Al-Risala · April 2018

ہر ایک کے لیے خیر

Al-Risala, April 2018, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المؤمن القوي، خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف، وفي كل خير (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2664)۔ ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک بہتر اور زیادہ محبوب ہے کمزور مومن سے، اور بھلائی ہر ایک کے لیے ہے۔ ایک شخص اگر پیدائشی طور پر طاقت ور ہو تو اس کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمام معاملات کو خود اپنی طاقت سے درست کر لے۔ لیکن جو انسان پیدائشی طور پر کمزور ہو، وہ بظاہر اس قابل نہیں ہوتا کہ اپنے معاملات کو خود اپنی طاقت سے درست کر سکے۔ لیکن خیر دونوں کے لیے ہے۔ کے لیے اپنی ذاتی طاقت کی بنیاد پر، اور دوسرے کے لیے اللہ کی مدد کی بنیاد پر۔ جو آدمی ضعیف ہو، وہ اگر منفی نفسیات میں مبتلا نہ ہو تو اس کے اندر اللہ کی یاد جاگ اٹھتی ہے۔ وہ اللہ سے مدد کا طالب بن جاتا ہے۔ اس بنا پر یہ ہوتا ہے کہ اللہ اس کی مدد پر آ جاتا ہے۔ انسان یہ کہتا ہے کہ خدایا، تو نے مجھ کو کمزور پیدا کیا، اب تجھ ہی کو یہ کرنا ہے کہ تو میری کمزوری کی تلافی اس قسم کی دعا اللہ کی رحمت کو انووک (invoke) کرنے والی ہوتی ہے۔ اللہ ایسے انسان کی طرف مزید اضافے کے ساتھ متوجہ ہو جاتا ہے۔

جو انسان اپنے آپ کو طاقت ور پائے، اس کے اندر اپنے آپ پر بھروسہ کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی اپنے آپ کو کمزور پائے۔ اس کے اندر اللہ سے طلب کی نفسیات جاگ اٹھتی ہے۔ وہ دعا کرنے لگتا ہے کہ خدایا، تو نے مجھے ضعیف پیدا کیا ہے۔ اب تو ہی میرے ضعف کی تلافی فرما۔ اس طرح کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے، اور بندۂ ضعیف اللہ کی مدد سے وہ کام کر لیتا ہے جو اکثر حالات میں بندہ قوی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ مگر اس کی ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ بندۂ ضعیف کے اندر تواضع (modesty) کی صفت پائی جاتی ہو۔

Printed page