Al-Risala · January 2018

شکایت کے بجائے تدبیر

Al-Risala, January 2018, pp. 16–18

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام کی زندگی کا ایک واقعہ یہ ہے کہ 8 ہجری میں مکہ فتح ہوا۔ اس کے بعد آپ مکہ سے طائف کے لیے روانہ ہوئے۔ اس وقت آپ کے ساتھ تقریباً بارہ ہزار افراد تھے۔ درمیان میں ایک راستہ آیا، جس کو تنگ ہونے کی وجہ سے الضيقہ کہا جاتا تھا۔ آپ نے کہا: ما اسم هذا الطريق؟ فقيل له الضيقَة، فقال : بل هي اليسرى (سيرت ابن هشام، یعنی اس راستے کا نام کیا ہے، لوگوں نے کہا: ضيقَة (تنگ)۔ آپ نے کہا نہیں بلکہ یہ یسریٰ (آسان) ہے۔

اس کے بعد غالباً آپ نے ایسا کہا کہ اس وقت تم لوگ افقی دائرہ (horizontal way) میں پھیلے ہوئے ہو، تم ایسا کرو کہ عمودی طریقہ (vertical way) میں ہو جاؤ۔ یعنی قطار بنا کر گزرو۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا، اور نہایت آسانی سے وہ راستہ پار ہو گئے۔

یہ آپ کی پیغمبرانہ حکمت کی مثال ہے۔ یعنی جب کوئی مشکل کا سامنا پیش آئے تو شکایت کا طریقہ اختیار مت کرو، بلکہ تدبیر کا طریقہ اختیار کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو بہت جلد تم کو ایک تدبیر دریافت ہو جائے گی، اور تم اس تدبیر کو اختیار کر کے آسانی کے ساتھ اپنا راستہ طے کر لو گے۔ عام طور پر لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ چیزوں کو ان کے فیس ویلو (face-value) پر لیتے یہ طریقہ وزڈم کے خلاف ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ چیزوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار یہ طریقہ درست اور پر اثر ہے۔ اس کی پرواہ نہ کیجئے کہ پیروں والوں اس طرح مسئلہ کوئی مزید دشواری کے بغیر بآسانی حل ہو جائے گا۔ چین ری ایکشن سے بچنا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 8 ہجری میں مکہ فتح کیا۔ اس وقت آپ ن ا ع ل ا ن کہ وا اں برائے فروخت ہیں! “ اس المیہ کو برصغیر کی نئی نسل

جو اپنے گھروں میں چلا جائے وہ امن میں ہے، جو ہتھیار ڈال دے وہ مامون ہے۔ اس کے بعد قدیم مکہ کے لوگ کعبہ کے صحن میں اکٹھا ہوئے۔ اس وقت آپ نے ان سے پوچھا، تم لوگ کیا کہتے ہو، اور تمھارا کیا گمان ہے۔ انھوں نے جواب دیا، ہم آپ کو اپنا بھتیجا اور اپنے چچا کا شریف اور مہربان بیٹا سمجھتے ہیں، آپ نے کہا، میں وہی کہتا ہوں جو یوسف نے کہا تھا: آج تم پر کوئی الزام نہیں، اللہ تم کو معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہر بان ہے (یوسف : 92)۔ تو وہ لوگ نکلے گویا کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں، اور پھر وہ اسلام میں داخل ہو گئے (فخر جوا کأنما نشروا من القبور فدخلوا في الإسلام) السنن الکبری للبیہقی ، حدیث نمبر 18275۔

یہ وہ لوگ تھے، جنھوں نے پیغمبر اسلام کو اپنے وطن سے نکالا تھا، اور آپ کے خلاف بار بار لڑائیاں چھیڑیں تھیں۔ عام رواج کے مطابق، بلا شبہ وہ لوگ جنگی مجرم (prisoners of war) لیکن جب پیغمبر اسلام نے ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ بلکہ ان کو پورے طور پر آزاد کر دیا ۔ یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ ایسا کر کے آپ نے قدیم مکہ کے ان لوگوں کو دوبارہ جوابی انتقام سے بچالیا۔ اگر آپ ایسا نہ کرتے تو قبائلی کلچر کے مطابق وہاں چین ری ایکشن (chain reaction) شروع ہو جاتا، جو پھر کبھی ختم نہ ہوتا۔ جیسا کہ قدیم زمانے میں عام طور پر ہوا کرتا تھا۔ حقوق طلبی کی سیاست نہیں سن 8 ہجری میں مکہ فتح ہوا، اور پیغمبر اسلام کے ساتھی دوبارہ اپنے قدیم وطن مکہ میں داخل ہجرت کے بعد مکہ میں ایسا ہوا تھا کہ کچھ اصحاب کے گھر اور جائداد کو اہل مکہ نے قبضہ کر لیا اب کچھ اصحاب رسول چاہتے تھے کہ وہ اپنے گھر اور جائداد کو لوگوں کے قبضے سے نکالیں، اور اس پر دوبارہ اپنا قبضہ قائم کریں۔ مگر پیغمبر اسلام نے اپنے اصحاب کو اس کی اجازت نہ دی۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ یہ ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر ابو احمد بن جحش آپ کے پاس آئے ، اور کہا کہ ان کے آبائی گھر پر ابو سفیان نے قبضہ کر کے اس کو فروخت کر دیا ہے۔ پیغمبر اسلام نے ان سے کہا: إن صبرت كان خیرا لك، وكانت لك بها دار في الجنة (اگر تم صبر کرو گے تو یہ

تمھارے لیے بہتر ہے۔ اور اس کے بدلے میں تمھارے لیے جنت کا ایک گھر ہے )۔ ابو احمد نے کہا: میں صبر کروں گا (أنا أصبر) چناں چہ انھوں نے اس کا خیال چھوڑ دیا (أخبار مكة و ما جاء فيها من الآثار للازرقی، 2/245)۔

اس طرح کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے طریقہ میں وہ طریقہ شامل نہیں جس کو حقوق طلبی کی سیاست کہا جاتا ہے۔ حقوق طلبی کی سیاست کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دو فریقوں کے درمیان ایسے جھگڑے کھڑے ہو جاتے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتے۔ اس قسم کی سیاست سے لوگوں کو ملتا تو کچھ بھی نہیں، لیکن وہ اس امکان کو کھودیتے ہیں کہ نئے مواقع کو استعمال کرکے اپنے لیے بڑی بڑی ترقیاں حاصل کریں۔

پیغمبر اسلام اگر مکہ میں فتح حاصل ہونے کے بعد وہاں حقوق طلبی کی سیاست چلاتے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ لوگوں کی ترجیحات (priorities) بدل جاتیں۔ فتح مکہ کے بعد اب اصل کام یہ تھا کہ مکہ کے لوگوں میں توحید کی اشاعت کی جائے ۔ شرک کے دور کو ختم کرکے توحید کا دور لایا جائے۔ کو اس کی ابراہیمی روایت پر قائم کیا جائے، جس کا عملاً خاتمہ ہو گیا تھا۔ اگر مکہ میں حقوق طلبی کی سیاست چلائی جاتی تو یہ سارے کام معطل ہوجاتے، اور وہ ٹارگٹ ہی بدل جاتا، جس کے لیے پیغمبر اسلام نے وہاں اپنا مشن جاری کیا تھا۔

Printed page