Al-Risala · March 2018

کائنات کی معنویت

Al-Risala, March 2018, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس فطرت (nature) کے مطالعے کا نام ہے۔ فطرت میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں، جن کو ہم کائنات کہتے ہیں۔ سائنسی مطالعے کا آغاز کچھ ابتدائی باتوں سے ہوا، لیکن یہ مطالعہ جتنا زیادہ بڑھتا گیا، اتنا ہی یہ ظاہر ہوتا گیا کہ کائنات ایک بے حد بامعنی کائنات ہے۔ کائنات کی کوئی بھی ایسی تشریح جو کائنات کی معنویت کے اعتراف پر قائم نہ ہو، وہ سائنسی تحقیقات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ مثلاً سائنسی مطالعے کے ذریعے معلوم ہوا کہ کائنات کے اندر ایک ذہین ڈیزائن (intelligent design) ہے۔ اب اگر یہ نہ مانا جائے کہ کائنات کے پیچھے ایک ذہین ڈیزائنر (intelligent designer) کام کر رہا ہے تو کائنات کا نادر ظاہرہ ناقابلِ توجیہہہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح سائنس کے مطالعے نے بتایا کہ ہماری کائنات انسان کے لیے ایک کسٹم میڈ (custom-made) کائنات ہے، یعنی وہ انسان جیسی مخلوق کے تقاضوں کے عین اب اگر ایک ایسے خالق کو نہ مانا جائے جس نے دو الگ الگ چیزوں کے درمیان مطابقت کو قائم کیا، تو اس ظاہرے کی کوئی قابل فہم توجیہ ممکن نہیں۔ اسی طرح مختلف شعبوں میں سائنس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات کے مختلف اجزا آپس میں بے حد مربوط ہیں، اور ان کے درمیان ایک انتہائی فائن ٹیوننگ (fine-tuning) پائی جاتی ہے تو اس مائنڈ باگلنگ (mind-boggling) ظاہرے کی کوئی ممکن نہیں۔

سائنس کوئی مذہبی سبجیکٹ نہیں، سائنس کا موضوع خالق کی دریافت نہیں۔ سائنس کا موضوع تخلیق (creation) کی دریافت ہے، لیکن تخلیق کے مطالعے میں خالق (Creator) کا مطالعہ

اپنے آپ شامل ہے، اس لیے تخلیق کا مطالعہ عملاً خالق کا مطالعہ بن گیا۔ سائنس نے اپنے مطالعے کے ذریعے جو چیزیں دریافت کیں، وہ سب خدائی نشانیوں کی دریافت کے ہم معنی بن گئیں، جن کو قرآن میں آیات اللہ (signs of God) کہا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ تخلیق کی معنویت کی دریافت عملاً ایک بامعنی خالق کے وجود کی دریافت ہے۔

Printed page