Al-Risala · April 2018

قرآن فہمی کا معیار

Al-Risala, April 2018, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگوں نے قرآن فہمی کا خود ساختہ طور پر ایک غلط معیار بنا رکھا ہے۔ وہ قرآن فہمی اس کو سمجھتے ہیں کہ اس میں الفاظ کی تحقیق ہو، فنی تجزیہ کیا گیا ہو۔ اس کے اندر شخصیتوں کے حوالے درج ہوں۔ قرآن کی آیتوں کی تفسیر شان نزول کے حوالے سے کی گئی ہو، اس میں قرآن کی آیتوں کا ربط (order) بیان کیا گیا ہو، وغیرہ۔

مگر یہ سب قرآن فہمی کے خود ساختہ معیار ہیں۔ اس طرح کے بظاہر تحقیقی مضمون میں قاری کو سب کچھ ملتا ہے لیکن وہی چیز نہیں ملتی جو قرآن و سنت کا مقصد اصلی ہے۔ جس کو قرآن میں ذکر کی اور تذکر جیسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح کی فنی تشریح و تفسیر کے بارے میں انور شاہ کشمیری نے، ایک حدیث کی شرح کے ذیل میں کہا ہے: لم یتحصَّل عندنا منہ شيء غير حل الألفاظ (فیض الباری علی صحیح البخاری، 1/230)۔ یعنی ہمیں اس سے حل الفاظ کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ قرآن و حدیث کو پڑھنے کا اصل فائدہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر خدا کا خوف پیدا ہو۔ اس کو اس میں اللہ سے محبت کی غذا ملے۔ اس کو اللہ ورسول کے کلام میں حکمت (wisdom) کی دریافت اس کے لیے قرآن وسنت کا مطالعہ اللہ سے ملاقات کے ہم معنی بن جائے۔ وہ قرآن و سنت کو پڑھے تو اس کو محسوس ہو کہ وہ عالم آخرت میں اللہ رب العالمین کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ اور رسول کا کلام پڑھنے سے اس کے اندر محاسبہ (introspection) کا جذبہ پیدا ہو۔ اس کے لیے قرآن وسنت کا مطالعہ جنت اور جہنم کے تعارف کے ہم معنی بن جائے۔

قرآن و حدیث کے مطالعے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ کچھ فنی نکات کا حل آپ کو مل جائے ۔ قرآن و حدیث کے مطالعے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے اندر فکری بھونچال پیدا ہو۔ آپ کے اندر اسپر چول اسٹارم نگ آئے۔ آپ کا ذہن نان کریٹو سے کریٹیو (creative) بن جائے۔ حدیث کا صحیح مطالعہ وہ ہے جو آپ کو سجدہ قربت (العلق، 19:96) کا تجربہ کرا دے۔

Printed page