ نے ہمیشہ ایسا کیا کہ آپ نے آندیل وزڈم کو چھوڑا، اور پَریکٹکل وزڈم کو اختیار کیا۔ آپ کو اپنے مشن میں جو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی، اس کا سبب یقینی طور پر یہی پَریکٹکل وزڈم تجربہ بتاتا ہے کہ آندیِل وزڈم نتیجہ کی اعتبار سے بے فائدہ ٹکراؤ کی طرف لے جاتا ہے۔ کے برعکس، پریکٹکل وزڈم غیر ضروری نقصان سے بچا کر کامیابی کی منزل تک پہنچادیتی ہے۔ پیغمبر اسلام کا طریقہ آپ کی پوری زندگی میں اسی وزڈم کے مطابق تھا۔ آپ ہمیشہ ہر معاملے میں پَریکٹکل وزڈم پر چلے، اور یہی آپ کی اعلیٰ کامیابی کا راز تھا۔