Al-Risala · March 2018

بے نقص کائنات

Al-Risala, March 2018, pp. 25–27

By Maulana Wahiduddin Khan

کائنات مکمل طور پر ایک بے نقص (zero-defect) کائنات ہے۔ قرآن میں کائنات کے اس پہلو کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے : یعنی جس نے بنائے سات آسمان درجہ بدرجہ، تم رحمن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے، پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے (هَلْ تَرَى مِنْ فُطُور)۔ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو، نگاہ نا کام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی قرآن کی اس آیت میں کائنات کو بے فطور (flawless) کہا گیا ہے۔ جس وقت قرآن میں یہ آیت اتری، اس وقت انسان کو معلوم نہ تھا کہ کائنات ایک بے نقص کائنات ہے۔ سورج چاند کو دیکھتا تھا، سمندروں اور پہاڑوں کو دیکھتا تھا۔ اس سے اس کے اندر ایک تحیر کا احساس (sense of awe) پیدا ہو جاتا تھا۔ اس سے کائنات کی پرستش (nature worship) کا تصور پیدا ہوا۔ خالق کا جو اصل مقصود تھا، وہ یہ تھا کہ انسان کائنات کے بے فطور (flawless) پہلو

کو جانے، اور اس طرح خالق کی قدرت کو دریافت کرے۔ مگر ہزاروں سال تک کائنات کا یہ پہلو غیر دریافت شدہ بنارہا۔

پچھلے تقریباً چار سو سال کے درمیان سائنس کے میدان میں جو دریافتیں ہوئی ہیں، انھوں نے پہلی بار انسان کو بتایا کہ کائنات میں کمال درجے کی معنویت پائی جاتی ہے۔ کائنات ویل پلانڈ (well planned) کائنات ہے، کائنات ایک ویل مینجڈ (well managed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈیزائنڈ (well designed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈسپلنڈ (well disciplined) کائنات ہے۔ اب سائنسداں عام طور پر یہ مانتے ہیں کہ کائنات ایک انٹیلیجنٹ کائنات (intelligent universe) ہے۔ حتیٰ کہ اب یہ ایک باقاعدہ موضوع بن گیا ہے، جس پر بہت سی کتابیں اور رسالے شائع کیے جا رہے ہیں۔

نیوٹن کے زمانے میں کائنات کو ایک میکینیکل کائنات کہا جاتا تھا۔ لیکن مزید ریسرچ سے یہ نظریہ غلط ثابت ہو گیا۔ سائنس کے مختلف شعبوں میں جو ریسرچ ہوئی ہے، اس سے اب یہ بات تقریباً واقعہ (fact) بن چکی ہے کہ کائنات ایک ذہین کائنات (intelligent universe) کائنات کو ذہین کائنات ماننے کے بعد یہ معاملہ ایک لفظی مسئلہ بن جاتا ہے۔ کائنات کو ذہین کائنات ماننا دوسرے لفظوں میں یہ ماننا ہے کہ یہ کائنات ایک ذہین خالق کی تخلیق ہے۔ اس کے سوا اس کا کوئی اور مفہوم نہیں ہوسکتا۔ اس موضوع پر غالباً پہلی باقاعدہ کتاب فریڈ ہائل (Fred Hoyel) کی تھی، جس کا نام تھا: ذہین کائنات:

The Intelligent Universe: A New View of Creation and

مگر اب ذہین ڈیزائن کے موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں اور مقالے چھپ چکے ہیں۔ کتابوں اور مقالات کو کسی بڑی لائبریری میں یا انٹرنیٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ کائنات کی توجیہہ طبیعیات کے جدید مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 14 بلین سال پہلے خلا میں ایک

دھماکہ ہو جس کو بگ بینگ کہا جاتا ہے ۔ یہ کائنات کا آغاز تھا۔ مطالعہ مزید بتاتا ہے کہ دھماکے کے بعد ایک سیکنڈ کے اندر ایک اور واقعہ ہوا جس نے ذروں کو نہایت تیز رفتاری کے ساتھ خلا کی وسعت میں پھیلا دیا۔ اس کے بعد تدریجی طور پر موجودہ کائنات بنی۔ یہ انوکھے واقعات کیسے پیش آئے ۔ اتفاق (accident) جیسے الفاظ اس کی توجیہہ نہیں یہ ایک بے حد بامعنی واقعہ تھا اور صرف ایک بامعنی توجیہہ (meaningful explanation) ہی اس واقعے کی تشریح کر سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی دریافتوں نے انسان کو معرفتِ الہیٰ کے عین دروازے تک پہنچا دیا ہے۔ اب صرف اتناہی باقی ہے کہ لفظی طور پر اس کا اعتراف کر لیا جائے۔

Universe Origins: Giant Boost for Big Bang Theory London: An international team of astrophysicists has discovered the signal left in the sky by the super-rapid expansion of space that would have occurred fractions of a second after everything came into being following the Big Bang. Announcing their finding over a global press call, scientists from Harvard Smithsonian Centre for Astrophysics said researchers from the BICEP2 (Background Imaging of Cosmic Extragalactic Polarization) collaboration have found this first direct evidence for this cosmic inflation, a theory pioneered by Prof Alan Guth among others. Almost 14 billion years ago the universe burst into existence in an extraordinary event that initiated the Big Bang, they said. It has been theorized that in the first fleeting fraction of a second the universe expanded exponentially in what is described as the first tremors of the Big Bang, stretching far beyond the view of our best telescopes. Their data also represents the first images of gravitational waves or ripples in space-time. The team analysed their data for more than three years in an effort to rule out any errors. They also considered whether dust in our galaxy could produce the observed pattern, but the data suggest this is highly unlikely. Harvard theorist Avi Loeb said this work offers new insights into some of our most basic

Printed page