قرآن کی سائنسی تفسیر
Al-Risala, March 2018, pp. 31–32
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (21:30)۔ کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے ۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں خود تخلیق کے اعتبار سے ایسی کھلی شہادت موجود ہیں، جو اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب کہ قرآن نازل ہوا، یہ آیت ایک پیشین گوئی کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر اب یہ آیت سائنسی طور پر ایک ثابت شدہ واقعہ بن چکی ہے۔ اس سائنسی دریافت کا معروف نام بگ بینک (Big Bang) بیسویں صدی عیسوی کے ربع اول میں پہلی بار اس حقیقت کی دریافت ہوئی، اور پھر سائنسداں اس دریافت کی مزید تحقیق کرتے رہے، یہاں تک کہ اب بگ بیگ کا واقعہ سائنسی طور پر ایک ثابت شدہ واقعہ بن چکا ہے۔
اس دریافت کے مطابق، تقریبا تیرہ بلین سال پہلے خلا میں ایک بہت بڑا کاسمک بال (cosmic ball) ظاہر ہوا۔ اس کاسمک بال میں وہ تمام پارٹیکل (particle) موجود تھے، جن کے مجموعے سے موجودہ کائنات بنی ہے۔ اس کاسمک بال میں ایک زبردست انفجار (explosion) اس انفجار کے بعد ایک لمبی مدت کے دوران وہ پوری دنیا بنی، جس کو آج ہم کائنات کے نام سے بگ بینک کا نظریہ اب ایک سائنسی واقعہ (scientific fact) کے طور پر تسلیم کر لیا اس موضوع پر ہر انسائیکلو پیڈیا میں مواد موجود ہے۔ اس کے بارے میں بڑی تعداد میں کتابیں اور مقالات شائع ہو چکی ہیں۔ یہاں بطور مثال صرف ایک کتاب کا حوالہ دیا جاتا ہے : Big Bang: The Origin of the Universe by Simon Singh (Harper Collins, 2005)