Al-Risala · January 2018

رجز سے اعراض کرو

Al-Risala, January 2018, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام نے جب قدیم مکہ میں اپنا مشن شروع کیا تو قرآن میں آپ کو ایک نصیحت ان الفاظ میں کی گئی کہ اے پیغمبر لوگوں کو اللہ کی طرف بلاؤ، اور رجز کو چھوڑ دو (المدثر: 5)۔ رجز کا لفظی مطلب گندگی (dirt) ہے۔ یہ گندگی کون سی تھی، جسے آپ کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ اس کو یہاں لفظوں میں نہیں بتایا گیا ہے، اس لیے اس کا مطلب آپ کے عمل کو دیکھ کر متعین کرنا ہوگا۔ یعنی آپ نے اپنی عملی زندگی میں کس چیز کو چھوڑا۔ وہی وہ گندگی ہے جس سے آپ کو اعراض کرنے کا حکم دیا گیا۔ اب دیکھیے کہ آپ نے جب قدیم مکہ میں اپنا مشن شروع کیا تو آپ نے کس چیز سے اعراض

کرتے ہوئے اپنا مشن جاری کیا۔ وہ چیزیں وہ تھیں جو اس وقت آپ کی حالت کے اعتبار سے نتیجہ خیز مثلاً قدیم مکہ میں بہت سی برائیاں پھیلی ہوئی تھیں ۔ جیسے شراب، وغیرہ۔ اب اگر شروع میں لوگوں کو اس سے روکتے تو اس کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہ تھا۔ اسی طرح قدیم مکہ میں کعبہ میں بہت سے بت رکھے ہوئے تھے۔ اگر آپ ان بتوں کو کعبہ سے نکالنے کی مہم چلاتے تو یقینی تھا کہ آپ کی مہم کامیاب نہ اس لیے آپ نے نتیجہ خیز اقدام اور بے نتیجہ اقدام میں فرق کیا، اور وقتی اعتبار سے بے نتیجہ کام میں اپنے آپ کو الجھائے بغیر اس کام میں محنت کی، جس میں محنت سے مفید نتیجہ نکلنے والا تھا۔ آپ کی یہ پالیسی حدیث میں اس طرح آئی ہے: إنما نزل أول ما نزل منه سورة من المفصل، فيها ذكر الجنة والنار، حتى إذا ثاب الناس إلى الإسلام نزل الحلال والحرام، ولو نزل أول شيء : لا تشربوا الخمر، لقالوا : لا ندع الخمر أبدا، ولو نزل: لا تزنوا، لقالوا: لا ندع الزنا أبدا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4993)۔ یعنی پہلے جو چیز نازل ہوئی، وہ مفصل کی سورت تھی، جس میں جنت و دوزخ کا ذکر ہے۔ یہاں تک کہ جب لوگوں کا دل اسلام کی طرف رجوع ہو گیا، تب حلال وحرام کے احکام اترے، اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ شراب نہ پیو تو لوگ ضرور کہتے، ہم تو کبھی شراب پینا نہیں چھوڑیں گے۔ اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ ضرور کہتے کہ ہم تو زنا نہیں چھوڑیں گے۔

اس طریق عمل کو ایک لفظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ حکیمانہ ترتیب کے ساتھ کام کرنا۔ جو کام انجام کے اعتبار سے ممکن ہو، اس کو کرنا، اور جس کام میں بروقت نتیجہ نکلنے والا نہ ہو، اس کو مستقبل پر چھوڑ دینا— یہی پیغمبر کا طریقہ ہے، اور یہی دانش مندی کا طریقہ۔

Printed page