Al-Risala · March 2018

مغربی اقوام، دوست اقوام

Al-Risala, March 2018, pp. 40–42

By Maulana Wahiduddin Khan

نزول قرآن کے زمانے میں انسانی تاریخ جس مرحلے میں تھی، اس کے لحاظ سے اہل ایمان کو یہ فارمولا بتایا گیا کہ اگر کوئی بظاہر تم کو دشمن نظر آئے تو اس کے ساتھ تم رد عمل کا سلوک نہ کرو، بلکہ اس کے ساتھ یک طرفہ طور پر حسن سلوک کا طریقہ اختیار کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمھارا دشمن تمھارا دوست بن جائے گا (فصلت : 34)۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حسن سلوک کا یہ طریقہ ایک وقتی تدبیر کا

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تاریخ میں ایسا عمل (process) جاری کیا، جس کے نتیجے میں دنیا ایک نئے دور (age) میں داخل ہو گئی، جب کہ قو میں خود حالات کے تقاضے کے تحت عملاً اسلام کی مؤید (supporter) بن گئیں۔ یہ انسانی تاریخ میں ایک انوکھا انقلاب تھا۔ اس انقلاب کی پیشگی خبر پیغمبر اسلام نے اپنی امت کو دے دی تھی۔ یہ روایت حدیث کی اکثر کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هٰذَا الدِّيْنَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث یعنی اللہ ضرور اس دین کی مدد فاجر انسان کے ذریعہ کرے گا۔ یہاں غالباً فاجر کا لفظ اپنے لغوی معنی میں نہیں ہے، بلکہ فاجر انسان کا مطلب ہے سیکولر انسان۔ غیر مسلم اقوام کے ذریعہ اسلام کی تائید کی پیشین گوئی سب سے زیادہ مغربی اقوام پر صادق آتی ہے۔

مغربی اقوام نے غیر معمولی کوشش کے ذریعہ جو مادی تہذیب برپا کی، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے پوری طرح مؤید اسلام تہذیب ہے۔ مغربی اقوام کا مؤید اسلام ہونا، عملاً ایک واقعہ بن چکا اب ضرورت صرف یہ ہے کہ مسلمان اس امکان کو جانیں، اور اس کو اوایل (avail) کریں۔ اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ تمثیل کے ذریعہ حقیقتوں کو واضح کرتا ہے (البقرۃ: 26)۔ اس معاملے میں اللہ نے ایک تاریخی مثال کے ذریعہ اہلِ ایمان کو بتایا کہ کس طرح مخالف قوم کو موافق قوم بنایا جا سکتا ہے۔ یہ مثال جاپان کی ہے، جو کہ بیسویں صدی میں پیش آئی۔ اب مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ جاپان کی سیکولر مثال کو اسلامائز کریں، اور اس کو اپنے حالات پر منطبق کریں۔ دوسری عالمی جنگ (1945-1939) سے پہلے جاپان میں امریکو فوبیا (Americophobia) کا غلبہ تھا۔ جاپانی قوم بطور خود امریکا کو اپنا دشمن سمجھتی تھی۔ جاپان کا امریکی فوبیا اتنا بڑھا کہ غالباً تاریخ میں پہلی بار جاپانی نوجوانوں نے امریکا کے خلاف خودکش بمباری کا طریقہ اختیار کیا۔ انھوں نے 1941 میں امریکا کے بحری اڈہ (پرل ہاربر) کو خودکش بمباری کے ذریعہ تباہ کر دیا۔ اس کے بعد امریکا میں انتقامی جذ بہ بھڑ کا۔ انھوں نے 1945 میں جاپان کے دو شہروں (ہیروشیما، ناگاساکی) پر ایٹم بم گرائے۔ یہ اتنا شدید حملہ تھا کہ اس کے بعد جاپان کے لیے

لڑائی کا آپشن (option) باقی نہ رہا۔

تاہم مختلف اسباب کے تحت جاپانی قوم نے اپنے آپ کو منفی ردعمل (reaction) سے انھوں نے غیر جانب دارانہ انداز میں سوچا تو وہ اس دریافت تک پہنچے کہ امریکا نہ کسی کا دشمن ہے، نہ کسی کا دوست۔ امریکا کا فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ اس کا سیلف انٹرسٹ ہے۔ امریکا میں کہا جاتا ہے:

Printed page