The business of America is business
Al-Risala, March 2018, pp. 42–46
By Maulana Wahiduddin Khan
چناں چہ جاپان نے یہ فیصلہ کیا کہ امریکا کو اپنا دوست ملک بنالیں تو امریکا بھی ہمیں اپنا دوست ملک بنالے گا۔ اس کے بعد جاپان نے یوٹرن (u-turn) لیا۔ انھوں نے امریکا سے نزاع کی پالیسی کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیا۔ اس پالیسی نے جاپان کو یہ موقع دیا کہ وہ امریکا کے سپورٹ سے اپنی قومی ترقی کا سفر نہایت تیزی کے ساتھ جاری کر سکے۔ یہ پالیسی کامیاب رہی۔ یہاں تک کہ 25 سال بعد جاپان دنیا کے نقشے پر ایک نئی طاقت بن کر ابھرا۔ یہاں تک کہ وہ اقتصادی سوپر پاور (economic super-power) کے درجے تک پہنچ گیا۔
یہ تاریخی ظاہر ہ (historical phenomenon) اہل اسلام کی رہنمائی کے لیے ابھرا اب مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے ویسٹوفوبیا (westophobia) کے ذہن کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔ وہ دل سے مغرب کو اپنا دوست قرار دیں۔ اگر مسلمان ایسا کر سکیں تو بہت جلد دنیا یہ واقعہ دیکھے گی کہ مسلمان دیگر اقوام کی تائید سے دنیا کے نقشے پر ایک نئی قوم بن کر ابھری ہے، جنگجو قوم نہیں بلکہ پرامن قوم کی حیثیت سے۔ پھر وہ واقعہ عالمی سطح پر پیش آئے گا، جس کا تاریخ کو لمبی مدت سے انتظار ہے۔ یعنی وہ واقعہ جس کی پیشین گوئی ساتویں صدی کے ربع اول میں قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی تھی: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔ ملت مسلمہ کی غفلت سائنس (physical science) اپنی حقیقت کے اعتبار سے گویا اسلام کا علم کلام تھا۔
اسلامی علم کلام کو قیاسی فلسفہ کے بجائے برہانیات پر قائم کرنا تھا، یعنی دلائل عقلیہ کی بنیاد پر۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ سائنس کو سیکولر گروہ نے ہائی جیک کر لیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مسلمان اپنی منفی سوچ کی بنا پر سائنس کی حقیقت کو سمجھ نہ سکے۔ وہ انتہائی بے بنیاد طور پر مغرب کی ہر چیز کے خلاف ہو گئے۔ تک کہ سائنس کے بھی۔ اگر مسلمانوں کا پڑھا لکھا طبقہ بروقت اپنا رول ادا کرتا تو سائنس ربانی حقیقتوں کی دریافت کا علم بن جاتا۔ مگر مسلمانوں کی کوتاہی کی بنا پر ایسا نہ ہو سکا۔ اس معاملے میں ایک واقعہ یہاں بطور مثال نقل کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ عنایت اللہ خاں مشرقی (1963-1888) نے بیان کیا ہے۔ عنایت اللہ خاں مشرقی اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ گئے وہاں انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ جس زمانے میں وہ وہاں تھے، اس وقت سر جیمز جینس کیمبرج یونیورسٹی میں اپلائیڈ ریاضیات (applied mathematics) کے پروفیسر عنایت اللہ خاں مشرقی نے سرجیمز جینس کے ساتھ اپنے طالب علمی کے زمانے کے ایک واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
”1909ء کا ذکر ہے، اتوار کا دن تھا، اور زور کی بارش ہو رہی تھی، میں کسی کام سے باہر نکلا تو جامعہ کیمبرج کے مشہور ماہر فلکیات سر جیمز جینس (James Jeans) پر نظر پڑی جو بغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جا رہے تھے، میں نے قریب ہو کر سلام کیا، انھوں نے کوئی جواب نہ دیا، دوبارہ سلام کیا تو وہ متوجہ ہوئے اور کہنے لگے، ”تم کیا چاہتے ہو‘ میں نے کہا، دو باتیں اول یہ کہ زور سے بارش ہو رہی ہے اور آپ نے چھاتا بغل میں داب رکھا ہے، سر جیمز اپنی بد حواسی پر مسکرائے اور چھاتا کھول لیا، دوم یہ کہ آپ جیسا شہرہ آفاق آدمی گرجا گھر میں عبادت کے لئے جا رہا ہے، یہ میرے اس سوال پر پروفیسر جیمز لمحہ بھر کے لئے رک گئے اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا” آج شام کو چائے میرے ساتھ پیو‘ چنانچہ میں شام کو ان کی رہائش گاہ پہنچا ٹھیک 4 بجے لیڈی جیمز باہر آ کر کہنے لگیں ”سر جیمز تمہارے منتظر ہیں‘‘ اندر گیا تو ایک چھوٹی سی میز پر چائے لگی ہوئی تھی، پروفیسر صاحب تصورات میں کھوئے ہوئے تھے، کہنے لگے ”تمہارا سوال کیا تھا‘‘ اور میرے
جواب کا انتظار کئے بغیر اجرام آسمانی کی تخلیق، ان کے حیرت انگیز نظام، بے انتہا پہنائیوں اور فاصلوں، ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں نیر باہم کشش اور طوفان ہائے نور پروہ ایمان افروز تفصیلات پیش کیں کہ میرا دل اللہ کی اس داستان کبریا و جبروت پر دہلنے لگا، اور ان کی اپنی کیفیت تھی سر کے بال سیدھے اٹھے ہوئے تھے، آنکھوں سے حیرت و خشیت کی دو گونه کیفیتیں عیاں تھیں، اللہ کی حکمت و دانش کی ہیبت سے ان کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے، اور آواز لرز رہی تھی، فرمانے لگے ’’عنایت اللہ خاں! میں خدا کے تخلیقی کارناموں پر نظر ڈالتا ہوں تو میری تمام ہستی کا ہر ذره میرا ہم نوا بن جاتا ہے، مجھے بیحد سکون اور خوشی نصیب ہوتی ہے، مجھے دوسروں کی نسبت عبادت میں ہزار گنا زیادہ کیف ملتا ہے، کہو عنایت اللہ خاں! تمہاری سمجھ میں آیا کہ میں گر جے کیوں جاتا ہوں‘‘۔ علامہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسر جیمز کی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام پیدا کر دیا، میں نے کہا ’’جناب والا! میں آپ کی روح افروز تفصیلات سے بے حد متاثر ہوا ہوں، اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یاد آگئی اگر اجازت ہو تو پیش کروں، فرمایا ضرور‘‘ چنانچہ میں نے یہ آیت پڑھی: وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٌ۔ وَالدَّوَابِ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَلِكَ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ یہ آیت سنتے ہی پروفیسر جیمز بولے: ’’کیا کہا، اللہ سے صرف اہل علم ڈرتے ہیں، حیرت انگیز، بہت عجیب، یہ بات جو مجھے پچاس برس مسلسل مطالعہ ومشاہدہ کے بعد معلوم ہوئی، محمد کو کس نے بتائی، کیا قرآن میں واقعی یہ آیت موجود ہے، اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے، محمد ان پڑھ تھا، اسے یہ عظیم حقیقت خود بخود معلوم نہیں ہو سکتی، اسے یقیناً اللہ نے بتائی تھی، بہت خوب، بہت عجیب۔ (نقوش شخصیات نمبر، صفحات 9 - 1208)
اصل یہ ہے کہ سائنسی علوم کو ایکزیکٹ سائنسز (exact sciences) کہا جاتا ہے۔ لیے کہ سائنسی علوم تمام تر ریاضیات (mathematics) پر مبنی ہوتے ہیں۔ یورپ میں جب سائنسی
علوم پھیلے تو اس کے نتیجے میں اہل یورپ کے درمیان مبنی بر واقعیت سوچ (exact thinking) یہ طرز فکر اسلام اور قرآن کے عین موافق تھا۔ اس طرز فکر کی بنا پر اہل یورپ اسلام اور قرآن کی دعوت کے لیے بہترین مدعو بن گئے۔ اس وقت اگر اہل یورپ کو اسلام اور قرآن کی دعوت پہنچائی جاتی تو یقینی طور پر وہ اسلام اور قرآن کے لیے نہایت مثبت جواب (positive response) مثالیں بتاتی ہیں کہ یورپ کے بہت سے افراد نے اس قسم کا رسپانس دیا۔ مگر عین اسی زمانے میں ساری دنیا کے مسلمان نفرت مغرب کی نفسیات میں مبتلا ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں وہ اس دعوتی امکان کو اوویل کرنے کے لیے نا کام ثابت ہو گئے۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو مغربی سائنس بلاشبہ اسلام کے لیے ایک تائیدی سائنس (supporting science) بن جاتا۔
اسی قسم کا ایک اور واقعہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر رشید احمد صدیقی نے بیان کیا ہے۔ انھوں نے یہ واقعہ مضامین رشید میں نقل کیا ہے: 18 یا 19ء کا واقعہ ہے۔ یونین میں ام الالسنہ عربی پر خواجہ کمال الدین (1932-1870) کی اردو میں تقریر تھی۔ انھوں نے بڑی قابلیت اور اعتماد کے ساتھ تقریر شروع کی۔ آنکھوں میں تکلیف تھی۔ سردیوں کا زمانہ تھا، مولانا کو احباب اسپتال لائے تھے۔ یونین میں مجمع دیکھا تو کہا مولانا تکلیف نہ ہو تو ذرا تقریر سنتے چلیں۔ مولانا نے کہا اچھی بات ہے، لیکن آنکھوں میں تکلیف زیادہ ہے، جلد اٹھ آئیں گے۔ سب لوگ یونین میں آئے۔ مولانا سر سے پاؤں تک بڑے وزنی لبادے میں ملفوف تھے، سر پر اونی کنٹوپ تھا۔ آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی، اور اس پر ہرے رنگ کا چھجا (شیڈ) لگا ہوا تھا۔ خواجہ صاحب نے کم وبیش دو گھنٹے تک تقریر کی۔ حاضرین محو حیرت تھے۔ تقریر ختم ہوئی تو وائس پریذیڈنٹ نے اعلان کیا کہ مولانا سہیل، فاضل مقرر کا طلبائے کالج کی طرف سے شکریہ ادا کریں گے۔ مولانا کے خلاف سازش کامیاب ہوئی۔ دوستوں اور ساتھیوں نے مولانا کو ہاتھوں ہاتھ ڈائس پر پہنچا دیا۔ مولانا کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی، میز کے پاس کھڑے کیے گئے۔ تھوڑی سی ناک، اس سے ذرا بڑی اور ہاتھ کی صرف انگلیاں دکھائی دے رہی تھیں۔
بے تکلف تقریر شروع کر دی ، اس اعتماد سے گویا تمام عمر اسی مبحث پر تیاری کی تھی۔ جو لوگ یونین کے مجمع سے واقف ہیں ، وہ جانتے ہوں گے کہ اچھے مقرر کے بعد کسی اور کی تقریر سننے کے لیے کوئی نہیں ٹھہرتا، اور صدر کا شکریہ بھی اسی بد نظمی کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ مولانا نے بھی امُ الالسنہ عربی پر تقریر پون گھنٹہ تک تقریر کی، نئے نئے پہلوؤں سے موضوع پر روشنی ڈالی، نئی نئی مثالیں پیش تقریر اس درجہ دلنشیں اور کہیں کہیں اتنا شگفتہ بنا دیا کہ خواجہ صاحب نے بے اختیار ہو کر مولانا کو گلے لگا لیا، اور فرمایا تمھارے ایسا جامع کمالات ساتھ کام کرنے والا مل جائے تو اسلام کا جھنڈا یورپ کی سب سے بلند چوٹی پر نصب کر دوں۔ (مضامین رشید، علی گڑھ، 1964 صفحہ 43-42) مولانا اقبال احمد سہیل (1955-1884) اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم اے، ایل ایل بی تک تعلیم حاصل کی ۔ وہ نہایت ذہین آدمی تھے۔ لیکن اس زمانے کے دوسرے مسلمانوں کی طرح وہ بھی انگریز سے اور یورپ سے نفرت کرتے تھے۔ ان کو اسلام دشمن سمجھتے تھے۔ اس بنا پر وہ خواجہ کمال الدین کی پیش کش کی اہمیت کو سمجھ نہ سکے۔ تعلیم کے بعد وہ علی گڑھ سے اعظم گڑھ چلے گئے، اور وہاں ضلع کی عدالت میں پریکٹس کرنے لگے۔ اسی حالت میں ان کا انتقال ہو گیا۔