خلاق علیم
Al-Risala, April 2018, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ رب العالمین کی ایک صفت خلاق علیم ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے : أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلَى وَهُوَ الْخَلَّاقُ یعنی کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، وہ اس پر قادر نہیں کہ ان جیسوں کو پیدا کردے۔ ہاں وہ قادر ہے۔ اور وہی ہے بڑا پیدا کرنے والا، جاننے والا۔ اس آیت میں جس طرح خلاق (the Great Creator) آیا ہے، اسی طرح اس میں علیم سے مراد علّام (the Great Knower) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ رب العالمین خلاق اور علّام ہے۔ اللہ کی پیدا کی ہوئی کائنات اپنے آپ میں اس کا ثبوت ہے۔ اس حقیقت کی طرف قرآن کی ایک آیت میں اس طرح اشارہ کیا گیا ہے: أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (21:30)۔ یعنی کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں رتق کی حالت میں تھے، پھر ہم نے ان کو فتق کیا۔ اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے۔ رتق کا مطلب ہے منضم الاجزاء (joined together) ، اور فتق کا مطلب ہے پھاڑنا (to tear apart)۔ اس آیت کی ابتدا میں أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا (کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا) کے الفاظ آئے ہیں۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ رتق اور فتق کا یہ واقعہ انسان کے لیے مشاہدہ کے درجے میں ایک معلوم واقعہ ہے۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہ واقعہ سائنسی دریافتوں کے نتیجے میں علمی طور پر ایک معلوم واقعہ بن چکا ہے۔ جس کو عام زبان میں بگ بینگ (Big Bang) کہا جاتا ہے۔ سائنسی دریافت کے مطابق، بگ بینگ کا واقعہ تقریباً تیرہ بلین سال پہلے خلا (space) میں پیش آیا۔ اس واقعہ کی جو تفصیلات سائنس نے دریافت کی ہے، وہ قرآن کے بیان کی تصدیق کرتے ہیں۔
اس دریافت کے مطابق، بگ بینگ کا فلکیاتی واقعہ حیرت انگیز طور پر اس بات کا سائنسی ثبوت ہے کہ کائنات کا پیدا کرنے والا خلّاق بھی ہے اور علّام بھی۔ یعنی وہ عظیم خالق بھی ہے اور عظیم جاننے والا بھی۔ کائنات کا پیدا کرنے والا اگر خلاّق (بڑا پیدا کرنے والا) اور علّام (بڑا علم والا) نہ ہو تو کائنات کا وجود میں آنا ہی ناممکن ہو جاتا۔ خلاّق اور علّام کے الفاظ صرف پیدائش کی خبر نہیں ہے، بلکہ وہ پیدائش کے واقعہ کی دلیل بھی ہے۔
سائنس نے جس کائناتی واقعہ کو دریافت کیا ہے، وہ یہ ہے کہ تقریبا تیرہ بلین سال پہلے اچانک خلا میں ایک بہت بڑا ایٹم ظاہر ہوا اس سوپرایٹم (super atom) کے اندر وہ تمام پارٹکل موجود تھے، جن کے مجموعے سے موجودہ کائنات بنی ہے۔ پھر اچانک اس سوپرایٹم میں بہت بڑا اس عظیم دھماکے کے بعد سوپرایٹم کے تمام پارٹکل غیر معمولی تیزی کے ساتھ خلا میں ان کی رفتار (speed) بے حد تیز تھی۔ اگر پارٹکل کا یہ انتشار اسی تیزی کے ساتھ جاری رہتا تو موجودہ کائنات کا بننا ناممکن تھا۔ کیوں کہ اس کے تمام پارٹکل بے حد تیزی کے ساتھ خلا میں منتشر ہو جاتے۔ ان کا اجتماع نا ممکن ہو جاتا۔ اس لیے کائنات کا بننا بھی ناممکن ہو جاتا۔ سائنسی دریافت بتاتی ہے کہ سوپرایٹم کے پھٹنے کے بعد کچھ سیکنڈوں کے اندر پارٹکل کے انتشار کی رفتار اچانک کم ہوگئی۔ رفتار کا یہ کم ہو جانا بے حد اہم تھا۔ کیوں کہ اسی کی وجہ سے منتشر پارٹکل دوبارہ مجتمع ہونے لگے، اور ان کے اجتماع سے تمام ستارے اور کہکشائیں، اور شمسی نظام، وغیرہ، وجود میں آئے۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ جس ہستی نے سوپرایٹم میں یہ انفجار برپا کیا، وہ سب سے زیادہ طاقت ور ہونے کے ساتھ سب سے بڑا جاننے والا بھی تھا۔ اس واقعہ کا اس کے خالق کو پیشگی علم تھا۔ کے مطابق اس نے اس معاملے کی پلاننگ کی۔ سیکنڈ کے فریکشن میں ہونے والے اس واقعہ کا اس کو پیشگی علم نہ ہوتا تو ساری پلاننگ عبث ہو جاتی، اور کائنات کا وجود میں آنا ناممکن ہو جاتا۔ دریافت رب العالمین کے خلاّق و علّام ہونے کا ایک یقینی ثبوت ہے۔