Al-Risala · March 2018

سائنس سے معرفت تک

Al-Risala, March 2018, pp. 21–25

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس کیا ہے۔ سائنس دراصل ایک منظم علم کا نام ہے۔ سائنس سے مراد وہ علم ہے جس میں کائنات کا مطالعہ موضوعی طور پر ثابت شدہ اصولوں کی روشنی میں کیا جاتا ہے: Science: the systematized knowledge of nature and the کائنات کی حقیقت کے بارے میں انسان ہمیشہ غور و فکر کرتا رہا ہے۔ سب سے پہلے روایتی عقائد کی روشنی میں، اس کے بعد فلسفیانہ طرزِ فکر کی روشنی میں، اور پھر سائنس کے مسلمہ اصولوں کی روشنی سائنس کا موضوع کائنات (physical world) کا مطالعہ ہے۔ تقریباً چار سو سال کے مطالعے کے ذریعے سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے، وہ استنباط (inference) کے اصول پر خالق کے وجود کی گواہی دے رہی ہے۔ لیکن غالباً کسی سائنسداں نے کھلے طور پر خدا کے وجود کا اقرار

نہیں کیا ہے۔ ان کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ البرٹ آئن سٹائن (1955-1879) کی طرح ان کا کیس کھلے طور پر خدا کے انکار (atheism) کا کیس نہیں ہے، بلکہ ان کا کیس لا ادری (agnosticism) کا کیس ہے۔

طبیعیاتی سائنس کے میدان میں پچھلی چار صدیوں میں تین انقلابی ڈیولپمنٹ پیش آئے ہیں۔ اول، برٹش سائنس داں نیوٹن کا مفروضہ کہ کائنات کی بنیادی تعمیری اینٹ مادہ ہے۔ اس کے بعد بیسویں صدی کے آغاز میں جرمن سائنس داں آئن سٹائن کا یہ نظریہ سامنے آیا کہ کائنات کی تعمیری اینٹ توانائی ہے، اور اب آخر میں ہم امریکن سائنس داں ڈیؤڈ بام کے نظریاتی دور میں ہیں، جب کہ سائنس دانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد یہ مان رہی ہے کہ کائنات کی بنیادی تعمیری اینٹ شعور ہے۔ تبدیلیاں لازمی طور پر ایک نئے فلسفے کو جنم دیتی ہیں، جب کہ فلسفہ مادیت سے گزر کر روحانیت تک پہنچ گیا ہے:

In the realm of the physical science, we have had three major paradigm shifts in the last four centuries. First, we had the Newtonian hypothesis that matter was the basic building block of the universe. In the early twentieth century, this gave way to the Einsteinian paradigm of energy being the basic building block. And the latest is the David Bohm era when more and more scientists are accepting consciousness to be the basic building block. These shifts have had inevitable consequences for the New Age philosophy, which has moved away from the philosophy of crass materialism to that of spirituality. وہ دور جس کو سائنسی دور کہا جاتا ہے، اس کا آغاز تقریباً سو سال پہلے مغربی یورپ میں ہوا۔ دھیرے دھیرے عمومی طور پر یہ تاثر بن گیا کہ سائنس حقیقت کو جاننے کا سب سے اعلیٰ ذریعہ ہے۔ بات سائنس سے ثابت ہو جائے، وہی حقیقت ہے، جو بات سائنسی اصولوں کے ذریعہ ثابت نہ ہو، وہ حقیقت بھی نہیں۔ ابتدائی صدیوں میں سائنس خالص مادی علم کے ہم معنی بن گیا۔ چوں کہ مذہبی حقیقتیں مادی معیار استدلال پر بظاہر ثابت نہیں ہوتی تھیں، اس لیے مذہبی حقیقتوں کو غیر علمی قرار دے دیا گیا۔

لیکر علم کا یہ سلسلا آتا ہے، اگر بڑھتا رہے تو سلسا آتا ہے موقع آتا ہے کہ خود اپنیں ادی علم کی ہے عملاً غیر مادی علم کے ہم معنی بن گیا۔

پچھلی صدیوں کی علمی تاریخ بتاتی ہے کہ سائنس کے ارتقا کے ذریعے پہلی بار استدلال کی ایسی علمی بنیاد وجود میں آئی جو عالمی طور پر مسلمہ علمی استدلال کی حیثیت رکھتی تھی، پھر اس میں مزید ارتقا ہوا، اور آخر کار سائنس ایک ایسا علم بن گیا جو مسلمہ عقلی بنیاد پر یہ ثابت کر رہا تھا کہ کائنات ایک بالاتر شعور کی کارفرمائی ہے۔ ایک سائنس داں نے کہا ہے —— کائنات کا مادہ ایک ذہن ہے: The stuff of the world is mind-stuff (Eddington)

مشہُور سائنس داں ڈاکٹر اسٹیفن ہاکنگ نے کہا ہے:

وہ ایک دوسری جگہ کہتے ہیں:

کوانٹم فزکس کے نظریے کو اگر اس معاملے پر منطبق کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے: یہ خالص سائنس کا موقف ہے۔ لیکن جہاں انسان کے وجدان (intuition) کا تعلق یہ پاس ہی اس کا مسکن ہے۔ میں یہاں انسان کے ربداں کا وجود ہے۔ اس کی سطح پر خدا کا وجود اتنا ہی یقینی ہے، جتنا کہ انسان کا وجود۔ سائنس اور عقیدہ خدا 1927 میں بلجیم کے ایک سائنس داں جارجز لیمیٹری (Lemaitre)

تک کہ اس کی حیثیت ایک مسلمہ واقعہ کی ہوگئی۔ آخرکار 1965 میں بیگ گراؤنڈ ریڈی ایشن (background radiation) کی دریافت ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کائنات کے بالائی خلا میں لہر دار سطح (ripples) پائی جاتی ہیں۔ یہ بگ بینک کی شکل میں ہونے والے انفجار کی باقیات ان لہروں کو دیکھ کر ایک امریکی سائنس داں جو یل پرائمک (Joel Primack) نے کہا تھا کہ یہ لہریں خدا کے ہاتھ کی تحریر ہیں:

The ripples are no less than the handwriting of God. جارج اسموٹ 1945 میں پیدا ہوا۔ وہ ایک امریکی سائنس داں ہے۔ اس نے 2006 میں فزکس کا نوبل پرائز حاصل کیا۔ یہ انعام اُن کو کا سمک بیگ گراؤنڈ ایکسپلورر، کے لیے کام کرنے پر 1992 میں جارج اسموٹ نے یہ اعلان کیا کہ بالائی خلا میں لہر دار سطحیں پائی جاتی ہیں۔ بگ بینک کی باقیات ہیں۔ اُس وقت جارج اسموٹ نے اپنا تاثر ان الفاظ میں بیان کیا تھا— یہ خدا کے چہرے کو دیکھنے کے مانند ہے:

George Fitzgerald Smoot III (born February 20, 1945) is an American astrophysicist and cosmologist. He won the Nobel Prize in Physics in 2006 for his work on the Cosmic Background Explorer. In 1992 when George Smoot announced the discovery of ripples in the heat radiation still arriving from the Big Bang, he said it was "like seeing the face of God". (God For The 21st Century, Templeton Press, May 2000)

جب یہ بات ثابت ہو جائے کہ کائنات کی تخلیق کے پیچھے ایک عظیم ذہن (mind) کی کار کائنات کے اندر جو معنویت ہے، جو منصو بہ بندی ہے، جو بے نقص ڈیزائن ہے، وہ حیرت انگیز طور پر ایک اعلیٰ ذہن کے وجود کو بتا تا ہے۔ کائنات میں ان گنت چیزیں ہیں۔ لیکن ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔ کائنات میں حسابی درستگی اتنے زیادہ اعلیٰ معیار پر پائی جاتی ہے کہ ایک سائنس داں نے کہا کہ کائنات ایک ریاضیاتی ذہن (mathematical mind) کی موجودگی کا اشارہ اس موضوع پر اب بہت زیادہ لٹریچر تیار ہو چکا ہے، جس کو انٹرنیٹ پر یا لائبریری میں

دیکھا جا سکتا ہے۔ کائنات میں انٹیلیجنٹ ڈیزائن ہونے کی ایک مثال یہ ہے کہ ہمارا سولر سسٹم جس میں ہماری زمین واقع ہے، وہ ایک بڑی کہکشاں (galaxy) کا ایک حصہ ہے۔ لیکن ہمارا شمسی نظام کہکشاں کے بیچ میں نہیں ہے، بلکہ اس کے کنارے واقع ہے۔ اس بنا پر ہمارے لیے ممکن ہے کہ ہم محفوظ طور پر زمین پر زندگی گزاریں، اور یہاں تہذیب (culture) کی تعمیر کریں: The centre of the galaxy is a very dangerous place. Being in the outskirts of the galaxy, we can live safely from the hectic activities at the centre. اس حکیمانہ واقعہ کا اشارہ قرآن میں موجود تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں سائنسی مطالعے کے ذریعہ اس کی تفصیلات معلوم ہوئیں، جو گویا قرآن کے اجمالی بیان کی تفسیر ہے۔ جب علم کا دریا یہاں تک پہنچ جائے تو اس کے بعد صرف یہ کام باقی رہ جاتا ہے کہ اس دریافت کردہ شعور یا اس ذہن کو مذہبی اصطلاح کے مطابق، خدا(God) کا نام دے دیا جائے۔

Printed page