Al-Risala · March 2018

امت کا انقلابی رول

Al-Risala, March 2018, pp. 46–48

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم زمانے میں امت محمدی کا رول یہ تھا کہ وہ دنیا سے شرک کا خاتمہ کرے۔ بت پرستی کا خاتمہ کس اعتبار سے مطلوب تھا۔ بت پرستی کے کلچر کے اعتبار سے نہیں، بلکہ اس کی فکری اساس (intellectual base) کے اعتبار سے۔ قدیم زمانے میں ہزاروں سال کے نتیجے میں لوگوں نے یہ تصور قائم کر لیا تھا کہ نیچر (مظاہر فطرت) کے اندر خدائی صفات (divinity) موجود یہی شرک کی فکری اساس تھی۔ قرآن ایک توحید کی کتاب ہے، جو شرک کے تصور کا بے بنیاد ہونا ثابت کرتا ہے۔ امت محمدی نے قرآن کی مدد سے یہ کیا کہ نیچر اور خدائی، دونوں کو ایک دوسرے سے الگ (detach) کر دیا۔ اس کے بعد افکار کی دنیا میں رکاوٹ کا خاتمہ ہو گیا، اور پھر فطری طور

پر ہر قسم کی ترقیوں کا دروازہ کھل گیا۔

اب ہم اکیسویں صدی میں ہیں۔ تقریباً پانچ سو سال کے عمل کے دوران ایک نئی فکری گمراہی وجود میں آئی ہے، یعنی الحادی فکر کا ظاہر ہ۔ موجودہ زمانے میں مغرب کی قیادت میں سائنس کا علم وجود میں آیا، یعنی نیچر (فطرت) کے مطالعے کا علم۔ اس کے نتیجے میں وہ قوانین دریافت ہوئے جو نیچر میں ابتدائے تخلیق سے چھپے ہوئے تھے۔ پھر انسان کو ٹیکنالوجی (technology) کا علم ہوا، جس سے پانچ سو سال پہلے کا انسان بالکل بے خبر تھا۔

سائنسی علم کیا ہے ۔ یہ تخلیق (creation) میں چھپے ہوئے قوانین کو دریافت کرنے کا نام سائنس کے آغاز میں ایسے اسباب پیش آئے کہ انسان نے دوبارہ ایک غلطی کی ۔ اس نے فکری طور پر خالق کو تخلیق سے الگ کر دیا۔ انسان نے تخلیق (creation) کا نہایت وسیع مطالعہ کیا۔ یہ سارا مطالعہ خالق کے حوالے کے بغیر تھا۔ اس کے نتیجے میں علم کی دنیا میں ایک نئی برائی پیدا ہوئی، اور وہ تھی خالق (Creator) کو تخلیق (creation) سے الگ (detach) کر دینا۔ محمدی کے اہل علم حضرات کا یہ کام ہے کہ وہ اس غلطی کی تصحیح کریں۔ وہ دنیا کو بتائیں کہ تخلیق کوئی الگ چیز نہیں ہے، وہ خالق کے تخلیقی عمل کا نتیجہ ہے۔

یہ ایک اہم تاریخی رول ہے، جو موجودہ زمانے میں مذہبی طبقے کے لیے مقدر ہے۔ علم نے اس عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ مسیحی اہل علم نے اس موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں اور مقالے تیار کر کے شائع کیے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم کتاب وہ ہے، جو سائنس کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے چالیس امریکن سائنس دانوں کے مضامین پر مشتمل ہے۔ وہ کتاب یہ ہے : The Evidence of God in an Expanding Universe, edited by John Clover Monsma (G. P. Putnam's Sons, 1958, pp. 250)

دوبارہ امت محمدی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس فتنہ الحاد کی فکری اساس کو بے بنیاد ثابت ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قرآن کے ذریعہ اس فتنۂ الحاد کا خاتمہ کریں، جیسا کہ اس سے پہلے انھوں نے قرآن کی مدد سے فتنۂ شرک کا خاتمہ کیا تھا۔ اس معاملے میں ان کو مسیحی اہل علم کا

احسان مند ہونا چاہیے کہ انھوں نے اس موضوع پر بقدر ضرورت ابتدائی کام انجام دے دیا ہے۔ امت محمدی کا کام یہ ہے کہ وہ اس کام کو تکمیل تک پہنچائے، اور اسی کے ساتھ ہر زبان میں قرآن کے ترجمہ کو تیار کر کے تمام انسانوں کے لیے اس کی رسائی ممکن بنا دے۔

Printed page