Al-Risala · April 2018

الل سے امید

Al-Risala, April 2018, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کی تخلیق ،لَے بارے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: خلق الله آدم علی صورته (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6227)۔ یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ حدیث میں آدم سے مراد انسان ہے، اور صورت (image) کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر اس مثبت (positive) صفات کا ایک شمہ (very little part) رکھ دیا گیا ہے، جو اللہ رب العالمین کے اندر کامل معنوں میں موجود ہے، مثلاً رحم و شفقت۔

یہ حدیث رسول ایک امید (hope) کی حدیث ہے۔ یہ حدیث آپ کو موقع دیتی ہے کہ آپ اللہ سے امید قائم کریں۔ وہ یہ کہ اللہ نے جب انسان کے اندر رحمت کا یہ جذبہ رکھا ہے کہ غصہ آنے پر وہ کسی کو معاف کر دے تو خود اللہ کے اندر یہ صفت یقیناً بے حساب گنا ہ زیادہ درجے میں اس لیے انسان کو کبھی اللہ کے عطیے کے بارے میں مایوسی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ سوچتے ہوئے مجھے ایک واقعہ یاد آیا، جس کو میں نے خود ذاتی طور پر دیکھا ہے۔ انڈیا کا واقعہ ہے۔ اس وقت میں نوجوانی کی عمر میں تھا، اور اعظم گڑھ کے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک زمیندار (landlord) نے گاؤں کے ایک دلت کو اپنے گھر پر دلت نے زمیندار کا ایک کام نہیں کیا تھا، اس لیے وہ اس پر غصہ تھا۔ اس نے دلت کو اپنے سامنے بٹھایا، اور اس کو اس کی غلطی یاد دلائی، اور ڈنڈا ہاتھ میں لے کر کہا کہ آج میں تم کو ماروں گا۔ دلت اپنی پیٹھ کھول کر بیٹھ گیا، اور کہا: بابو، کے مارا (لیجیے، صاحب، ماریے)۔ یہ سن کر زمیندار کے ہاتھ سے ڈنڈا چھوٹ کر گر پڑا۔ اس نے دلت سے کہا کہ جاؤ، میں نے معاف کیا۔ یہ کہہ کر زمیندار اپنے گھر کے اندر چلا گیا۔ اس واقعہ کے بعد میں نے سوچا کہ زمیندار کے اندر یہ صفت خالق کی دی اس لیے خالق کے اندر یہ صفت یقیناً اور بھی زیادہ ہوگی۔ خالق یقیناً مجھے معاف کر دے گا، اگر میں اس کے سامنے اپنے آپ کو جھکا دوں۔ (21 جنوری 2018)

Printed page