Al-Risala · March 2018

الہامی علم کی ضرورت

Al-Risala, March 2018, pp. 32–35

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کے ذریعہ انسان کی ہدایت کا انتظام کیا۔ پیغمبروں پر وحی آتی تھی، اور پھر وہ لوگوں کو اس علم سے واقف کراتے تھے۔ پیغمبرانہ رہنمائی کی ضرورت کیوں ہے۔ اس کا جواب قرآن میں یہ دیا گیا تھا: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا (17:85)۔ یعنی اور وہ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔ اور تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔

اس آیت میں روح سے مراد وحی ہے۔ اس آیت میں وحی کی ضرورت پر یہ دلیل دی گئی ہے کہ انسان کو تھوڑا علم دیا گیا ہے، وہ خود سے اپنی ہدایت کو دریافت نہیں کر سکتا۔ اس لیے وحی کے ذریعہ اس کو ہدایت نامہ بھیجا جاتا ہے، تاکہ وہ کامل رہنمائی کی روشنی میں دنیا میں اپنی زندگی گزار سکے۔ کا یہ بیان بظاہر صرف ایک بیان (statement) ہے۔ اس بیان کی عقلی تفسیر نزولِ قرآن کے وقت موجود نہ تھی۔ بعد کو جب سائنس کا علم وجود میں آیا، اور زندگی اور کائنات کے بارے میں سائنسی مطالعہ شروع ہوا تو ابتداء انسان نے سمجھا کہ اب ہمیں پیغمبرانہ ہدایت کی ضرورت نہیں۔ اب انسان خود اپنے علوم کے ذریعہ اپنے لیے کامل رہنمائی کو دریافت کر سکتا ہے۔ یہی وہ ذہن تھا، جس کے تحت برٹش فلسفی جولین ہکسلے (Julian Huxley) نے ایک کتاب لکھی، جس کا ٹائٹل یہ تھا: Man Stands Alone (1941)

مگر کئی سو سال کی تحقیق کے بعد خود سائنسدانوں نے یہ اعتراف کیا کہ سائنس کے ذریعہ انسان کے لیے کامل ہدایت نامہ دریافت نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل کتاب کا مطالعہ

The Limitations Of Science by J.W.N. Sullivan (1973)

اس کتاب میں مصنف نے تجزیہ کر کے بتایا ہے کہ سائنس کی محدودیت ہے۔ کا صرف جزئی علم دے سکتی ہے:

Science gives us but a partial knowledge of reality. اس تجربے کے بعد اب انسان مجبور ہے کہ وہ پیغمبر کی اہمیت کو تسلیم کرے، اور یہ مانے کہ اس معاملے میں پیغمبر کے سوا اس کے پاس کوئی اور بدل نہیں ہے۔

جنت انسان کا اصلی ہیبیٹاٹ (habitat)

انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک ایسی دنیا کا طالب ہے، جہاں وہ پر امن (peaceful) انداز میں رہ سکے۔ انسان کی پوری تاریخ یہ بتاتی ہے کہ انسان ہمیشہ ایک ایسی دنیا کی تلاش میں رہا ہے۔ لیکن عملاً وہ اس دنیا کو کبھی پا نہ سکا۔ موجودہ زمانے میں جدید ٹکنالوجی کے ذریعہ یہ

ممکن ہوا کہ انسان مکمل تہذیب (civilization) کو وجود میں لائے۔ چناں چہ ساری کوششوں کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ انسان ایک کامل تہذیب کو وجود میں لائے۔ مگر جب یہ تہذیب عملاً بن چکی تو معلوم ہوا کہ وہ انسان کے لیے صرف ایک ناقص تہذیب ہے۔ قرآن کا یہ بیان تجرباتی سطح پر ایک ثابت شدہ واقعہ بن گیا: ﴿وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدْعُونَ (41:31)۔ پہلے زمانے میں انسان صرف ضرورت (necessity) پر زندگی گزارتا تھا۔ (comfort) کا دور آیا۔ اس کے بعد تہذیب نے لگوری (luxury) کے بے شمار سامان انسان کے لیے فراہم کر دیے۔ لیکن کوئی بھی چیز انسان کے لیے ذہنی سکون (peace of mind) کا ذریعہ نہ بن سکا۔ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک آئیڈیل دنیا (perfect world) کی تلاش میں ہے۔ مگر تجر بے نے یہ بتایا کہ موجودہ دنیا کی محدودیت کی بنا پر یہاں کامل دنیا کی تعمیر ممکن عام تصور کے مطابق ، تہذیب کا یہ سفر ابھی جاری تھا۔ امریکا کے رائٹر الوین ٹافلر ( Alvin Toffler) نے ایک کتاب چھاپی۔ اس کتاب کا ٹائٹل تھا:

Future Shock (1970)

اس کتاب میں انھوں نے یہ پیشین گوئی کی کہ انڈسٹریل ایج (industrial age) اب سپر انڈسٹریل ایج (super-industrial age) کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مستقبل میں ایک نئی ترقی یافتہ دنیا وجود میں آئے گی ، جب کہ انسان کے لیے اس کی طلب کو حاصل کرنا ممکن ہو جائے ۔ اس کے بعد ہی سائنسدانوں نے یہ دریافت کیا کہ موجودہ زمین اپنے کاؤنٹ ڈاؤن (countdown) کے آخری مرحلے میں پہنچ رہی ہے۔ اکیسویں صدی کے آخر تک موجودہ زمین انسان کے لیے قابل رہائش (habitable) نہیں رہے گی۔ اس دریافت کے بعد اب یہ ناممکن ہو گیا کہ زمین کی بنیاد پر کوئی جنت جیسی اعلیٰ دنیا تعمیر کی جاسکے۔ مشہور برطانی سائنسدان ، اسٹیفن ہاکنگ نے اس کا حل یہ بتایا ہے کہ اب انسان کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے اسپیس کالونی (space colony) بنانا چاہیے۔ مگر ہر شخص جانتا ہے کہ یہ

تجویز ایک سائنس فکشن سے زیادہ کچھ نہیں۔

اسی طرح سائنس نے دریافت کیا کہ انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک کامل دنیا کا متلاشی ہے، لیکن موجودہ دنیا میں یہ کامل دنیا بننا ممکن نہیں۔ یہ دریافت بالواسطہ طور پر جنت جیسی ایک دنیا کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ کیوں کہ جس دنیا میں ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر پائی جاتی ہو، وہاں جنت جیسی ایک دنیا کا ہونا، اپنے آپ میں ایک ثابت شدہ بات ہے۔ جنت اگر دکھائی نہیں دیتی تو اس کو نہ دکھائی دینے والی دنیا میں موجود ہونا چاہیے ۔ جنت انسان کی طلب کا مطلوب ہے، اور کائنات کا مطالعہ جس بامعنی دنیا(meaningful world) کی نشاندہی کر رہا ہے، اس میں علمی طور پر یہ نا ممکن ہے کہ طلب تو پائی جائے، لیکن مطلوب موجود نہ ہو۔ یہ دریافت جنت کی موجودگی کا ایک استنباطی ثبوت(inferential proof) ہے۔

Printed page